پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفورنے ایک بار پھر کشمیر کے معاملے پر کشمیر کا ساتھ دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا ایسا کوئی اقدام قبول نہیں جو کشمیریوں کے حق خودارادیت کے منافی ہو،کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہےلیکن بھارت نے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں تیز کر دی ہیں،کشمیریوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے اور بھارت کے اپوزیشن رہنما کو مقبوضہ کشمیر بھی جانے سے روک دیا گیا، بھارت چاہتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی ایسی بدلی جائے کہ مسلمانوں کا وہاں رہنا مشکل ہو جائے۔ بھارتی وزیر دفاع جو کہیں ان کا مسئلہ لیکن ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کی ہماری کوئی پالیسی نہیں ہے، ہمارے ہتھیار سلامتی کیلئے ہیں انھیں کب اور کہاں استعمال کرنا ہے اس کا فیصلہ سیاسی قیادت کا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے مشرق میں ایک بڑی آبادی والا ملک بھارت ہے، بھارت میں ہٹلر کے پیروکار مودی کی حکومت ہے جہاں مسلم اور سکھوں سمیت تمام اقلیتیں انتہاپسندی کی سوچ کا شکار ہیں۔وزیراعظم نے اپنی پہلی تقریر میں بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کی لیکن پاکستان کی مخلصانہ مذاکرات کی پیشکش کے جواب میں بھارت نے جہاز بھیجے، بھارت کے بھیجے گئے جہاز کا کیا حال ہوا وہ سب آپ کے سامنے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت کوشش کررہاہے افغانستان میں امن کا قیام نہ ہو کیوںکہ اگر ایسا ہوا تو مغربی سرحد پر مامور ہماری 2 لاکھ افواج بھی مشرقی سرحد پر آجائیں گی پھر بھارت کیلئے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل مزید مشکل ہوجائے گی، بھارت کوبتادیناچاہتےہیں کہ جنگیں صرف اسلحےسےنہیں لڑی جاتی، بھارت کو 27 فروری کا جواب نہیں بھولنا چاہیئے، ہمارے پائلٹس کسی بھی بھارتی جارحیت کا جواب دینے کے لئے تیار ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دو نیوکلیئر طاقتوں کے درمیان جنگ کی گنجائش نہیں ہوتی لیکن مقبوضہ کشمیرمیں جو بھارت نے کیا ہے وہ ایک نئی جنگ کا بیج بو رہا ہے، جنگیں صرف ہتھیاروں اورمعیشت سے نہیں لڑی جاتیں، بلکہ اس کیلئے اصل کردار جذبہ اور پیشہ ورناہ قابلیت و استعبداد کی اہمیت بھی ہوتی ہے۔ ترجمان پاک فوج نے ایک بار پھر اس عزم کو دہرایا کہ کشمیر ہماری شہہ رگ ہے، بہادر کشمیریوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں، کشمیر کے معاملے پر کسی ڈیل یا سودے بازی کا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر پر صدر ٹرمپ اور وزیراعظم میں جو بھی بات ہوئی سامنے آئی، ہمیں اپنی لیڈر شپ پر اعتماد کرنا چاہیے، ہم 72 سال میں پیچھے نہیں ہٹے تو اب کیسے ہٹ سکتے ہیں۔ کچھ لوگ یو ٹیوب پر بیٹھ کر اس طرح پروپیگنڈہ کررہے تھے جیسے وہ ملاقات کے دوران ٹرمپ کے برابر والی کرسی پر بیٹھے ہوں، یہ کیسے ممکن ہے کہ کشمیر پر کسی قسم کا سمجھوتہ کوئی سودا کسی سے بھی کیا جائے ہم کشمیر کے ساتھ تھے ہیں اور رہیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں ترجمان پاک فوج نے کہا کہ جوہری صلاحیت کی باتیں جلسے جلوسوں میں کرنے کی نہیں ہوتیں، بھارت کو سمجھنا چاہیے کہ ہم اسے ہی اصل خطرہ سمجھتے ہیں،انہوں نے کہا کہ مشرقی سرحد پر کچھ بھی ہوتا ہے ہماری ساری توجہ صرف ادھر ہی ہو گی، عوام چاہتی ہے کہ انہیں پتا چلے کیسے جواب دیا جائے گا، اعتماد رکھیں ہمارا کام یہی ہے ہر صورتحال کے حوالے سے اسٹریٹجی بنی ہوئی ہے کب کیا اور کیسے کرنا ہے ہم جانتے ہیں موجودہ حالات میں قوم کو ایک ہونے کی ضرورت ہے اور ایک ہے۔
آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ تمام باتیں من گھڑت ہیں کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے 125 جرنیلوں کی پروموش رکی ہے،یہ سب یوٹیوب کی آوازیں ہیں، ایسا کچھ نہیں ہے، ایک کے بدلے ایک ہی پروموشن ہوتی ہے،ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہم ایک پیشہ ور فورس ہیں، حکم کی تعمیل اور سسٹم کے تحت کام کرتے ہیں، آرمی چیف جس طرف دیکھتے ہیں فوج اس طرف دیکھتی ہے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہمارا ایک پڑوسی افغانستان ہے جہاں 40 برس سے جنگ ہو رہی ہے، افغانستان والوں نے 40 برس میں جنگ، قربانیوں، اور شہادتوں کے سوا کچھ نہیں دیکھا، ہم نے افغانستان میں امن کے لیے اپنا بھروپور کردار ادا کیا اور ابھی جو امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں اس میں بھی پاکستان کا کردار ہے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ چین کی معیشت کا بھی خطے میں اہم کردار ہے جب کہ ایران کی بارڈر فورس کے ساتھ ہمارے تعلقات میں بہتری آئی ہے، ایران کےساتھ بھی ہمارےاچھےتعلقات ہیں، مشرق وسطیٰ کےحالات کی وجہ سےایران بھی مسائل کاشکارہے، مجموعی طور پر ایران کا خطے میں امن کیلئے اہم کردار ہے۔
اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،ہمارے پاسپورٹ پر لکھا ہے کہ سوائے اسرائیل کے تمام ممالک کیلئے کارآمد ہے پھرتعلقات پر بات کیسے ہوسکتی ہے اس حوالے سے چلنے والی تمام خبریں من گھڑت ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس موقع پر کہا کہ6 ستمبر یوم دفاع کے موقع پر ہم اپنے شہداء کے گھروں کو جائیں گے قوم بھی دیکھے آپ کی گلی محلے میں کسی شہید کا گھر ہے تو ان کے گھر جائیں اہل خانہ کی دلجوئی کریں اور وطن پر قربان ہونے والوں کی قربانی کو تازہ کریں، انھوں نے کہا کہ پاکستان میں انسداد پولیو مہم میں پاک فوج سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہی ہے، اپنے بچوں کے مستقبل کیلئے پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں تاکہ اس موذی مرض سے پاکستان کو پاک کیا جاسکے۔