فارسی کی یہ مثال اُس وقت دی جاتی ہے جب کسی غلطی یا گناہ پر کسی سے کوئی باز پُرس کی جائے تو وہ اسے تسلیم کرنے کے بجائے یہاں وہاں کی توجیحات پیش کرنا شروع کردے اور نتیجے میں اُس کا ابتدا میں کیا گیا معمولی گناہ توجیہات سے بڑھتے بڑھتے گناہوں کے پوٹلے میں تبدیل ہوجاتا ہے، پاکستان کے تقریباً تمام سرکاری اداروں میں عمومی طور پر اور سندھ سرکار میں خصوصی طور پر یہ خاصیت پائی جاتی ہے کہ جن امور اور فرائض کیلئے انھیں تعینات کیا گیا ہے وہ کام تو کرنے نہیں اور جب اس کی کوئی نشاندہی کرے تو ٹامک ٹوئیاں مارتے ہوئے اپنی کمزور صفائیاں پیش کرنا شروع کردی جاتی ہیں۔

ساحل سمندر پر گندگی

ایسا ہی کچھ کراچی کے ساحل سی ویو کے ساتھ ہوا جہاں گندگی، غلاظت، انتظامی بے قائدگیوں کا رونا پرانا نہیں لیکن جب منگل کو سابق آل راونڈر وسیم اکرم کی اہلیہ شنیرا اکرم نے تنگ آکر ساحل کی حالت زار اور موذی امراض پھیلانے والے اسپتال کے فضلے کی جانب نشاندہی کی تو انتظامیہ کو ہوش آیا اور جناب ڈپٹی کمشنر ساؤتھ نے مجبوراً کلفٹن کے ساحل کا دورہ کیا، اور پھر بڑے آرام سے فرمایا کہ مسئلہ کچھ نہیں تھا ساحل کی صفائی کرا دی ہے، فضلہ کسی لیب یا اسپتال کا لگتا ہے۔

ڈپٹی کمشنرموصوف  نے ساحل پر بڑے پیمانے پر منشیات کے استعمال کے تاثر کو غلط قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ طبی فضلہ سمندر میں بہہ کر ساحل پر آیا ہے،ڈپٹی کمشنر ساؤتھ نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ انکوائری کر کے مزید حقایق سامنے لائے جائیں،قبل ازیں، ساحل پر استعمال شدہ سرنجز ملنے کے واقعے پر مذکورہ حلقے سے منتخب ہونے والے پی ٹی آئی کے ایم این اے آفتاب صدیقی نے کہا ہے کہ کراچی میں میڈیکل ویسٹ ٹھکانے لگانے کا نظام ہی موجود نہیں ہے، ساحل پر نشے کی لت میں مبتلا افراد نے سرنجز پھینکی ہیں۔

سندھ حکومت کا احسان

ڈپٹی کمشنر ساحب جو 18 اور سینیارٹی کی بنیاد پر 19گریڈ کے افسر ہوتے ہیں ان سے ایسا جواب کچھ بعید از قیاس نہیں تھا کیونکہ ان کے جو سپریم سیاسی لیڈران ہیں اُن کے بھی جذبات و احساسات کچھ زیادہ مناسب نظر نہیں آتے یہی وجہ ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر ماحولیات اور قانون مرتضیٰ وہاب نے بھی ساحل سمندر کی آلودگی، گندگی اور اسپتال کے فضلے کی شکایات پر کہا کہ انھوں نے ٹویٹر کے ذریعے سی ویو پر سرنجز کی موجودگی کا پیغام دیکھا، پیغام بڑا منفی تھا لیکن پھر بھی  وزیر اعلیٰ سندھ نے نوٹس لیا اوران کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر نے ساحل کا دورہ کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ ساحل پر صرف 10 سے 12 سرنجز ملیں جنھیں اٹھا لیا گیا ہے، دو سے ڈھائی گھنٹے میں ساحل کو کلیئر کر دیا جائے گا، عوام کا شکر گزار ہوں کہ اس مسئلے کی نشان دہی کی، اس سلسلے میں اسپتالوں اور متعلقہ اداروں کو خطوط لکھ دیے جائیں گے،ان کا کہنا تھا کہ اسپتالوں سے پوچھا جائے گا وہ طبی فضلہ کہاں پھینکتے ہیں، وفاقی حکومت کو بھی چاہیے کے اس مسئلے پر اپنا کردار ادا کرے،مشیر ماحولیات نے یہ بھی کہا کہ پورٹس پر سیوریج پلانٹ لگانے کے احکامات واٹر کمیشن نے دیے، افسوس ناک بات ہے کہ نالوں کے پانی کے ساتھ کچرا بھی سمندر میں جاتا ہے، کچرے کے معاملے پر سیاست سے اجتناب کیا جائے، ہر ادارے کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

مشیر ماحولیات کے بیان سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ عُذرِگناہ بدتر از گناہ کی مثال ان پر کس قدر صادرآتی ہے، اُن کو یہ بات گراں گزری کہ کسی نے غلطی اور خامی کی نشاندہی کیوں کی اور اسے منفی قرار دیتے ہوئے ایک 18 گریڈ کے افسر کو بھیج کر اپنا فرض پورا کرلیا گیا، ساتھ میں اسپتالوں کو خط لکھنے کی زحمت بھی کرنے کا اعلان کیا اب اس خط و کتابت میں کتنے سال لگیں گے اس بات کو تو چھوڑ ہی دیں۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ اسی قسم کی توجیحات کراچی جو کچراچی بنا ہوا ہے اس کی حالت زار کے بارے میں بھی مسلسل کہی جارہی ہیں کوئی بھی ذمہ داری لینے کو تیارنہیں اور بات فقط کسی ایک علاقے ، شہر کی نہیں بلکہ پورے صوبے کا حال کم و بیش ایسا ہی ہے سمجھ نہیں آتا یہ درجنوں وزراء، سینکڑوں محکمے اور لاکھوں ملازمین کیا صرف تنکواہیں لینے کیلئے بٹھائے ہوئے ہیں انھیں از خود کہیں کوئی خرابی کوئی کامی کیوں نظر نہیں آتی اور اس کے برعکس ابھی کوئی ان کے سیاسی لیڈران کے خلاف کچھ کہہ دے تو دیکھیں پوری کابینہ اٹھ کر اس کے خلاف کیسے صف آراء ہوتی ہے۔

ساحل کی صفائی تو ہوئی یا نہیں لیکن یہ واضح ہوچکا ہے کہ شہر اور صوبے کا کچھ ہونے والا نہیں عوام کو اسی گندگی اور اسی حالات میں رہنے کی عادت ڈالنی ہوگی ویسے قصور کچھ عوام کا بھی کم نہیں جو ہر حالت میں خود کو ایڈجسٹ کرہی لیتے ہیں تو بھیا کریں ایڈجسٹ پھر واویلا کیسا۔۔۔؟؟

سیاستدانوں اور سرکاری اداروں کا تو اپنا حال ہے اپنی عوام کیلئے آخر میں ایک پُرانی کہانی بیان کرتے چلیں۔۔۔

کسی مُلک کا بادشاہ نہیات رحم دل تھا سلطنت میں سب ہنسی خوشی رہتے تھے ایک دن بادشاہ کو نجانے کیا سُوجھی کہ اپنے وزیر کو بُلا کر کہا بادشاہت میں مزہ نہیں آرہا ہمارے پاس کوئی فریادی ہی نہیں آتا سب مطمئن ہیں ایسا کچھ کرو کہ کم از کم لوگ تو ہمارے پاس اپنی فریادیں لے کر آئیں ہم ان کی فریاد پوری کریں گے، اس طرح ہماری رحم دلی اور فیاضی دُور تک پھیلے گی، وزیرنےمشورہ دیا کہ آبادی کے درمیان ایک دریا ہے جس پر ایک پُل بنا ہوا ہے روزانہ لوگ پُل کی دوسری جانب سے اس جانب آکر کام دھندہ کرتے اور شام کو واپس جاتے ہیں آپ ایسا کریں کہ پُل سے آنے والوں پر ایک دینار ٹیکس لگادیں لوگ اس ظلم پر چیخ اٹھیں گے اور آپ کے پاس آجائیں گے، بادشاہ کو یہ تجویز اچھی لگی اور اگلے دن سے ہی ٹیکس کے نفاذ کا اعلان کردیا گیا، لیکن ہوا کیا ۔۔۔؟؟ لوگوں نے چُپ چاپ ٹیکس دینا شروع کردیا، چند دن بعد بادشاہ نے پھر وزیر کو بلایا کہ کام تو بنا نہیں اب کیا کریں وزیر نے ٹیکس ڈبل کرنے کی تجویز دی لیکن اس پر بھی لوگوں کی فریاد بلند نہیں ہوئی جس کے بعد وزیرکی تجویز پرڈبل ٹیکس کےساتھ ہر آنے جانے والے کو ایک ایک تازیانہ مارنے کا حکم بھی جاری کردیا گیا، پھر ایسا ہوا کہ ایک دن بادشاہ کے دربار پر کچھ لوگ اپنی فریاد لے کر حاضر ہوئے، بادشاہ کو اطلاع ملی تو دل ہی دل میں خوش ہوا کہ چلو میری خواہش پوری ہوئی، دربار سجا اور فریادیوں کو بلایا گیا، پوچھا ہاں بولو کیا مسئلہ ہے۔۔۔؟؟

فریادیوں نے کہا بادشاہ سلامت آپ بہت رحم دل اور رعایا سے محبت کرنے والے ہیں ہم روزانہ دریا پار کرکے آتے ہیں اور شام کو واپس جاتے ہیں تو تازیانہ مارا جاتا ہے، ہماری درخواست ہے کہ لائن بہت لمبی ہوتی ہے اور تازیانہ مارنے والا ایک ہے آپ ان کی تعداد بڑھادیں تاکہ جلدی سے تازیانہ کھائیں اور اپنے گھروں کو پہنچ سکیں۔۔۔۔!!

امید ہے کہانی سب کی سمجھ میں آگئی ہوگی۔۔۔۔؟؟

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے