محمود اصغر چودھری

 

کہنے لگا باباجی میں ہر نئی بات کو بدعت اور گمراہی کہتا ہوں ۔ میں جمعہ کی مبارک دینے کو بھی گمراہی خیال کرتا ہوں کیونکہ ایسا صحابہ نے نہیں کیا لیکن یکم محرم کو مجھے اچانک یاد آتا ہے کہ نیا سال چڑھ گیا ہے اور اس کی مبارکباد دینی چاہیے حالانکہ میں یہ جانتا ہوں کہ یہ اسلامی حکم نہیں ہے

کہنے لگا باباجی میں صحابہ کی عظمت پر قربان ہونا چاہتا ہوں لیکن جب کوئی مولوی حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر یہ الزام لگاتا ہے کہ وہ اقتدار حاصل کرنے کے لئے نکلے تھے اس وقت میرے ضمیر اور میرے ذہن پر کوئی ایسی شرم کوئی ایسا بوجھ محسوس نہیں ہوتا کہ حسین رض ایک صحابی بھی تو ہیں تو مجھے ان کی ناموس کی پرواہ کیوں نہیں ہوتی

کہنے لگا باباجی میں ہر مذہب کے ماننے والوں کو ان کے عقائد کے مطابق اظہار کرنے اور جلوس نکالنے کے حقوق کا چیمپئن ہوں لیکن محرم کو مجھے اچانک خیال آتا ہے کہ یہ شیعہ جلوس نکال کر سارا روڈ بلاک کر دیتے ہیں ان کے جلوس پر پابندی لگنی چاہئے

باباجی مجھے لگتا ہے میرے دل میں منافقت پیدا ہو چکی ہے میں کیا کروں میری مدد کریں۔۔؟؟

باباجی کہنے لگے پُتر ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ تو معاملات کو کسی دوسرے کی عینک سے دیکھتا ہے تم واقعات کو کسی مولوی کسی ذاکر کی تقریر سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہو حالانکہ اللہ نے تمہیں خود عقل دی ہے اور تمہیں اپنی کتاب میں باربار غور کرنے کی دعوت دیتا ہے معاملات کو اپنی عینک سے دیکھو روبوٹ نہ بنو، جس نے جیسا کہا ویسا کردیا، کود بھی سوچو اور سمجھو، تعصب کو دل میں نہ آنے دو تعصب ایسا کیڑا ہے جو ایمان کے پودے کو چٹ کر جاتا ہے اور پتہ بھی نہیں چلتا ۔ فرقہ بازی کی ابتدا ہی تعصب سے ہوتی ہے اس گُھس بیٹھیے کو دل سے نکالو تو نجات پاؤ گے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے