دنیاکے تمام ممالک کا ان کے  تشخص اور ملک کی انفرادیت کیلئے ایک مخصوص نشان ہوتا ہے جو جھنڈا/پرچم کہلاتا ہےاور ہرملک کیلئے اس کا جھنڈا اس کی پہچان اس کی شان اور اور اس کا امتیازی نشان ہوتا ہے، اس پرچم/جھنڈے کی توہین بھی برداشت نہیں کی جاتی بلکہ اس کی توہین کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ اس ملک اس قوم کی توہین کی گئی ہے، اسی طرح سیاسی جماعتوں کے بھی اپنے پرچم ہوتے ہیں لیکن ان پرچموں کی اہمیت و حیثیت اور احترام کی نوعیت کسی ملک کے جھنڈے کی طرح نہیں ہوتی۔

یہ بھی حقیقیت ہے کہ کسی بھی ملک کا پرچم اس ملک کیلئے تو قابل احترام ہوتا ہے لیکن کسی دوسرے ملک کیلئے اس کی اتنی اہمیت نہیں ہوتی بلکہ دوسرے ملک کا جھنڈا لگانے کیلئے خصوصی اجازت درکار ہوتی ہے، مثال کے طور پر پاکستان میں بھارت کا جھنڈا بھارتی ہائی کمیشن یا بھارتی سفارتی عہدیداران کے گھروں پر تو لگ سکتا ہے لیکن کسی اور جگہ نہیں اور اسے لگانے یا نصب کرنے کیلئے مناسب وجہ اور دلیل کے بعد ہی اجازت مل سکتی ہے۔

لیکن اگر یہ کہا جائے کہ اقوام عالم میں واحد پرچم ۔۔۔۔ پرچمِ حسینی و پرچمِ عباس ہے جسے دنیا بھر میں اہلِ تشیع جہاں جہاں رہتے ہیں چاہے وہ کسی قوم و رنگ نسل سے تعلق رکھتے ہوں وہ اس پرچم/علم کو بنا کسی روک ٹوک اپنے گھروں پر لگاتے بھی ہیں اسے اٹھاتے بھی ہیں اوراس کی اہمیت و احترام سے دنیا واقفیت بھی رکھتی ہے۔

 

حضرت امام حسین علیہ السلام کے علمدار حضرت عباس علیہ السلام سے منسوب جھنڈا یا پرچم اہل تشیع کیلئےایک امتیازایک پہچان بن چکا ہےاسے عزادار علم کہتے ہیں۔ اگرچہ پوری دنیا میں جھنڈے کو علم کہنا صرف یہاں کی وضع کردہ اصطلاح ہے لیکن یہ ایسا مسئلہ نہیں کیونکہ یہ بھی عربی کے ہی الفاظ ہیں ، پیغمبر اکرم صلی االلہ علیہ وآلہ وسلم امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام اورامام حسین علیہ السلام نے جب جھنڈے کا ذکر کیا تو اسے "لوا” اور "رایہ” کہا ہے۔ اور اسی پرچم/علم کا افتخار ہے کہ میدان خیبر میں جب رسول کریم صلی االلہ علیہ وآلہ وسلم نےاعلان کیا کہ کل میں یہ پرچم/علم اس شخص کو دوں گا جو کرار غیر فرار ہوگا، اللہ و رسول کو دوست رکھتا ہوگا اور اللہ و رسول اسے دوست رکھتے ہوں گے، تمام اصحاب کی خواہش تھی کہ کل انھیں پرچم عطا ہو لیکن اگلی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پرچم مولا علی علیہ السلام کو عطاکیا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ قلعہ خیبر کیسے فتح ہوا، مرحب و انتر و حارث جیسے پہلوان کیسے نیست و نابود ہوئے۔

بقول شاعر۔۔۔

علم  نبی نے علی کو دیا تھا خیبر میں

وہ  دن  اور آج کا دن یہ علم ہمارا ہے

ابتدائی زمانے میں مجلس عزائے امام حسین علیہ السلام میں عزاداروں کو کربلا میں علمدار حسینی لشکر حضرت ابوالفضل عباس علیہ السلام  کی شہادت کی یاد دلانے کے حوالے سے پرچم کا ذکر ہوتا تھا رفتہ رفتہ جب مجلس عزاء نے ایک نئی شکل و صورت اختیار کی تو اس علم/پرچم  کو مجالس و جلوس میں لایا گیا، اگرچہ چند سالوں سے اس کے رنگ شکل ،قد و قامت اور تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے،لیکن اس کے قد، رنگ اور اس کے  انداز کو آپ علاقائی اثر کے تحت تو دیکھ سکتے ہیں لیکن اصل میں یہ پرچم ہی کی مخلتف اقسام ہیں، معاملہ نسبت و عقیدت کا ہے اس کے رنگ و انداز کا نہیں اس میں صرف ایک ہی نکتہ بنیادی ہے کہ پرچم ہمیشہ سربلند رہے۔

جھنڈے کا مقصد لشکر کو اپنے گرد جمع کرنا یا اپنے لوگوں کو یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ سالار لشکر ابھی باقی ہے ابھی جنگ جاری ہے، اسی طرح جلوس و مجاالس میں بھی لوگوں کو جمع کرنے کی خاطر ہوتا تھا، رفتہ رفتہ یہ جلوسوں سے واپسی کے بعد ہمیشہ کیلے امام بارگاہوں میں نصب ہونا شروع ہوا۔ بعض علماء نےکہا کہ اس جھنڈے کومعمولی اور فقط ایک کپڑے اورلکڑی کا ڈنڈا نہ سمجھا جائے یہ ایک نشان ہے، ایک شبیہہ ہے ایک عقیدت ہے اور دشمنانِ آلِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دلوں پر باعث ہیبت ہے۔

میدان کربلا میں دیگر جھنڈوں کی مانند لشکر حسین علیہ السلام  کا بھی ایک پرچم تھا۔چنانچہ کتب و مقاتل میں بھی آیا ہے کہ امام حسین علیہ السلام  نے اپنے لشکر کے دائیں طرف کے لوگوں کیلے ایک  پرچم مخصوص کیا  اور یہ پرچم زہیر ابن قیس کو عنایت کیا اسی طرح بائیں جانب کا پرچم جناب  حبیب ابن مظاہر کو عنایت کیا اور ان پرچمون کے علاوہ ایک اور پرچم لشکر کے مرکز میں تھا جسے قطب و محور سمجھا جاتا تھا۔ اسے اپنے بھائی حضرت ابوالفضل عباس کو دیا۔ تمام کتب مقاتل میں آیا ہے "واعطی رایۃ الی الاخا العباس” عباس علمدار وہ تھے اس پرچم کو اٹھانے کی تمام تر امتیاز و صلاحیت رکھتے تھے۔

 تاریخ اسلام سے پہلے اور بعد میں ہونے والی جنگوں میں ملتا ہے پرچم میں سیاہ پرچم  ہمیشہ دور جاہلیت میں نامناسب اور نفرت انگیز جگہوں پر نصب ہوتا رہا ہے۔اور اسی طرح اسلام کے مقابل جب مشرکین جنگ کیلے اسلام کے خلاف نکلتے تو ان کا پرچم سیاہ ہوتا تھا۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے بعد جنگ صفین میں شامی حاکم کے لشکر کے پرچم کا رنگ سیاہ تھا۔اسی لئے اس پرچم کو دیکھ کر مشہور صحابی حضرت عمار یاسر نے فرمایا  میں اس سیاہ پرچم کے خلاف لڑتا رہا ہوں اور اب بھی لڑ رہا ہوں۔جب بنی امیہ کے خلاف بنی عباس نے تحریک چلائی تو ان کیلے تحریک  چلانے والے ابومسلم خراسانی کے لشکر کے پرچم کا رنگ  بھی سیاہ تھا۔چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام  نے عبداللہ بن حسن سے فرمایا کیا آپ نے ابوسلمی خلال سے کہا تھا کہ سیاہ پرچم بلند کریں۔۔؟

لہذا واضح ہوا کہ سیاہ پرچم کبھی بھی شیعوں کی نشانی نہیں رہا۔ اسی لیئے آج پرچم یا علم میں ایام عزاء کے دوران اگر سیاہ کپڑا لگایا بھی جاتا ہے تو اس کا مقصد سوگ کے ساتھ ساتھ اس رنگ کو مشرکین کے پرچم سے جدا رکھنے کیلئے نامِ حسین، نام عباس اور پنجے سے مزین کیا جاتا ہے۔ جبکہ ایامِ عزاء کے علاوہ دنوں میں اس کا رنگ سُرخ ہوتا ہے۔

یہ پرچم جو پرچم عباس علمدار کے نام سے معروف ہے اصل میں یہ پرچم امام حسین علیہ السلام کا ہے، جو انھوں نےعلمدار لشکر کےطور پرحضرت عباس کو عطا کیا تھا، کتب مقاتل میں آیا ہے کہ جس طرح جنگ خیبر میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا پرچم علی علیہ السلام کو دیا تھا، اسی طرح میدان کربلا میں حضرت امام حسین نے اپنے لشکر کے علمدار حضرت عباس علیہ السلام کو یہ پرچم/علم عطاکیا تھا،جنگوں میں پرچم ہمیشہ قائد کا ہوتا ہے،اورکربلا میں قائد میدان امام حسین علیہ السلام تھے۔ بلکہ درحقیقت یہ پرچم اسلام ہےجو امام حسین علیہ االسلام نے اٹھایا تھا اوراس کے برعکس جو پرچم عمر سعد نے اٹھایا وہ پرچم کفر و مشرکین تھا۔

جنگوں میں ایک صاحبِ شجاعت پرچم کو اٹھاتا تھا تاکہ لوگ اس کے گرد رہیں اور جنگ کے بعد اس کی طرف لوٹیں لیکن ایک بات ایسی ہے جس کا ذکر ضروری کہ موجودہ پرچم اتنا بلند اور وزنی ہے کہ کئی افراد اسے اٹھاتے  ہیں اور بعض جگہوں پر تو اسے لٹا کر لے جایا جاتا ہے یہ صورتحال دین و مذہب کے نگہبان علماء کی عدم توجہی کی بنا پر پیدا ہوئی ہے کیونکہ وہ اپنے مفاد کی خاطر اس کے خلاف آواز  نہیں اٹھاتے یا خاموشی اپنائے ہوئے ہیں، ورنہ پرچم تو کبھی سرنگوں ہوتا ہی نہیں اور سرنگوں کامطلب ہی جنگوں میں یہ لیا جاتا تھا کہ اب لشکر کا سپہ سالار نہیں رہا یا شکست ہوگئی، سپاہی اسی پرچم کو بلند دیکھ کر عزم و ہمت سے لڑتے تھے۔اسی لیئے پرچم حسینی و عباس ضرور اٹھائیں لیکن یہ سوچ کر کہ اسے کسی صورت کسی مقام پر سرنگوں نہیں ہونے دینا ہےاگرجلوس کے راستے میں ایسی رکاوٹیں مثلاً بجلی کے تاار، کوئی فلائی اوور یا کوئی اور رکاوٹیں ہیں جہاں پرچم کو نیچا یا جُھکانا پڑتا ہے تو کوشش کریں کہ اس پرچم کی بلندی کم کردیں کہ کہیں اسے جھکانا نہ پڑے، یہ ابتداء سے آخر تک سربلند ہی جائے۔

پرچم ہمیشہ میدان جنگ میں مرکز قوت  و قدرت کیلے اٹھایا جاتا ہے تاکہ منتشر توانائیاں ایک جگہ جمع ہو سکیں ،کربلا میں شہادت امام حسین علیہ السلام اور اسارت اہل بیت ع کے بعد یہ پرچم بلند نہیں ہوا بلکہ بعد عاشور پابند رسن اہل بیت کے قافلے کے آگے جو پرچم بلند تھا ،وہ پرچم کفرو باطل تھا،اہل بیت علیہ السلام نےمدینہ واپسی تک کوئی پرچم بلند نہیں کیا تاہم عرب روایت کے مطابق جس کے گھر کا کوئی ناحق قتل ہوجائےاوراس کا بدلہ نہ لیا گیا ہو تو نشانی کے طور پر اسکے گھرپرسرخ پرچم نصب کیا جاتا تھا تھا اور لوگوں کو معلوم ہوجاتا تھا کہ اس گھر کا فرد یا افراد ناحق قتل ہوئے ہیں اور ابھی اس خون کا انتقام باقی ہے۔ صرف ایامِ عزا یعنی ماہ محرم میں اس پرچم کا رنگ تبدیل کرکے سرخ سے سیاہ کردیا جاتا ہے جیسے کربلا نجف، کاظمین، مشہد میں روضوں پر پرچم تبدیل کیا جاتا ہے۔ لیکن اس سیاہ رنگ کے ساتھ اس پرچم میں علمدار کے ہاتھ کی شبیہہ کی طرح ایک پنجہ / چاند ستارہ بھی لگا ہوتا ہے ساتھ ہی سیاہ کپڑے پر نام عباس و حسین لازمی تحریر ہوتا ہے جو اس سیاہ پرچم کو ایک الگ ہی امتیاز اورانفرادیت دیتا ہے، اور لوگوں کو پتہ چل جاتا ہے کہ یہ مشرک و کفارکا نہیں بلکہ پرچم حسینی ہے۔

یہ پرچم/علم  رمز وحدت اُمت ہے یعنی تمام افراد اس پرچم کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں کیونکہ اس پرچم کے حامل شخصیات کی یہ دلیل تھی کہ تمام امت واحدہ ہے لہذا انہوں نے بغیر کسی تفرقہ قوم و نسل اورامتیازات سے ہٹ کر اس پرچم تلےجمع ہونے کی دعوت دی،آئمہ طاہرین نے ہمیشہ شیعوں کو یہ حکم دیا وہ خود کو اسلام میں حل کر کے زندگی گزاریں یا اسلام کی چھتری کے نیچے زندگی گزاریں،تو اگر یہ کہا جائے کہ پرچم عباس جو اصل میں پرچم حضرت امام حسین علیہ االسلام ہے یہ وہ نشانی ہے جو دنیا کو بتاتی ہے کہ امام حسین علیہ السلام کا لشکرآج بھی باقی ہے پرچم بلند ہے جبکہ ان کے مقابل یزیدی لشکر نیست و نابود ہوچکا ہے اس کا کہیں نام و نشان نہیں ہے۔ تو اہل اایمان آئیں اور اس پرچم تلے جمع ہوں ، مسلک، رنگ و نسل کو بھلادیں کیونکہ امام حسین علیہ السلام کا پیغام تو اصل میں پیغام رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ہے نانا کے دین کو سربلند رکھنے کیلئے اپنا سر کٹا دیا پھر آج اُمت میں اختلاف کیوں۔۔۔؟؟ سب ایک جگہ جمع کیوں نہیں ہوتے۔۔۔؟؟ واقعہ کربلا کی یاد اورغمِ حسین منانے کا انداز الگ الگ ہوسکتا ہے لیکن سب اس پر تو متفق ہیں کہ حسینیت زندہ باد یزیدیت مُردہ باد تو پھرایک جگہ جمع کیوں نہیں ہوسکتے ۔۔۔!!!

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے