بھارت کی چاند پر اترنے کی دوسری کوشش بھی ناکام ہوگئی اور خلائی مشن کا رابطہ چاند پر لینڈنگ سے چند منٹ پہلے منقطع ہوگیا جس کے بعد وزیراعظم نریندر مودی مایوس ہوکر بھارتی اسپیس ایجنسی کے سربراہ کو تسلیاں دے کر خلائی مرکز سے چلے گئے۔ انڈین خلائی ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے صدر کے سیون نے مشن کے بارے میں کہا ہے کہ ’چاند گاڑی وکرم منصوبے کے مطابق اتر رہی تھی اور چاند کی سطح سے 2.1 کلومیٹر دور سب کچھ معمول پر تھا۔ لیکن اس کے بعد اس کا رابطہ ختم ہو گیا۔ اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے گا۔‘انڈین وقت کے مطابق اس سیٹلائیٹ کی رات 1:30 بجے سے 2.30 بجے کے درمیان چاند کے جنوبی قطب پر لینڈنگ متوقع تھی، لیکن اس کا رابطہ منقطے ہوگیا خدشہ ہے کہ وہ تباہ ہوگیا ہے۔

چاند پر لینڈنگ کا منظر دیکھنے کے لیے بھارتی وزیراعظم مودی بھی اسپیس ایجنسی کے ہیڈ کوارٹرمیں تھے ، جب انہیں بتایا گیا کہ سگنل منقطع ہوگیا ہے تو مودی مایوس ہوکر وہاں سے چلے گئے،برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق بھارت کا چاند مشن بظاہر ناکام ہوگیا ہے، وہ چاند کے قطب جنوبی پر لینڈنگ کرنے والا پہلا ملک بننا چاہتا تھا۔ اس سے قبل 2008 میں بھی بھارت کا چاند مشن ناکام ہوگیا تھا جب کہ امریکا، روس اور چین چاند کی سطح پر کامیاب لینڈنگ کرچکے ہیں ۔

مشن کی ناکامی کے بعد بھارتی صدر نریندر مودی نے قوم کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ایسے مواقع مزید آئیں گے،چندریان 2 کو 22 جولائی کو زمین سے لانچ کیا گیا تھا اور ایک ماہ بعد 20 اگست کو یہ چاند کے مدار میں داخل ہوگیا تھا،بھارت نے اس مشن کے لیے اپنا سب سے مضبوط راکٹ جیو سنکرونس سیٹلائٹ لانچ وہیکل (جی ایس ایل وی) مارک تھری استعمال کیا تھا۔ اس کا وزن 640 ٹن ہے (جو کہ کسی بھرے ہوئے جمبو جیٹ 747 کا ڈیڑھ گنا ہے) اور اس کی لمبائی 44 میٹر ہے جو کسی 14 منزلہ عمارت کے برابر ہے۔

اس سیٹلائٹ سے منسلک خلائی گاڑی کا وزن 2.379 کلو ہے اور اس کے تین واضح مختلف حصے ہیں جن میں مدار پر گھومنے والا حصہ آربیٹر، چاند کی سطح پر اترنے والا حصہ لینڈر، اور سطح پر گھومنے والا حصہ روور شامل تھا،اگر بھارت کا یہ مشن کامیاب ہوجاتا تو وہ سابق سوویت یونین، امریکہ اور چین کے بعد چاند کی سطح پر لینڈنگ کرنے والا چوتھا ملک بن جاتا۔ مشن کی کامیابی کی صورت میں ایک اور تاریخ بھارت کی منتظر تھی، بھارتی خلائی جہاز چاند کے اس حصے پر لینڈ کرنے جارہا تھا جہاں آج تک کوئی نہیں گیا۔

بھارت کا اس مشن کو بھیجنے کا مقصد ایک طرف تو خلائی میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنا تھا، تو دوسری طرف چاند کی سطح پر تحقیقات کرنا بھی تھا۔ خلائی مشن پانی اور معدنیات کی تلاش کا کام کرنے والا تھا جبکہ چاند پر آنے والے زلزلے کے بارے میں بھی تحقیق کی جانی تھی۔چاند کے مدار میں گردش کرنے والے حصے کی زندگی ایک سال کی تھی جو چاند کی سطح کی تصاویر لینے والا تھا، اس کے ساتھ وہ وہاں کی مہین ماحول کو سونگھنے کی کوشش بھی کرنے والا تھا۔

چاند کی سطح پر اترنے والے حصے کا نام اسرو کے بانی کے نام پر ’وکرم‘ رکھا گیا تھا۔ اس کا وزن نصف تھا اور اس کے بطن میں 27 کلو کی چاند پر چلنے والی گاڑی تھی جس پر ایسے آلات نصب کیے گئے تھے جو چاند کی سرزمین کی جانچ کر سکتے،اس حصے کی زندگی صرف 14 دن تھی اور اس کا نام ’پراگیان‘ رکھا گیا تھا جس کا مطلب دانشمندی ہے۔

بھارت اس سے پہلے سنہ 2008 میں ایک اور خلائی مشن چندریان 1 چاند کی طرف روانہ کرچکا ہے۔ وہ خلائی جہاز بھی چاند کی سطح پر اترنے میں ناکام رہا لیکن اس نے ریڈار کی مدد سے چاند پر پانی کی موجودگی کی پہلی اور سب سے تفصیلی دریافت کی تھی۔

دوسری جانب بھارت کی خلائی مشن میں ناکامی پر وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی فواد چوہدری اور سینیٹر فیصل جاوید نے طنزیہ انداز اپناتے ہوئے مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے

وفاقی وزیرسائنس وٹیکنالوجی فواد چوہدری کا بھارتی وزیراعظم مودی پر طنز کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مودی نےخلائی مشن پر غریب قوم کا 900کروڑ روپے لگا دیے،ان کا ٹویٹ میں یہ بھی کہنا تھا کہ کھلونا چاند کے بجائے ممبئی میں اتر گیا، 9 سو کروڑ کے ضیاع پر لوک سبھا کو مودی سے سوال پوچھنا چاہیے۔

سینیٹر فیصل جاوید نے بھی ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ اپنے سے بڑے کام نہیں کیا کرتے، پہلا والا پائلٹ یاد نہیں؟اب ٹوائلٹ پر فوکس کرو – اپنا گند صاف کرو – تم نے مظلوموں کا رابطہ بند کیا – تمہارا اپنا رابطہ بند ہو گیا –

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے