مقبوضہ کشمیرمیں جہاں کشمیری مسلمان سخت کرفیو اور بحارتی فورسز کے مظالم کے باوجود اپنے حق کیلئے مسلسل آوازیں بلند کررہے ہیں وہیں محرم الحرام کی منابت سے ہونے والی عزاداری پر بھی پابندی کو عزاداروں نے خاطر میں نہ لاتے ہوئے جلوس برآمد کرلیئے ہیں
مقبوضہ کشمیر میں شیعہ اکثریتی قصبہ بڈگام میں جمعہ 5 محرم سے محرم الحرام کے ماتمی جلوس برآمد ہونے کا سلسلہ شروع ہونا تھا جو 10 محرم عاشور تک جاری رہتا ہے ضلعی انتظامیہ نے قصبہ میں ماتمی جلوس برآمد کرنے پر پابندی عائد کی اور مرکزی سڑک پر مزید رکاوٹیں لگا کر اسے بند کردیا تھا تاہم عزاداروں نے پابندیوں کو توڑتے ہوئے کرفیو کے باوجود ماتمی جلوس نکالااور عزاداری کی۔

کشمیری ذرائع کا کہناہے کہ بھارتی سیکیورٹی اہلکاروں نے عزاداران امام حسین علیہ السلام پر براہ راست فائرنگ اور آنسوگیس کے گولے پھینکے جس سے متعدد عزاداری زخمی ہوگئے ہیں۔
دوسری جانب انجمن شرعی شیعیان جموں وکشمیر کے صدر آغا سید حسن الموسوی الصفوی 4 اگست سےمسلسل نظر بند ہیں جس کے باعث مرکزی امام بارگاہ بڈگام میں سالہاسال سے جاری روایتی و قدیم عشرہ مجالس کا سلسلہ متاثرہے۔ تاہم عزاداران نے اعلان کیا ہے کہ ایام عزاء کے ماتمی جلوسوں پر پابندی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی اور اس ضمن میں بھارتی فورسز کی رکاوٹوں اور پابندیوں کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔