سرکاری اعلامیے کے مطابق صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی سے چین کے وزیر خارجہ نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی جس میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی بھی موجود تھے۔اس موقع پر صدر مملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے مابین گہرے دوستانہ تعلقات ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو بدلنےکےاقدامات غیرقانونی ہیں جو کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی سازش ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں صورت حال شدید تشویش ناک ہے، مقبوضہ وادی میں کرفیو کا خاتمہ کیا جائے۔

اس موقع پر چینی وزیرخارجہ نے پرتپاک استقبال پر صدر مملکت کا شکریہ ادا کیا اور انہوں نے کہا کہ چین نے ان تمام یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کی ہے جنہوں نے حالات کو مزید پیچیدہ کیا۔

بعد ازاں چینی وفد نے وزیراعظم عمران خان سے چینی وزیر خارجہ کے ہمراہ ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور، خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ترین جزو ہیں،دوران ملاقات وزیراعظم نے چینی وفد کومقبوضہ کشمیر کی سنگین صورت حال سے آگاہ گیا۔

اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہورہی ہیں، مقبوضہ وادی میں جاری کرفیو اور دیگر پابندیاں فوری اٹھانے کی ضرورت ہے۔وزیراعظم عمران خان نے چین کے ساتھ خطے کے امن واستحکام کیلئے قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ملاقات کے دوران وانگ ای نے چینی صدر اور وزیراعظم کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام دیا اور مقبوضہ کشمیر میں یکطرفہ بھارتی اقدام کی مخالفت جاری رکھنے کے عزم اعادہ کیا،انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کشمیر کا تنازع تاریخ کا حل طلب تنازع ہے اور مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے