بھارتی جاسوس کلبھوشن کیلئے ایک بار پھرقونصلر رسائی کا فیصلہ

 

پاک بھارت شخت کشیدگی کے باوجود بین الاقوامی ضابطوں کی پاسداری کرتے ہوئےپاکستان نے ایک مرتبہ پھر جاسوسی، دہشتگردی اور سبوتاژ کے الزامات کے تحت سزا پانے والے انڈیا کے مبینہ جاسوس کلبھوشن جادھو تک قونصلر رسائی کی پیشکش کر دی ہے،دفترِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے اتوار کو ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ ’انڈین جاسوس کمانڈر کلبھوشن جادھو کو جو کہ انڈین بحریہ کے حاضر سروس افسر اور را کے ملازم ہیں، قونصلر رسائی دو ستمبر 2019 کو دی جائے گی۔‘

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ انڈین جاسوس کلبھوشن یادیو کو عالمی عدالت کے فیصلے کے مطابق قونصلر رسائی دی جا رہی ہے، کلبھوشن سے بھارتی سفارت خانے کے حکام پیر کو ملیں گے،ترجمان نے کہا کہ کلبھوشن یادیو پاکستان میں دہشت گردی، جاسوسی اور تخریب کاری میں ملوث ہے، تاہم کلبھوشن کو ویانا کنونشن کے مطابق قونصلر رسائی دی جائے گی۔

پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے قونصلر رسائی دینے کے حالیہ اعلان پر انڈیا کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود نے بھی کہا ہے کہ پاکستان عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں پر عمل کرنے کا پابند ہے اور بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو کل قونصلر رسائی دی جائے گی،ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نےکہا کہپاکستان پر امن ملک ہے، جنگ آخری آپشن ہوتا ہے، پاکستان خطے کے امن کو برباد نہیں کرنا چاہتا، بھارت خطے کے امن کو برباد کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اقوام متحدہ بھارت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے،وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت کسی غلط فہمی میں نہ رہے، جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی تو دفاع کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس وقت مجھے مذاکرات کا ماحول دکھائی نہیں دے رہا، کرفیو کے ماحول میں کیا مذاکرات ہوں گے۔

یاد رہے کہ 17 جولائی کو عالمی عدالت انصاف نے اپنے فیصلے میں پاکستان کو حکم دیا تھا کہ وہ مبینہ جاسوس کی سزائے موت پر نظر ثانی کرے اور قونصلر رسائی دے،عدالت نے قرار دیا تھا کہ پاکستان نے کلبھوشن جادھو کو قونصلر تک رسائی نہ دے کر ویانا کنونشن کی شق 36 کی خلاف ورزی کی ہے، کلبھوشن جادھو انڈین بحریہ کا حاضر سروس آفسر ہے جسے سنہ 2016 میں صوبے بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔

پاکستان کی فوجی عدالت نے اپریل 2017 میں کلبھوشن جادھو کو جاسوسی، تخریب کاری اور دہشت گردی کے الزامات میں موت کی سزا سنائی تھی،اس فیصلے کے خلاف انڈیا نے مئی 2017 میں عالمی عدالت انصاف کا دورازہ کھٹکھٹایا تھا اور استدعا کی تھی کہ کلبھوشن کی سزا معطل کرکے ان کی رہائی کا حکم دیا جائے،عالمی عدالت نے انڈیا کی یہ اپیل مسترد کر دی تھی تاہم پاکستان کو حکم دیا تھا کہ وہ ملزم کو قونصلر تک رسائی دے اور ان کی سزایے موت پر نظرِ ثانی کرے۔

 

Share This Article

تازه ترین