اقوام متحدہ کے ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق بین الحکومتی پینل نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں بہت سے پریشان کن انکشافات کیے ہیں۔ ان میں عالمی سمندروں کی سطح میں ایک میٹر تک اضافہ اور بار بار آنے والے سپر طوفان بھی شامل ہیں۔

اطلاعات کےمطابق اقوام متحدہ کے ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق بین الحکومتی پینل (IPCC) نے اپنی ایک ایسی اسپیشل رپورٹ کا مسودہ تیار کر لیا ہے، جو باقاعدہ طور پر ستمبر کے اواخر میں موناکو میں ہونے والی کانفرنس میں پیش کی جائے گی،اس رپورٹ کے مسودے میں خبردار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگلی چند صدیوں میں کرہ ارض پر انسانوں کو خود کو کئی طرح کے بہت شدید اور تباہ کن حالات کے لیے تیار رکھنا ہو گا۔ اس دوران عالمی سمندر، زمین کے برف پوش خطے اور چھوٹی چھوٹی جزیرہ ریاستیں بہت بڑی بڑی تبدیلیوں سے گزریں گے۔

‘پھر کوئی ازالہ ناممکن ہو گا‘

آئی پی سی سی کی اس اسپیشل رپورٹ کے مطابق، ”زمین پر انسانوں کی عدم توجہی نےاس سیارے کو مسلسل گرم کرنے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مسلسل اخراج کی عادت کئی طرح کے تباہ کن نتائج کا سبب بن رہی ہے۔ ان میں عالمی سمندروں کی سطح میں وہ اضافہ بھی شامل ہے، جس کا پھر کبھی کوئی تدارک نہیں کیا جا سکے گا۔‘‘اس کے علاوہ اس خصوصی رپورٹ میں یہ تنبیہ بھی کی گئی ہے کہ حالانکہ زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کو زیادہ سے زیادہ بھی صرف دو ڈگری سینٹی گریڈ تک روکے رکھنے کا تخمینہ بھی بہت ہی مثبت پسندی کی علامت ہے، تاہم یہ تبدیلی بھی ماحولیاتی تباہی کے باعث اب تک کے نقصانات کے مقابلے میں آئندہ عشروں میں 100 گنا زیادہ نقصانات کا باعث بنے گی۔

28 کروڑ انسان بے گھر

اس کی ایک مثال یہ کہ آنے والے عشروں میں عالمی سمندروں کی سطح میں اضافہ ایک میٹر تک ہو سکتا ہے، جو 280 ملین انسانوں کے بے گھر ہو جانے کا سبب بنے گا اور دنیا کی بہت سی چھوٹی چھوٹی جزیرہ ریاستیں شدید تر نقصانات کا سامنا کریں گی کیونکہ تب یہ جزیرے مکمل یا جزوی طور پر سمندر میں ڈوب جائیں  گے،جہاں تک زمین کے قطبی حصوں میں برف کی بہت موٹی تہہ کے بڑی تیز رفتاری سے پگھلتے جانے کا تعلق ہے، تو کرہ ارض کا یہ حصہ، جو ‘کرائیوسفیئر‘ کہلاتا ہے، انسانوں کی پیدا کردہ عالمی حدت کا بری طرح نشانہ بنے گا۔ اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ زمین کے برف پوش خطوں میں آج بھی سالانہ 400 بلین ٹن سے زیادہ برف پگھل کر ختم ہو رہی ہے۔

ہر سال بار بار سپر طوفان

ان حالات میں مستقبل میں بڑے بڑے پہاڑی گلیشیئر بھی ختم ہو جائیں گے اور یوں انسانیت پینے کے صاف پانی کے سب سے بڑے قدرتی ذرائع سے محروم بھی ہو سکتی ہے۔ تازہ اور میٹھے پانی کی یہ قلت عالمی سطح پر کشیدگی اور تنازعات کو بھی جنم دے گی،اقوام متحدہ کے اس ماحولیاتی پینل نے خبردار کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ سن 2100 تک دنیا میں ہر سال اتنی زیادہ تعداد میں اور انتہائی تباہ کن سپر طوفان اور سیلاب آنے لگیں گے کہ ان کی وجہ سے ہونے والی تباہی آج تک کی سالانہ اوسط کے مقابلے میں ایک ہزار گنا زیادہ تک ہو سکتی ہے۔

 

اس رپورٹ سے قبل جنوری 2016 میں جرمن سائنس دانوں کی جانب سے سامنے آنے والی ایک تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سمندری سطح میں اضافے کو ’کم تر‘ سمجھا جاتا رہا ہے، حالاں کہ یہ اضافہ ماضی میں لگائے جانے والے تخمینوں سے دوگنا ہو رہا ہے،نیشل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہونے والی اس تحقیقی رپورٹ کے مطابق اس اضافے کے تباہ کن نتائج نکل سکتے ہیں، جس میں سمندری طوفان کہیں زیادہ تعداد آنے سے نقصانات بھی بہت زیادہ ہونے کا امکان ہے۔

سمندروں کی سطح میں اضافہ دو وجوہات کی بنا پر ہوتا ہے، ایک تو قطبین پر موجود برف کا پگھلنا اور دوسری زمینی درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے پانی کا پھیلاؤ،اب تک یہ سمجھا جا رہا تھا کہ سمندروں کی سطح میں سالانہ بنیادوں پر 0.7 تا ایک ملی میٹر اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی وجہ حرارتی پھیلاؤ ہے، جرمن تحقیق میں یہ بتایا گیا تھا کہ سن 2002 سے 2014ء تک سیٹیلائیٹ کی مدد سے جمع کیا گیا ڈیٹا بتا رہا ہے کہ سمندروں کے پھیلاؤ میں اضافہ 1.4 ملی میٹر سالانہ کی اوسط سے ہو رہا ہے۔

اس تحقیقی رپورٹ کے معاون مصنف اور بون یونیورسٹی سے منسلک پروفیسر ژورگن کُشے کے مطابق، ’’آج تک، ہم نے پانی کے حرارتی پھیلاؤ کو کم سمجھا ہے، پانی کا یہ پھیلاؤ عالمی سطح پر سمندروں کی سطح میں اضافے کا اہم محرک ہے۔‘‘تین سال پہلے کی اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگر حرارتی پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ قطبین کی برف کے پگھلنے کی وجہ سے پانی کی مقدار میں اضافے کو بھی شامل کر لیا جائے، تو دنیا بھر میں سمندروں کی سطح میں اوسط اضافے 2.74 ملی میٹر سالانہ کے حساب سے ہو رہا ہے۔

اس وقت محققین کا کہنا تھا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں سمندروں کی سطح میں اضافہ غیرہموار ہے، یعنی بعض علاقوں میں یہ سطح زیادہ اور بعض میں کم بلند ہو رہی ہے۔ فلپائن کے اردگرد سمندری سطح میں اضافہ دیگر خطوں کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے،محققین کے مطابق مغربی امریکی ساحلوں پر سمندری سطح خاصی مستحکم ہے، کیوں کہ وہاں سمندری حرارت میں کوئی فرق نہیں آیا ہے۔

پھر اس کے دو سال بعد یعنی جون 2018 میں ایک اورتحقیقی رپورٹ میں خوشخبری دیتے ہوئے سائنس دانوں کی جانب سے کہا گیا کہ براعظم انٹارکٹیکا کی برف پگھلنے کے ساتھ ساتھ اس کی سرزمین بھی تیزی سے بلند ہو رہی ہے اور اس سے سمندری سطح میں اضافے کی رفتار کم ہو سکتی ہے۔   

اس سائنسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماحولیاتی تغیر کے نتیجے میں جنوبی براعظم انٹارکٹیکا کی برف کے پگھلاؤ میں تیزی آ رہی ہے، مگر ساتھ ہی اس برف کے نیچے موجود زمین بھی بلند ہو رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سمندری سطح میں بلندی کی رفتار خدشات کے مقابلے میں کم ہو سکتی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق مغربی انٹارکٹیکا میں قشر ارض (سطح زمین) کے بلند ہونے کی رفتار چار اعشاریہ ایک میٹر سالانہ ہے، یعنی اس صدی کے آخر تک یہاں سرزمین چار میٹر سے زائد بلند ہو چکی ہو گی۔ بین الاقوامی سائنس دانوں کی ٹیم نے تحقیقی جریدے سائنس میں اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ بالکل یوں ہے، جیسے کوئی میٹرس (گدے) سے اٹھے اور وہ گدا دباؤ ختم ہونے کے بعد بلند ہو جائے۔
لیکن سطح سمندر بلند ہونے یا نہ ہونے کے علاوہ بھی ماحولیات کو ایسے بے شمار خطرات ہیں جو زمین پر انسانی زندگی کیلئے تباہ کن اثرات پیدا کررہے ہیں اسی حوالے سے مئی 2019 میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرش نے اپنے دورہ جنوبی پیسیفک کے دوران کہا تھا کہ دنیا ماحولیاتی تبدیلیوں کے کی روک تھام کے راستے پر نہیں ہے۔

نیوزی لینڈ میں گوٹیریش نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ زمینی درجہ حرارت کو بڑھنے سے روکنے کے حوالے سے اقدامات کے تناظر میں ابھی دنیا درست راستے پر گامزن نہیں ہوئی ہے۔ اپنے ایک نہایت سخت بیان میں انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سیاست کے ذریعے اس مسئلے کا حل رفتہ رفتہ کم زور پڑتا جا رہا ہے اور بہت سی جزیرہ ریاستیں بلکہ پوری دنیا ماحولیاتی تبدیلیوں کا نشانہ بننے کی راہ پر ہیں۔

ستمبر میں نیویارک عالمی ماحولیاتی کانفرنس کا انعقاد ہونا ہے اور اسی تناظر میں گوٹیرش جنوبی پیسفک خطے کا دورہ کیا تھا۔ اپنے اس دورے میں وہ فجی، تووالو اور وانوآتو جیسے جزائر بھی گئے ،یہ تمام وہ جزائر ہیں، جو بلند ہوتی سمندری سطح کی وجہ سے بقا کے خطرے سے دوچار ہیں۔

اپنے بیان میں گوٹیرش نے کہا تھا کہ، ’’ہم ہر جانب مظاہرے دیکھ رہے ہیں اور لوگ احتجاج کر رہے ہیں کہ ہم پیرس معاہدے میں طے کیے گئے اہداف کی جانب بڑھنے کے راستے پر نہیں ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت پیرس معاہدے میں زمینی درجہ حرارت کو صنعتی دور سے قبل کے درجہ حرارت کے مقابلے میں زیادہ سے زیادہ 1.5 سینٹی گریڈ تک بلندی کی حد مقرر کی گئی تھی۔

 اس موقع پر نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آڈرن کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں گوٹیرش نے کہا، ’’عجیب بات یہ ہے کہ زمین پر جوں جوں ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات واضح ہو رہے ہیں، سیاسی اقدامات اتنے ہی کم زور ہوتے جا رہے ہیں۔‘‘

تاہم انہوں نے  نیوزی لینڈ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ویلنگٹن کی قیادت نے نہایت اہم اقدامات کے ذریعے ملک میں نئے قوانین متعارف کروائے جن کے تحت سن 2050 تک یہ ملک کاربن کے استعمال سے مکمل طور پر دور ہو جائے گا۔ نیوزی لینڈ کے ان قوانین میں فقط زرعی شعبے کو کاربن  سے چھوٹ دی گئی ہے۔اس موقع پر نیوزی لینڈ کی وزیراعظم آڈرن نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیاں عالمی برادری کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہیں اور اسے نظرانداز کیا گیا تو یہ بہت بڑی غفلت اور کوتاہی ہو گی۔

پاکستان کی صورتحال تو اور زیادہ خراب

جب سے ماحولیاتی تبدیلیوں نے دنیا کو بے چین کرنا شروع کیا ہے اس وقت سے ہی پاکستان کو ماہرین کی جانب سے خبردار کیا جاتا رہا ہے کہ آنے والے وقت میں پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ہو گا جس کا ایک ہولناک منظر ہم 2015 میں کراچی کے جان لیوا ہیٹ اسٹروک کی صورت میں دیکھ چکے ہیں۔ اس تباہی کا ذمےدار کون تھا؟ ہمارے متعلقہ ادارے اس بات کا خدشہ ظاہر کر چکے تھے کہ اس مرتبہ شدید گرمی کا سامنا ہو گا لیکن ہمارے پاس اس سے نمٹنے کی کوئی تیاری موجود نہیں تھی۔

اس وقت ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان کے لیے جنگ سے بھی بڑا خطرہ ہیں لیکن افسوس پاکستان کے متعلقہ ادارے خاموش تماشائی ہیں یا فنڈرز کی کمی کا رونا روتے نظر آتے ہیں جبکہ دوسری جانب عوام کے تحفظ کے ضامن اور دعویدار سیاسی رہنما اپنے مفادات کی سیاست میں مصروف ہیں۔ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ ماحولیاتی تبدیلیاں ملک کے لیے کتنی تباہ کن ثابت ہوسکتی ہیں۔

اس صورتحال سے صاف ظاہرہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کو روکنے کیلئے انفرادی کردار تو دُور کی بات ہے ملکی سطح پر بھی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیئے جارہے ہیں اور اس کے تباہ کن اثرات تو ویسے ہیں سامنے آنے لگے ہیں جن میں سردیوں میں سخت سردی، گرمیوں میں سخت گرمی، بے موسم برسات اور برفباری، سمندری طوفان وغیرہ شامل ہیں لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ میڈیا میں موسم کے حوالے سے خبریں تو تواتر کے ساتھ شامل کی جاتی ہیں لیکن ان موسموں کے پس منظر میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے عوامل کا نہ کوئی ذکر کرتا ہے نہ ہی کسی کو اس کی شدت اور اثرات کا احساس ہے اور اگر یہی صورتحال باقی رہی تو تمام سائنسی رپورٹس اور ماہرین کے قیاس سے بھی بہت آگے کی تبدیلیاں رونما ہوسکتی ہیں، جو انسانی زندگی کیلئے تباہ کن ہوں گی۔ لیکن ہم اب تک سو رہے ہیں۔۔۔۔!!!

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے