غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ملک میں 14 اکتوبر پر جنرل الیکشن کرانے کا عندیہ دے دیا، انہوں نے کہا کہ اگر ممبران پارلیمنٹ میں بریگزٹ کی راہ میں رکاوٹ پیدا کی تو قبل از وقت انتخابات کراسکتے ہیں، بورس جانسن نے کہا کہ ممبران پارلیمنٹ بریگزٹ میں تعطل پیدا نہ کریں، نہیں چاہتا کہ برطانیہ میں نئے الیکشن ہوں۔
برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ ایسے حالات نہیں کہ یورپ سے انخلا ملتوی کیا جائے،واضح رہے سابق وزیراعظم تھریسامے نے بھی دو سال قبل کہا تھا کہ فوری انتخابات سے بریگزٹ میں آسانی پیدا ہوگی۔ جبکہ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے برطانوی پارلیمان سے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ یورپی یونین بریگزٹ ڈیل پر نظر ثانی کرے، اب وزیر اعظم بورس جانسن نے پیر کو ٹی وی پر ایک اعلان میں کہا کہ وہ 17 اکتوبر کو یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں علیحدگی کے موجودہ معاہدے میں تبدیلیاں منظور کروا سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر ارکان پارلیمان بغیر کسی معاہدے کے الگ ہونے کے امکان کو رد کر دیں گے تو اس سے ان کی یورپی یونین میں مذاکرات کے دوران پوزیشن کمزور ہو جائے گی۔
وزیر اعظم نے 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر بھی کہا کہ وہ کسی صورت میں بریگزٹ میں مزید ’کسی بے مقصد التوا‘ کا مطالبہ نہیں کریں گے،بورس جانسن کہہ چکے ہیں کہ وہ نئے انتخابات نہیں چاہتے لیکن وزیر اعظم ہاؤس کے ذرائع کے مطابق اگر منگل کو ارکان پارلیمان نے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے تو 14 اکتوبر کو نئے انتخابات کا فیصلہ کیا جائے گا۔وزیر اعظم پہلے ہی ملک کی پارلیمان کو معطل کرنے کا اعلان کر چکے ہیں جس پر اگلے ہفتے سے عمل درآمد ہو گا اور یہ معطلی 14 اکتوبر تک ہو گی۔
حکمران کنزرویٹیو پارٹی کے کچھ باغی ارکان اور لیبر پارٹی کے ارکان برطانیہ کی 31 اکتوبر کو بغیر کسی معاہدے کے یورپی یونین سے علیحدگی کو روکنے کے لیے ایک بِل منظور کروانا چاہتے ہیں،اس بِل کے تحت یورپی یونین سے علیحدگی یا بریگزٹ کا عمل مکمل ہونے کی تاریخ 31 اکتوبر سے بڑھ کر 31 جنوری 2020 ہو جائے گی،یہ بِل وزیر اعظم کو پابند کرے گا کہ وہ یورپی یونین سے تاریخ بڑھوانے کی درخواست کریں۔
اس سے بچنے کی دو صورتیں ہیں کہ ارکان پارلیمان 19 اکتوبر سے پہلے بغیر کسی معاہدے کے برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دے دیں یا پھر وہ کوئی نیا معاہدہ منظور کر لیں،برطانوی وزیر اعظم اپنا موقف واضح کر چکے ہیں کہ یورپی یونین سے کوئی معاہدہ ہو یا نہ ہو 31 اکتوبر کو برطانیہ یورپی یونین سے الگ ہو جائے گا۔
،تین سال قبل 2016 میں 43سال بعد تاریخی ریفرنڈم کےنتائج کے مطابق 52 فیصد برطانوی عوام نےیورپی یونین سےعلیحدہ ہونے کے حق میں جبکہ 48 فیصد نے یونین کا حصہ رہنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔اس وقت ڈیوڈ کیمرون برطانیہ کے وزیراعظم تھے اور وہ بریگزٹ کے حق میں نہیں تھے جس کے سبب انہوں نے عوامی رائے کے احترام میں اپنے منصب سے استعفیٰ دینے کا اعلان کردیا تھا،استعفیٰ دیتے وقت ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ ریفرنڈم کا انعقاد پارلیمانی نظام کا حصہ ہے، چھ سال تک برطانیہ کا وزیر اعظم بنے رہنے پر فخر ہے۔
اس سے قبل اپریل 2017 میں برطانیہ کی اس وقت کی وزیر اعظم ٹریزا مے نے بھی ملک میں قبل از وقت انتخابات کروانے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا،وزیر اعظم کے 2020 کی مقررہ مدت سے پہلے انتخابات کرانے کے فیصلے کی پارلیمنٹ سے توثیق ضروری تھی اس حوالے سےحزب مخالف کی جماعت کے لیڈر جیریمی کوربن کا کہنا تھا کہ لیبر پارٹی چاہتی ہے کہ یہ انتخابات ہوں تاکہ ایسی حکومت آ سکے جو ’اکثریت کو فوقیت دے۔‘
قبل از وقت انتخابات کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم ٹریزا مے نے کہا کہ برطانیہ کی یورپ یونین سےعلیحدگی کے ریفرینڈم کے بعد ملک کو استحکام، اطمینان اور مضبوط قیادت کی ضرورت ہے،فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ’ملک تو متحد ہو رہا ہے لیکن ویسٹ منسٹر نہیں،اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ ملک میں آنے والے کئی برسوں میں استحکام اور اطمینان کے لیے نئے انتخابات انتہائی ضروری ہیں۔
اس کے بعد 8 جون کو انتخابات منعقد ہوئے اور 10 جون کوبرطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے اعلان کیا کہ وہ حالیہ انتخابات میں سادہ اکثریت حاصل نہ کرنے کے باوجود نئی حکومت بنا رہی ہیں۔ ٹریزا مے کا کہنا تھا کہ برطانیہ کے یورپی یونین چھوڑنے کے حوالے سے اہم مذاکرات دس روز بعد مقرر کردہ وقت پر ہی شروع ہوں گے۔
اور صرف دو سال بعد یعنی مئی 2019 میں برطانیہ کی وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے بریگزٹ معاہدے کے معاملے پر اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے 7 جون کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے ’شدید پشیمانی‘ کی بات ہے کہ وہ بریگزٹ نہیں کروا سکیں، جس کے بعد بورس جانسن نے وزارت عطمیٰ کا منصب سنبھالا اور اب وہ بھی قبل از وقت انتخابات کا عندیہ دے رہے ہیں۔ سیاسی نقادوں کا کہنا ہے کہ لگتا ہے کہ تاریخ خود کو دُہرا رہی ہے لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ ٹرزامے غلطی پر تھیں یا بورس جانسن غلطی کررہے ہیں لیکن سورتحال کچھ بھی ہو برطانیہ بریگزٹ سے علیحدگی میں جس قدر سنجیدہ اور ہر رکاوٹ کو عبور کرنے کو تیار ہے اس سے لگتا یہی ہے کہ اس بار معاملات کسی پار لگ ہی جائیں گے۔۔۔!!