آج یوم عاشور ہے۔۔۔۔ عراق اور ایران سمیت دنیا بھرمیں شہیدان کربلا کی عزاداری کا سلسلہ جاری ہے اورکربلائے معلیٰ میں سید الشہدا امام حسین علیہ الصلوات والسلام اور علمدار کربلا حضرت ابوالفضل العباس علیہ الصلوات والسلام کے روضہ مبارک اور بین الحرمین نیز اطراف کی سڑکوں پر دسیوں لاکھ زائرین عزاداری میں مصروف ہیں۔ غیر سرکاری اعدادو شمار کے مطابق ااب تک 2 کروڑ سے زائد زائرین کی تعداد ہوچکی ہے تاہم حتمی اعدادوشمار بعد عاشور جاری کیئے جاتے ہیں گذشتہ سال یہ تعداد ڈھائی کروڑ تھی۔

کربلا‏ئے معلی سے موصولہ خبروں کے مطابق سید الشہدا حضرت امام حسین علیہ السلام اور علمدار کربلا حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کے روضے، بین الحرمین اور روضہ ھائے مبارک کے اطراف کی سڑکیں عراق اور دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں زائرین اور سوگواروں سے بھری ہوئی ہیں

رپورٹوں کے مطابق نو محرم کا سورج طلوع ہوتے ہی مختلف ماتمی دستے بین الحرمین اور بارگاہ حسینی کی جانب میں آنا شروع ہوئے،عراق و ایران کے دیگر علاقوں سے کئی دن کی مسافت پیدل طے کرکے کربلائے معلی پہنچے ہیں جبکہ دوسرے عراقی شہروں کے بہت سے ماتمی دستے کربلائے معلی کے نزدیک پہنچ چکے ہیں،دوسرے شہروں سے کربلائے معلی پہنچنے والے عراقی عزاداروں میں برادران اہلسنت کے عزاداری کے دستے میں بھی شامل ہیں،جو عراقی کردستان اور دیگر سنی آبادی والے عراقی علاقوں سے ، شہیدان کربلا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے کربلائے معلی پہنچے ہیں ۔

اس کے علاوہ ایران، پاکستان، ہندوستان ، افغانستان ، آذربائیبجان ، اور مختلف عرب ملکوں سمیت دنیا کے بہت سے ملکوں سے لاکھوں زائرین عاشورائے حسینی میں شرکت کے لئے ، کربلائے معلی پہنچ چکے ہیں ۔ بتایا گیا ہے کہ اس وقت کربلائے معلی میں موجود غیر عراقی عزاداروں میں سب سے بڑی تعداد ایرانی زائرین کی ہے۔

غیر جانبدار مبصرین کے مطابق گزشتہ سال چہلم امام حسین علیہ السلام پر کربلا میں زائرین کی تعداد ڈھائی کروڑ سے بھی زائد تھی ، کربلا میں موجود تبصرہ نگاروں، غیر جانبدار میڈیا نمائندوں اور دیگر افراد کا کہنا ہے کہ سچ اور حقیقت بیان کرتے ہوئے تھوڑی دیر کیلئے عقیدت اور جذبات ایک طرف رکھ دیئے جائیں۔ اور صرف یہ سوچا جائے کہ اس چھوٹے سے شہر میں دو نہ سہی ایک کروڑ زائرین بھی اگر اس وقت موجود ہیں تو یہ ایک کروڑ افراد کھانا کہاں سے کھارہے ہیں؟ پانی کہاں سے پی رہے ہیں؟ کون سے باتھ روم جارہے ہیں؟ ہر سال کربلا آنے والے کہتے ہیں، عاشور کے دن  مغرب کے بعد آپ کو یہاں چند لاکھ افراد نظر آئیں گے،رش چھٹ جائے گا۔ سڑکیں خالی ہوجائیں گی۔ نقل و حرکت آسان ہوجائے گی۔

جو لوگ حج پر جاچکے ہیں انھیں معلوم ہے کہ 20 سے 25 لاکھ افراد کیلئے پوری سعودی حکوومت کس طرح اعلیٰ پیمانے پر انتظامات کرتی ہے لیکن پھر بھی حج سے واپس آنے والوں کی اکثریت انتظامی امور کے حوالے سے شکوہ شکایات کرتے نظر آتے ہیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ حج سے 10 گناا زائد تعداد اور کوئی سرکاری انتظامات نہ ہونے کے باوجود کربلا سے آنے والے کسی زائر نے آج تک کوئی انتظامی شکایت کبھی نہیں کی۔

کربلا اور نجف میں ان لاکھوں افراد کے آنے جانے کے لیے کتنی گاڑیوں کی ضرورت پڑتی ہے؟ پارکنگ کے لیے کتنی جگہ درکار ہوتی ہے؟ کوئی جگہ خالی کرنے کے بعد صفائی کا کیسا انتظام کرنا پڑتا ہے؟ کربلا کی انتظامیہ یہ سب کرنے کی اہل نظر نہیں آتی، اہل ہوتی تو یہ شہر ٹوٹا پھوٹا ہوتا؟عقیدت مند کہتے ہیں، مولا حسین علیہ السلام کے ماننے والے کسی اور ہی دنیا سے آتے ہیں۔ انھیں گاڑیوں کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انھیں کھانے پینے کی طلب نہیں ہوتی۔ انھیں کوئی اور حاجت نہیں ستاتی، لیکن یہاں کوئی بھوکا بھی نہیں رہتا، اور نہ طلب حاجت کیلئے پریشان سرگرداں نظر آتا ہے کوئی۔۔

یہ امام حسین علیہ السلام کی عظیم کرامت ہے کہ وہ اپنے شہر آنے والے مہمانوں کو کبھی مایوس نہین کرتے، یہ زائرین پریشان نہیں ہوتے، بھوکے نہیں رہتے، اتنا بڑا اجتماع ہے عالمی میڈیا کی خبروں کا مرکز ہے لیکن پاکستان میں میڈیا جسے ایک چھوٹی سے چھوٹی بات بھی پتہ لگ جاتی ہے اور کئی گھنٹوں اس کو پیٹا جاتا ہے کربلا کے ان لاکھوں زائرین کا اجتماع انھیں نظر نہیں آتا۔

کربلا میں شب عاشور ساری رات عبادات و جلوس  جاری رہیں گے اور روز عاشور بھی جلوس و عزاداری اور خصوصی عبادات کا سلسلہ جاری رہے گا، کربلا میں ایک قبیلہ بنی طویریج کے لوگ رہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پچاس ساٹھ سال پہلے ان کے ایک بزرگ نے عاشور کے دن ظہر کے وقت بے قرار ہوکر امام حسین کی قبر سے حضرت عباس کے روضے کی طرف دوڑنا شروع کردیا تھا۔ وہ بوڑھا دوڑتا جاتا تھا اور کہتا جاتا تھا، عباس سکینہ پیاسی ہے، پانی لاؤ، عباس پانی لاؤ۔ غازی کے روضے پر پہنچ کر اس نے ماتم کرتے ہوئے کہا، واویلا عباس واویلا۔

عاشور کے دن ظہر حضرت عباس کی شہادت کا وقت ہے۔ مقتل میں بیان ہے کہ غازی عباس جب گھوڑے سے گرے تو امام حسین علیہ السلام بے قرار ہوکر اس طرف دوڑے تھے،چلا چلاکر کہتے جاتے تھے،عباس ایسا نہ کرو،سکینہ پیاسی ہے، اس کے لیے پانی لاؤ۔ غازی نے پکارکرکہا تھا، آقا، پانی نہیں لاسکا۔ میرا آخری سلام لیجیئے۔ پھر حسین علیہ السلام نے بھائی کی شہادت پر نوحہ  بلند کیا تھا۔

بنی طویریج کے اس بزرگ نے صدیوں پرانے اس المیے کو یاد دلایا تھا۔ اس دن کے بعد یہ روایت بن گئی کہ عاشور کے دن ظہر کے وقت کچھ عزادار بنی طویریج کے محلے سے دوڑنا شروع کرتے ہیں۔ باب قبلہ سے روضہ حسین میں داخل ہوتے ہیں، سکینہ پیاسی ہے، عباس پانی لاؤ کا نوحہ پڑھتے ہیں اور دوڑتے دوڑتے دوسرے دروازے سے روضہ عباس کا رخ کرتے ہیں۔ گزشتہ سال ساٹھ لاکھ افراد امام حسین کے نقش قدم ڈھونڈتے ہوئے بین الحرمین دوڑے تھے۔ اس سال بھی لاکھوں تیار ہیں۔ عراق کا کربلا ٹی وی یہ مناظر براہ راست پیش کرتا ہے۔

یہ مناظر عشق و عقیدت کے مناظر ہوتے ہیں، آلِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی موّدت و قربت کے اظہار کا موقع بھی ہوتا ہے، علمائے کرام کہتے ہیں کہ امام حسین کی محبت فطرت میں شامل ہوتی ہے اس کیلئے مذہب مسلک کی کوئی قید نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ عاشور کے موقع پر کربلا میں، شیعوں کی تعداد کےعلاوہ ایک بڑی تعداد اہلِ سنت کی ہوتی ہے، امام حسین سے اپنی عقیدت کے اظہار کیلئے، سکھوں،عیسائیوں، ہندووں کے قافلے بھی آتے ہیں اور ایک حدود میں رہتے ہوئے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں اور یہ تعداد ہر سال بڑھتی ہی جارہی ہے۔

 

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے