اسلام آباد کی مقامی عدالت میں جج ویڈیو اسکینڈل کیس کی سماعت ہوئی جس دوران ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی،ایف آئی اے کے تفتیشی افسر اور پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقات کے دوران ملزمان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا لہٰذا انہیں کیس سے بری کردیا جائے۔

عدالت نے ایف آئی اے کی استدعا پر کچھ دیر کے لیے فیصلہ محفوظ کیا جو بعد میں سناتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے کی درخواست منظور کرلی،عدالت نے ایف آئی اے کی سفارش پر جج ویڈیو اسکینڈل کے تین ملزمان ناصر جنجوعہ، خرم یوسف اور غلام جیلانی کو عدم شواہد کی بناء پر بری کردیا۔

6جولائی 2019 کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت نے پریس کانفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ایک ویڈیو جاری کی جس میں مبینہ طور پر یہ بتایا گیا کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو نواز شریف کو سزا سنانے کے لیے بلیک میل کیا گیا۔ اس بنیاد پر مریم نواز نے یہ مطالبہ کیا کہ چونکہ جج نے خود اعتراف کرلیا ہے لہٰذا نواز شریف کو سنائی جانے والی سزا کو کالعدم قرار دے کر انہیں رہا کیا جائے۔

تاہم جج ارشد ملک نے ویڈیوجاری ہونے کے بعد اگلےروز ایک پریس ریلیز کے ذریعے اپنے اوپرعائد الزامات کی تردید کی اورمریم نوازکی جانب سےدکھائی جانےوالی ویڈیو کو جعلی۔ فرضی اور جھوٹی قراردیا۔

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے