برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کی برطانوی دارالعوام میں قبل از وقت عام انتخابات کے لیے پیش کی گئی قرارداد کو اراکین پارلیمنٹ نے مسترد کر دیا ہے۔
اس سے قبل وزیر اعظم بورس جانسن نے اراکین پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ 15 اکتوبر کو قبل از وقت عام انتخابات کروانے کے منصوبے کی حمایت کریں۔
اس قرارداد کی کامیابی کے لیے انھیں دوتہائی ارکان پارلیمنٹ کی حمایت کی ضرورت تھی۔ لیکن اس قرارداد کے حق میں انھیں 298 ووٹ ملے جبکہ 56 ووٹ اس قرارداد کے خلاف ڈالے گیے۔ اس قرارداد کو کامیاب ہونے کے لیے انھیں 136 ووٹوں کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔
جبکہ اس قرارداد کی منظوری کے لیے کل 434 ووٹوں کی ضرورت تھی۔
لیبر پارٹی کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی جماعت نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیا۔
واضح رہے کہ لیبر پارٹی، ایس این پی اور لبرل ڈیموکریٹس کا پہلے ہی کہنا تھا کہ وہ اس قرارداد کی حمایت میں ووٹ نہیں ڈالیں گے۔
اس سے پہلے ارکان پارلیمان نے بورس جانسن کی جانب سے یورپی یونین کے ساتھ 31 اکتوبر سے پہلے بغیر کسی معاہدے کے بریگزٹ کے خلاف بل کی منظوری دی تھی۔
بورس جانسن نے اسے ایک ‘ہتھیار ڈالنے والا بل’ قرار دیا ہے جو ایک نئے معاہدے پر مذاکرات کے لیے انھیں کمزور کر دے گا۔
لیکن یہ بل حزب اختلاف کی جماعتوں اور ٹوری باغی ارکان کی حمایت کے ساتھ دارلعوام میں ایک ہی دن میں تمام مراحل سےگزر کر منظور ہو گیا ہے۔ اب یہ بل منظوری کے لیے دارالامرا میں بھیجا جائے گا۔

پارلیمان کے اراکین اب اس قرارداد پر بحث کر رہے ہیں کہ جمعرات کو اس بل کو کس طرح آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ لیکن بریگزٹ کے حامی اراکین نے اس پیشرفت کی رفتار سست کرنے کے لیے 100 سے زائد ترامیم کی ہیں۔
برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے منگل کو متنبہ کیا تھا کہ اگر بل اس مرحلے میں آتا ہے تو وہ فکسڈ ٹرم پارلیمنٹس ایکٹ کے تحت انتخابات کے لیے قرارداد کے ساتھ دارلعوام میں واپس آجائیں گے۔
بورس جانسن نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا اس بل کے تحت بغیر معاہدے کے ‘سنجیدہ مذاکرات’ کو روکنے کی منظوری دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس سے وہ یورپی یونین کے سامنے ‘ہتھیار ڈالنے’ پر مجبور ہوں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘میں نے ایسا کرنے سے انکار کیا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ ملک کے لیے آگے بڑھنے کا ایک ہی راستہ باقی ہے۔’
‘میرے خیال میں اور اس حکومت کے نزدیک اب منگل 15 اکتوبر کو انتخابات ہونا ضروری ہیں۔’
لیکن لیبر پارٹی کے رہنما جیرمی کوربن کا کہنا ہے کہ وزیراعظم بورس جانسن کی انتخابات کی پیش کش ‘ایک چالاک ملکہ کی جانب سے سنو وائٹ کو سیب کی پیش کش کے مترادف ہے …یعنی بنا کسی معاہدے کے زہر کی پیش کش۔’