ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق ترجمان ایرانی نیوکلیئر ایجنسی بہروز کمالوندی کا کہنا ہے کہ جوہری معاہدے کے تحت ایرانی ریسرچ اور ڈویلپمنٹ پروگرام پر عائد پابندیاں ہٹانی شروع کردی ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز سے سینٹری فیوجز بنانے کے عمل کو فعال کردیا گیا ہے، پہلے مرحلے میں 20 چینز میں گیس انجکشن کا آغاز کردیا گیا ہے جس کے بعد دوسرے مرحلے میں 30 چینز میں بھی گیس انجکشن داخل کیا جائے گا۔

بہروز کمالوندی کے مطابق ان اقدامات سے ایران میں یورینیم کی افزودگی کی سطح میں اضافہ ہوگا، اب یورنیم افزدوگی کیلئے جدید تیز تر سینٹری فیوجز کا استعمال کریں گے، ایسے 40 جدید سینٹری فیوجز اس وقت قابل استعمال ہیں، جدید سینٹری فیوجز کے استعمال سے ایران 20 فیصد سے زائد یورینیم افزودہ کرسکتا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ یورپی ساتھیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جوہری معاہدے کو بچانے کیلئے اب ان کے پاس زیادہ وقت نہیں رہ گیا، جوہری معاہدے کے تحت ایران صرف 3 فیصد سے زائد تک یورینیم افزودہ کرنے کا پابند تھا۔گزشتہ دنوں ایرانی صدر حسن روحانی نے جوہری معاہدے کے تحت جوہری تحقیق پر عائد پابندی سے دستبردار ہوتے ہوئے یورینیم افزودگی کیلئے سینٹری فیوجز تیار کرنے کا اعلان کیا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ ایران یورینیم کی افزودگی کا عمل تیز کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کمالوندی نے بتایا کہ ایران کی اٹامک انرجی ایجنسی نے 20 IR-4 اور 20 IR-6 سینٹری فیوجز پر کام دوبارہ شروع کردیا ہے جس سے اعلیٰ کوالٹی کا یورونیم افزودہ کیا جاسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملکی ضروریات کے مطابق نئے سینٹری فیوجز بنائے جائیں گے۔ انھوں نے یہ وضاحت بھی دی کہ ایران ایک شرط پر اپنے نئے اقدامات سے پیچھے ہٹ سکتا ہے اور اس کا انحصار دوسرے فریقین پر ہے کہ وہ معاہدے پر دوبارہ اس کی روح کے مطابق عمل پیرا ہونا شروع کردیں۔ایران نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ جوہری امور پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو اجازت دیتا رہے گا کہ وہ اپنا معائنہ جاری رکھیں۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے فرانس کی طرف سے 15 بلین ڈالر کی تیل کریڈٹ کی آفر کو خوش آمدید کہا ہے جس کے تحت ایران کو 2015 کے معاہدے پر مکمل عمل درآمد کرنا ہوگا۔فرانس کی آفر سے ایران دیگر ممالک کی کرنسی بھی رکھنے کے اہل ہوجائے گا۔اُدھرایک سینیئر امریکی اہلکار نے روئٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا کہ اگرچہ امریکہ فرانس کی آفر کوشک کی نگاہ سے دیکھتا ہے لیکن امریکی عہدیدار نے اس آفر کو منظور کرنے سے متعلق امکان کو رد بھی نہیں کیا ہے۔

مئی 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا،ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں الزام عائد کیا تھا کہ ’ایران ریاستی دہشت گردی کی سر پرستی کرتا ہے، حقیقت میں اس ڈیل کے تحت ایران کو یورینیم افزودگی کی اجازت مل گئی، ایران، شام اور یمن میں کارروائیاں کر رہا ہے‘۔

ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہوگاٹرمپ نے کہا کہ ایران سے جوہری معاہدہ نہیں ہوناچاہیے تھا، معاہدے کو جاری رکھا تو ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہوجائے گی اور جیسے ہی ایران ایٹمی ہتھیار بنانے میں کامیاب ہوگا دیگر ممالک بھی کوششیں تیز کر دیں گے‘۔

ایران نے ٹرمپ کے اس اعلان کے باوجود کہا تھا کہ وہ معاہدے کی پاسداری کرے گا کیوں کہ معاہدے میں امریکا کے علاوہ دیگر پانچ طاقتیں ایرانی اقدامات سے مطمئن ہیں،لیکن اپریل 2019 میں امریکا نے ایرانی تیل خریدنے والے ممالک کو تنبیہہ کی کہ وہ ایران سے تیل نہ خریدیں ورنہ امریکا ان ممالک پر بھی پابندیاں عائد کردے گا،اس کے بعد مئی 2019 میں ایران نے مؤقف اپنایا کہ چونکہ امریکا نے اس پر معاشی پابندیاں عائد کردی ہیں لہٰذا وہ جوہری معاہدے کے دو اہم حصوں سے دستبردار ہورہا ہے۔

ایرانی صدر نے اس وقت اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ عالمی معاہدے کے دو حصے معطل کر رہے ہیں جنہیں مشترکہ جامع ایکشن پلان (Joint Comprehensive Plan of Action) کے نام سے جانا جاتا ہے،ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ وہ ملک میں یورینیم کا بھاری اسٹاک رکھیں گے اور اسے یورپ کو فروخت نہیں کیا جائے گا،حسن روحانی نے یورپی قوتوں، چین اور روس کو تیل اور پیسے سے متعلق وعدوں کی پاسداری کے لیے 60 روز کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا ہونے کی صورت میں ہی ایران فروخت بحال کرے گا۔

ایران ہمیشہ سے اس بات پر اصرار کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پر امن مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری معاہدے پر عمل پیرا ہے جس کی تصدیق عالمی جوہری توانائی ایجنسی بھی کرتی ہے۔لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عہدہ سنبھالتے ہی ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کو تباہ کن اورپاگل پن قرار دینا شروع کردیا تھا اور وہ دو باراس بات کی توثیق کرنے سے انکار کرچکے ہیں کہ ایران جوہری معاہدے پرعمل کررہا ہے۔

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے