ایران فوبیا میں مبتلا اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہوجونےکہا ہے کہ ایران بین الاقوامی سمندری نقل و حمل کے خلاف دشمنانہ کارروائیاں انجام دے رہا ہے،اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران پر مزید دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے،میڈیارپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے یہ بات لندن روانہ ہونے سے قبل دئیے گئے ایک بیان میں کہی، وہ لندن میں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اور امریکی وزیر دفاع ماریک ایسپر سے ملاقات کریں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ وقت ایران کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے مناسب نہیں بلکہ یہ تہران پر دباؤ بڑھا دینے کا وقت ہے،نیتن یاہو نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے کے حوالے سے ایران کی خلاف ورزیاں جاری ہیں اسی طرح وہ بین الاقوامی سمندری نقل و حمل کے خلاف دشمنانہ کارروائیاں انجام دے رہا ہے اور اسرائیل میں ہلاک کر دینے والے حملے کر رہا ہے،یہ تمام امور مزید پابندیاں عائد کرنے کا سبب ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ اس بات کی توقع ہے کہ ایران جوہری معاہدے کی عدم پاسدارای کے حوالے سے اضافی اقدامات کا اعلان کرے گا،اگر یورپ امریکی پابندیوں کے سائے میں ایران کے تیل کی فروخت کا حل فراہم کرنے میں ناکام رہا تو تہران اپنی جوہری سرگرمیوں کو تیز کر دے گا۔

دوسری جانب ایسو سی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق سفارتی ذرائع کا کہنا ہے امریکی حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو صیہونی حکومت اور حزب اللہ لبنان کے درمیان ہونے والی حالیہ جھڑپوں کے بارے میں بیان جاری نہیں کرنے دیا۔رپورٹ کے مطابق اس بیان میں گرین لائن کی تمام خلاف ورزیوں کی مذمت کی گئی تھی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اس بیان کا مسودہ فرانس نے تیار کیا تھا اور اس میں تمام فریقوں سے زیادہ سے زیادہ صبر و تحمل سے کام لینے کی اپیل کی گئی تھی اور ایسے بیانات جاری کرنے سے روکا گیا تھا جن سے کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس بیان کی امریکی مخلافت اس لیئے کی گئی کہ اس میں  حزب اللہ کی مذمت نہیں کی گئی تھی۔

 صیہونی حکومت نے 25 اگست کو جنوبی بیروت پر ڈرون حملہ کیا تھا جس پر پہلی ستمبر کو حزب اللہ نے ردعمل دکھایا اور جوابی کارروائی کی،حزب اللہ لبنان نے گذشتہ اتوار کو شمالی مقبوضہ فلسطین میں صیہونی فوج کی ایک بکتر بندگاڑی کو ٹینک شکن میزائل سے نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں صیہونی فوج کا ایک کمانڈر ہلاک ہوگیا تھا۔

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے