بدھ کو جاری کئے گئے ایک بیان میں امریکا کے محکمہ خزانہ نے کہا ہےکہ ایران کی خلائی ایجنسی ،ایران سپیس ریسرچ سنٹر اورآسٹروناٹیکس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مئی 2018ءمیں ایران سے جولائی 2015ءمیں طے شدہ جوہری سمجھوتے سے دستبردارہوگئے تھے اورنومبر میں ایران کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں عائد کردی تھیں امریکا نے تب سے ایران کے اداروں اور سرکاری شخصیات کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ اس سے قبل ایران کی دو فضائی کمپنیوں ماہان ایئر اورمعراج ایئر سے وابستہ اداروں کےعلاوہ دو ایرانیوں اورایک ترک کمپنی پر بھی پابندی عائد کرچکا ہے،امریکی وزیر خزانہ اسٹیون میوچن نےایک بیان میں کہا ہے کہ محکمہ خزانہ نے جن سہولت کار اداروں اور افراد پر پابندیاں عائد کی ہیں اور انہیں بلیک لسٹ قرار دیا گیا ہے وہ ایران کی فضائی کمپنیوں ماہان ایئر، کیسپین ایئر،معراج ایئر اورپویا ایئر کو فاضل پرزہ جات اور خدمات مہیا کررہے تھے،امریکی وزیر خارجہ نے گزشتہ برس کہا تھا کہ امریکا ایران پر سخت ترین پابندیاں عائد کرے گا جس سے ایران کی معیشت بری طرح متاثر ہوگی،
دوسری جانب ایرانی صدر حسن روحانی نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ اس وقت تک دو طرفہ مذاکرات نہیں کرے گا جب تک وہ پابندیاں اٹھائی نہیں جاتیں، جو امریکا نے دوبارہ عائد کی ہیں۔ صدر حسن روحانی نے مزید کہا کہ ابھی تک امریکا کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا،حسن روحانی کے بقول پابندیوں کے خاتمے کے بعد ایران ان تمام عالمی طاقتوں کے ساتھ بات چیت کی میز پر واپس آ سکتا ہے، جو 2015ء کے جوہری معاہدے پر دستخط کنندہ ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگرچہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈال رہے ہیں اور انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقات کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔ ساتھ ہی وہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے کے لیے غیر مشروط دو طرفہ مذاکرات پر بھی رضامندی ظاہر کر چکے ہیں، لیکن ایران کا اصولی موقف ہے کہ مزاکرات میں تمام فریق شامل ہونا چاہیئں تاکہ جو فیصلہ ہو وہ مشترکہ ہو کسی ایک کی اجارہ نہ ہو۔