اپنے ایک بیان میں ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ شکست خوردہ غیر ملکی افغانستان چھوڑیں اوربھائیوں کا بھائیوں کے ہاتھوں قتل ختم کریں، خاص طور پرغیر ملکی اس صورتحال کومزید خراب کرسکتے ہیں جس سے خونریزی کی نئی لہر آئے گی۔

جواد ظریف نےخبردار کیا کہ غیرملکی اورجارحیت پسند عناصر افغانستان میں اس نئی صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جس سے قتل و غارت گری کی ایک نئی لہر شروع ہوگی،ایرانی وزیر خارجہ نے امریکا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جارحیت پسند اور قابض اپنی شکست تسلیم کریں اور جتنی جلدی ممکن ہو افغانستان چھوڑ دیں۔

جواد ظریف نے تعاون اور کوششوں کے حوالے سے ایران کی تیاری کو بھی اجاگر کیا جس کا مقصد افغان طالبان اور امریکا کے درمیان مصالحت کے معاہدے کو بچانا تھا،ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ہم افغانستان کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں اور زور دیتے ہیں کہ کوئی بھی امن عمل افغان عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔

جواد ظریف کا کہنا تھا کہ معصوم شہریوں کا قتل عام روکنے اور معاہدے کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ایران افغانستان میں موجود تمام جنگی فریقین کے ساتھ مشاورت اور بات چیت کے عمل کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے