امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان مورگن اوٹا گس نے واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مقامی سیاست دانوں اور تاجر وںسمیت بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور مقبوضہ علاقے میں عائد سخت پابندیوں پر تشویش ظاہر کی ہے ۔

ترجمان نے مقبوضہ علاقے میں موبائیل فون اور انٹرنیٹ سمیت مواصلاتی بلیک آﺅٹ پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت پر زوردیا کہ وہ انسانی حقوق کا احترام کرے اور لوگوں کی موبائیل فون اور انٹرنیٹ جیسی بنیادی سروسز تک رسائی یقینی بنائے۔

سخت پابندیوں کے باعث وادی کشمیرمیں انسانی بحران شدت اختیار کر گیا ہے کیونکہ لوگوں کو دودھ، بچوں کی خوراک اور زندگی بچانے والی ادویات سمیت روزمرہ استعمال کی اشیاءکی شدید قلت کا سامنا ہے جبکہ اسپتالوں اور میڈیکل سٹوروں پر ادویات دستیاب نہیں ہے ۔ 5 اگست سے بازار، پبلک ٹرانسپورٹ اور ٹرین سروس بھی معطل ہے ۔

دوسری جانب قابض انتظامیہ نے لوگوں کو جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے خلاف احتجاجی مظاہروں اور محرم الحرام کے جلوس نکالنے سے روکنے کیلئے کرفیو اور دیگر پابندیوں کو بھی مزید سخت کردیا ہے۔

لوگوں کو نمازوں کی ادائیگی سمیت اپنے مذہبی فرائض اداکرنے اور وفات پاجانے والے اپنے پیاروں کی نماز جنازہ میں شرکت کی بھی اجازت نہیں ہے ، سخت پابندیوں کے باعث مریضوں کی ہسپتالوں اور ڈاکٹروں تک رسائی ناممکن بنادی گئی ہے جبکہ ڈاکٹر وںاور طبی عملے کو بھی شدید مشکلات کاسامنا ہے۔

بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی معطلی کے اعلان کے بعدسے کشمیریوں کو گھروں میں محصور رکھنے کیلئے مقبوضہ علاقے کے اطراف و اکناف میں لاکھوں بھارتی فوجیوں کو تعینات کیاگیا ہے ۔ مسلسل کرفیو ، انٹرنیٹ، موبائل فون اور لینڈ لائن سروسزسمیت تمام مواصلاتی ذرائع معطل ہونے کے باعث وادی کشمیرکا گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہے۔

 

 

 

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے