یومِ عاشورحقیقت کے ذریعے طاقت پر غلبے، انصاف کے ذریعے استبداد پر فتح اور ایثار و فداکاری کے ذریعے ظلم پر کامیابی کا ابدی ثبوت ہے۔ آج ہی کے دن دس محرم سنہ اکسٹھ ہجری قمری کو فرزند رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کو کربلا کے میدان میں ان کے اصحاب و انصار کے ساتھ شہید کر دیا گیا تھا۔

عاشورا وہ دن ہے جب حضرت امام حسین (ع) نے میدان کربلا میں حق و باطل، علم و جہل، رضائے الٰہی اور خواہشات نفسانی کے درمیان حد فاصل قائم کرنے والی وہ عظیم و بے مثال قربانی پیش کی کہ محرم الحرام کی نسبت ہی امام عالی مقام سے ہوگئی۔ حضرت امام حسین (ع) کی ذات اقدس اور ان کا مقصد شہادت اتنا بلند ہے کہ ضروری نہیں ہر ذہن ان فضائل، مراتب اور راہ خدا میں اس بے مثال قربانی کا احاطہ کرسکے، جو خاندان نبوت نے میدان کربلا میں پیش کی۔

یومِ عاشور جہاں امام عالی مقام اور ان کے عظیم رفقاء کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کرنے کا دن ہے وہیں یہ دن ہمیں اس بات کا بھی احساس دلاتا ہے کہ ہم واقعہ کربلا کی اصل روح اور پیغام کو دلی طور پر سمجھیں اورحضرت امام حسین (ع) کی جانب سے ایثار و قربانی کی لازوال مثال پر حقیقی معنوں میں عمل پیرا ہونے کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کریں۔

روز عاشورا کے واقعات

عاشورا کی صبح کو امام حسینؑ نے اپنےاصحاب کے ساتھ نماز ادا کی، نماز کے بعد آپ نے اپنی مختصر فوج(32 سوار اور 40 پیادہ) کے صفوں کو منظم فرمایا۔ آپ نے لشکر کے دائیں بازو کو زہیر بن قین اور بائیں بازو کو حبیب بن مظاہر کے سپرد کیا اور پرچم حسینی اپنے بھائی ابوالفضل العباسؑ کے حوالے کیا۔

میدان کے دوسری جانب عمر سعد نے اپنے لشکر کے،جو ایک قول کے مطابق 4000 افراد پر مشتمل تھا،صفوں کو منظم کیا، عمرو بن حجاج زبیدی کو میمنہ، شمر بن ذی الجوشن کو میسرہ، عزرة بن قیس احمسی کو سوار دستے اور شبث بن ربعی کو پیادہ دستے کی کمانڈ دے دی،اسی عبداللہ بن زہیر اسدی کو کوفیوں، عبدالرحمن بن ابی اسیرہ کو مذحج اور بنو اسد، قیس بن اشعث بن قیس کو بنی ربیعہ اور کندہ اور حر بن یزید ریاحی کو بنی تمیم اور ہمدان کی امارت دی اور پرچم کو اپنے غلام زوید (یا درید) کے سپرد کر کےابو عبداللہ الحسینؑ کے خلاف صف آرا ہوا۔

امام حسینؑ نے اتمامِ حجت کی خاطر اپنے کچھ ساتھیوں سمیت دشمن کی طرف تشریف لے گئے اوران کو وعظ و نصیحت فرمائی،امامؑ کی گفتگو کے بعد زہیر بن قین نے آپؑ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے دشمن کو وعظ و نصیحت کی،روز عاشورا کے اہم واقعات میں سے ایک حُر بن یزید ریاحی کا لشکر عمر بن سعد سے نکل کر امام حسینؑ کے لشکر میں شامل ہونا ہے۔

شروع میں دونوں لشکر گروہی شکل میں ایک دوسرے پر حملے کرتے رہے،بعض تاریخی مصادر کے مطابق پہلے ہی حملے میں امام حسینؑ کے 50 اصحاب شہید ہو گئے۔ اس کے بعد انفرادی طور پر تن بہ تن لڑائی شروع ہوئی۔ امامؑ کے با وفا اصحاب دشمن کو امام حسینؑ کے نزدیک ہونے نہیں دیتے تھے۔غیر ہاشمی اصحاب اور ساتھیوں کی شہادت کے بعد بنی ہاشم کے جوان یکے بعد دیگرے میدان میں جانے لگے اور بنی ہاشم میں سے سب سے پہلے میدان میں جانے والا جوان حضرت علی اکبر تھا۔ ان کے بعد ایک ایک کر کے امام بنی ہاشم کے جوانوں نے اپنی اپنی قربانی پیش کیں۔ ابوالفضل العباسؑ جو لشکر کے علمدار اور خیموں کے محافظ تھے، نہر فرات سے خیمہ گاہ حسینی میں پانی لاتے ہوئے دشمن کے ہاتھوں شہید ہوئے۔

بنی‌ہاشم کے جوانوں کی شہادت کے بعد امام حسینؑ خود جنگ کیلئے تیار ہوئے لیکن دشمن کے لشکر سے آپ کے ساتھ مقابلہ کرنے کیلئے کوئی میدان میں آنے کیلئےتیار نہ تھا۔ جنگ کے دوران باوجود اس کہ آپؑ تنہا تھے اور آپ کا بدن زخموں سے چور چور تھا، آپ نہایت بہادری کے ساتھ تلوار چلاتے تھے۔

امام حسینؑ کی شہادت کے بعد کے واقعات

آپ کی شہادت کے بعد دشمن کی فوج آپ کے جسم مبارک پرموجود ہر چیز لوٹ کر لے گئی؛ قیس بن اشعث اور بحر بن کعب نے آپ کی قمیص ، اسود بن خالد اودی نے آپ کے نعلین‌، جمیع بن خلق اودی نے آپ کی تلوار شمشیر، اخنس بن مرثد نے آپ کا عمامہ، بجدل بن سلیم نے آپ کی انگوٹھی اور عمر بن سعد نے آپ کا زرہ لُوٹ لیا۔

خیموں کی غارت گری

اس کے بعد دشمن نے خیموں پر حملہ کیا اور ان میں موجود تمام سامان لوٹ لیا اور اس کام میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے تھے۔ شمر امام سجادؑ کو قتل کرنے کی خاطر دشمن کے ایک گروہ کے ساتھ خیموں میں داخل ہوئے لیکن حضرت زینب(س) اس کام میں رکاوٹ بنیں۔ بعض مورخین کے مطابق دشمن کے بعض سپاہیوں نےشمرکےاس کام پر اعتراض کیا اوراسے اس کام سے بازرکھا۔ ابن سعد نے اہل حرم کو ایک خیمے میں جمع کرنے کا حکم دیا پھر ان پر بعض سپاہیوں کی پہرے لگا دیا گیا۔

لاشوں پر گھوڑے دوڑایا جانا

ابن زیاد کے حکم پر عمر سعد نے اپنی فوج کے دس سپاہیوں کے ذریعے امام حسینؑ اور ان کے با وفا اصحاب کے جنازوں پر گھوڑے دوڑائے جس سے شہداء کے جنازے پامال ہو گئے،اسحاق بن حویہ، اخنس بن مرثدحکیم بن طفیل، عمرو بن صبیح، رجاء بن منقذ عبدی، سالم بن خیثمہ جعفی، واحظ بن ناعم، صالح بن وہب جعفی، ہانی بن ثبیت حضرمی اور اسید بن مالک  ان افراد میں شامل تھے جنہوں نے شہداء کے بدن پر گھوڑے دوڑائے۔

شہداء کے سروں کی کوفہ اور شام بھیجوانا

عمر بن سعد نے اسی دن امام حسینؑ کے سر مبارک کو خولی اورحمید ابن مسلم کے ساتھ کوفہ عبیداللہ بن زیاد کے پاس بھیج دیا۔ اسی طرح اس نے اپنے سپاہیوں کو لشکرِ حسینی کے دیگر شہداء کے سروں کو بھی ان کےجسم سےجدا کرنے کا حکم دیا اوراس سب کو جن کی تعداد 72 تھیں، شمر بن ذی الجوشن، قیس بن اشعث، عمرو بن حجاج اور عزره بن قیس کے ساتھ کوفہ روانہ کیا۔

اہل حرم کی اسیری

واقعہ عاشورا کے دن امام زین العابدینؑ سخت بیمار تھے۔ اسی وجہ سے آپ جنگ میں شرکت نہ کر سکے یوں مردوں میں سے صرف آپ زندہ بچ گئے اور حضرت زینب(س) سمیت اہل حرم کے دوسرے افراد کے ساتھ دشمن کے ہاتھوں اسیر ہوئے۔ عمر بن سعد اور اسکے سپاہی اسرا کو کوفہ میں ابن زیاد کے پاس لے گئے پھر وہاں سے انہیں یزید بن معاویہ کے پاس شام میں لے جایا گیا۔

شہدائے عاشورا کی تدفین

مؤرخین کے مطابق عمر بن سعد کے کربلا سے چلے جانے کے بعد شہداء کو 11 محرم الحرام کے دن دفن کیا گیا؛ جبکہ بعض مورخین کے مطابق 13 محرم شہداء کی تدفین کا دن ہے۔ اہلِ سنت مؤرخین کا اتفاق ہے کہ امام حسینؑ اور آپ کے اصحاب کو 11 محرم سنہ 61 ہجری کے دن سپرد خاک کیا گیا ہے۔

یہ مظلومیت، یہ بے کسی کیا یزیدیت کے اس ظلم پر بھی نہ رویا جائے، احتجاج نہ کیا جائے۔۔۔؟؟ اسی لیئے تو کہتے ہیں اہل فکر و دانش کے پاس دوہی راستے ہیں اایک حیسنیت اور دوسرا یزیدیت، ظلم کا ساتھ دینے والوں کیلئے یزیدیت ہے جبکہ مظلوم کا ساتھ دینے، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے اور حق کیلئے اپنا سب کچھ لُٹا دینے کاا نام ہی حسینیت ہے، حسینیت کیلئے شیعہ ہونا ضروری نہیں بلکہ انسانیت کا ہونا ضروری ہے۔

انسان  کو   بیدار  تو   ہو  لینے   دو

ہرقوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے