امام حسینؑ نے قیام کیوں فرمایا۔۔؟؟

قیامِ امام حسینؑ۔۔۔۔۔ دوسری قسط

اسلام اور سیرتِ پیغمبرؐ سے اسلامی معاشرے اور حکومت کا انحراف

امام حسینؑ نے محسوس کیا تھا کہ یزید اور کچھ اُس سے قبل کی حکومتوں کے دوران لوگوں کے درمیان ایسے اعمال رواج پاگئے ہیں جو پیغمبر اکرم ؐ اور حضرت علی ؑ کی سیرت کے برخلاف ہیں۔

پیغمبر اسلام ؐاپنی حکومت میں ایک خاص سیرت اور طریقے پر کاربند تھےاقتصاد کے بارے میں آنحضرتؐ کی ایک خاص روش تھی دوسرے معاملات میں بھی آپ کا خاص طریقہ کار تھاحضرت علیؑ کی بھی وہی سیرت رہی لیکن افسوس کہ پیغمبرؐکی رحلت کے بعد اگرچہ کچھ مدت تک ایک حد تک آپؐ کی سیرت پر عمل جاری رہا لیکن بعد میں بعض انحرافات نےسراُبھارا۔

جب حکومت کی باگ ڈورعلی ابن ابی طالبؑ نےسنبھالی، تو آپؑ نےمعاملاتِ حکومت کو پیغمبراسلام صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم کی نہج پر واپس لانے کی کوشش کی اسی وجہ سے آپؑ کومشکلات کا سامنا کرنا پڑاکیونکہ لوگ دوسرے طریقوں کے عادی ہوچکے تھےلہٰذا امیر المومنینؑ کو اس سلسلے میں خاطرخواہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی، شاید آپؑ کوشہید بھی اسی بنا پرکیاگیا۔

اسلامی معاشرے کا بھی یہی حال تھا، وہاں بھی لوگوں کی عبادات میں، اُن کے اخلاق میں اور اُن کے سماجی امور میں ایسی چیزیں وجود میں آگئی تھیں جو اسلام سے موافق نہ تھیں، اس لحاظ سے اسلام کے لیے ایک خطرہ جنم لے رہا تھا۔

ایک اور بات یہ تھی کہ وہ حکمراں جو خلیفہ رسولؐ کے عنوان سے، پیغمبرؐ کے جانشین کے طور پر حکومت کر رہے تھے، اُن کا طرزِ عمل پیغمبرؐ کے طرزِ عمل سے مختلف تھا، اسلام کی تعلیمات کے منافی تھا۔

اگر یہی صورتحال جاری رہتی، تواسلام کی ایک غلط تصویر لوگوں کے سامنے آتی، اور وہ اسی کو اسلام سمجھ بیٹھتےعلاوہ ازایں خود لوگوں کے درمیان بھی ایسی باتیں رائج ہوگئی تھیں جو اسلام اور سیرتِ پیغمبر ؐکے موافق نہ تھیں۔

امام ؑ کی اصلاحی تحریک کا عنوان: سیرتِ پیغمبر ؐاور سیرتِ علی ؑ کا احیا

ان وجوہات کی بنا پر امام حسینؑ سمجھتے تھے کہ اصلاح کاعمل ناگزیرہے، اور یہ اصلاح پیغمبر ؐاور علی ابن ابی طالبؑ کی سیرت کا احیا تھی یہ دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ امام حسینؑ کا ہدف اور مقصد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ذریعے پیغمبر اسلامؐ اور امیر المومنین علی ؑ کی سیرت کا احیا تھایعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر احیا کا وسیلہ ہے، خود ہدف اور مقصد نہیں ہدف درحقیقت پیغمبر اسلامؐ اور حضرت امیرؑ کی سیرت کو زندہ کرناتھا۔

اموی حکومت کی دونمایاں خصوصیات:حدودِ الٰہی کا تعطل اور علانیہ فسق وفجور

امام حسینؑ نے جب مکہ سے کوفہ کےارادے سے اپنے سفر کا آغازکیا، تو اثنائے راہ میں آپؑ کی ملاقات فرزدق سے ہوئی امامؑ نے اس سے عراق کے حالات دریافت کیےاس نے جواب دیا:

لوگوں کے دل آپؑ کے ساتھ ہیں لیکن اُن کی تلواریں آپؑ کے خلاف ہیں۔

امامؑ نے اُس سے اپنے سفر کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:

اِنَّ هٰؤُلاٰءِ قَوْمٌ لَزِمُوا طٰاعَةَ الشَّیْطٰانِ وَتَرَکُواطٰاعَةَ الرَّحْمانِ وَ أَظْهَروُا الْفَسٰادَ فِی الْأَرْضِ وَاَبْطَلُوا الْحُدُودَ وَشَرِبُوا الْخُمُورَ وَ اسْتَأْثَروُا فی أَمْوٰالِ الْفْقَرٰاءِ وَالْمَسٰاکینَ وَأَنا أَوْلیٰ مَنْ قٰامَ بِنُصْرَةِ دینِ اللّٰهِ وَاعْزٰازِ شَرْعِهِ وَالْجِهٰادِ فی سَبیلِهِ لِتَکُونَ کَلِمَةُ اللّٰهِ هِیَ الْعُلَیٰا (۱)

یعنی

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے شیطان کی اطاعت کی ہے، رحمن کی اطاعت کو ترک کردیاہے۔

البتہ یہاں ممکن ہے ” ھٰؤُلاٰءِ“ حکام کی جانب اشارہ ہو (اور زیادہ یہی معنی ظاہر ہوتے ہیں) اور ممکن ہے پورے معاشرے کے لیے ہو۔

ان لوگوں نے فساد کو ظاہر کیا ہے

بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کوئی کسی فساد کا مرتکب ہوتا ہے، لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی فساد کا اظہار کرتا ہے، علیٰ الاعلان فسق وفجور کا مرتکب ہوتا ہےاِن لوگوں کے بارے میں امام ؑ فرماتے ہیں کہ انہوں نے زمین پر فساد کو ظاہر کیا ہے، یہ لوگ درحقیقت فساد کو رواج دینے والے ہیں یہ ایک اہم اور خطرناک مسئلہ ہے۔

انہوں نے حدودِ الٰہی کو معطل کردیا ہے۔

یعنی شرعی حدود پر عمل نہیں کرتےان کا اندازِ حکومت کچھ اور ہےپیغمبرؐ نےحکومت کی تھی لیکن اُن کی حکومت دینی اور اسلامی قوانین کی حدود میں تھی لیکن ان لوگوں نے اس اندازِ حکومت کو ترک کردیا ہے، حدودِ الٰہی کو قدموں تلے روند ڈالا ہے۔

یہ لوگ شراب پیتے ہیں۔

حالانکہ شراب نوشی اسلام میں حرام ہے۔

فقرا اور مساکین کے مال کو اپنی مرضی سے خرچ کرتے ہیں۔

فقرا کے حقوق ادا نہیں کیے جاتے، بیت المال کومن مانے طریقے اور اپنی حکومت کے استحکام کے لیے استعمال کرتے ہیں، فقراء اورمحتاجوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال نہیں کرتےجبکہ پیغمبر اسلامؐ کے دور میں اس کا استعمال عوام الناس اور فقرا کی ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کے لیے کیاجاتا تھا دلائل یہ ثابت کرتے ہیں اور خود پیغمبر اکرمؐ نے بھی اسی طرح عمل کیا اور امیر المومنینؑ بھی اسی طرح عمل کرنا چاہتے تھےمگر افسوس کہ آپ ؑ کو بکثرت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

جب عنانِ حکومت اُن لوگوں کے ہاتھ میں آئی، تواُن کاطرزِ عمل یہ کہہ رہا تھا کہ یہ اموال ہمارے اختیار میں ہیں، ہم مسلمانوں کے حاکم ہیں، اس مال کواپنی حکومت کی حفاظت کے لیے خرچ کریں گے، اب فقرا کا جو حال ہوہوا کرے!!!

امام ؑ کی تحریک اسلام کی حفاظت کے لیے دفاعی جہاد

مذکورہ کلمات سے پتا چلتا ہے کہ امام حسینؑ کے مدینہ سے نکلنے اور اس طویل سفر کے آغاز کا سبب ان خرابیوں کا مشاہدہ اور اُن کی اصلاح کا عزم تھا۔ آپؑ فرماتے تھے کہ میں دین خدا کی نصرت، اس کی شریعت کی بالادستی اور اس کی راہ میں جہاد کے سلسلے میں سب سے زیادہ ذمے دار ہوں۔

امام حسینؑ کے قیام کا محرک (motive) اُس وقت کے مسلمانوں کی ابترحالت اور خاص کر اُس زمانے کی حکومتوں کا طرزِ عمل تھا کہ جس کی وجہ سے حدودِ الٰہی معطل تھے، فقرا بُرے حال میں تھے اور بیت المال کے اموال ناجائز مدوں میں خرچ ہو رہے تھےحضرت ؑ اس صورتحال کے خاتمے کے لیے قیام چاہتے تھے اور ا س قیام کے لیے خود کو دوسروں سے زیادہ ذمے دار سمجھتے تھےکیونکہ آپ ؑ نواسہ رسولؐ اور امامِ مسلمین تھے اور ان حالات کو خاموش تماشائی کی حیثیت سے نہیں دیکھ سکتے تھے۔

پس معلوم ہوا کہ امامؑ کا یہ اقدام ایک قسم کا جہاد تھا، اسلام کے تحفظ کے لیے دفاعی جہاد تھاایرانی عوام کی اسلامی تحریک بھی اسی طرح تھی، اور رہبر انقلاب امام خمینیؒ کا بھی یہی کہنا تھا کہ یہ تحریک ایک دفاعی جہاد ہے۔

امام حسینؑ نے بصرہ کے معززین کے نام ایک مکتوب میں تحریر فرمایا:

وَقَدْبَعَثْتُ رَسُولی اِلَیْکُمْ بِهٰذَاالْکِتٰابِ، وَأَنَاأَدْعُوکُمْ اِلیٰ کِتٰابِ اللّٰهِ وُسُنَّةِ نَبیِّهِ فَاِنَّ السُّنَّةَ قَدْاُمیتَتْ وَاِنَّ الْبِدْعَةَ قَدْاُحیِیَتْ (۱)

میں نے اِس خط کے ہمراہ اپنا سفیر تمہاری جانب روانہ کیا ہے، اور تمہیں کتابِ خدا اور سنتِ رسول کی طرف دعوت دیتا ہوںدرحقیقت سنت مردہ ہوچکی ہے(یعنی لوگ اِس پر عمل پیرا نہیں۔ ) اور بدعت زندہ ہوگئی ہے۔“یعنی وہ چیزیں جو دین کا جزنہیں دین کے اندرداخل کردی گئی ہیں۔ اگر تم میری بات سنو اورمیرے فرمان کی اطاعت کرو، تومیں راہِ راست کی جانب تمہاری رہنمائی کروں گایہ راہِ راست وہی سیرتِ پیغمبرؐ اورسیرتِ علیؑ ہے یعنی وہی خالص اور حقیقی اسلام ہے۔

 

Share This Article

تازه ترین