اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر مشیل باشلے  نے جنیوا میں جاری انسانی حقوق کونسل کے 42 ویں اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں انٹرنیٹ اور دیگر ذرائع مواصلات، پُرامن اجتماعات پر پابندی اور مقامی سیاسی قیادت کی گرفتاریوں پر تشویش ہے۔

 انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت جموں و کشمیر میں لاک ڈاؤن اور کرفیو میں نرمی لائے اور انسانی حقوق کی پاسداری اور تحفظ کرے، عوام کی بنیادی سہولیات تک رسائی ممکن بنائے۔ان کا کہنا ہے کہ کشمیریوں کے مستقبل کے حوالے سے کسی بھی فیصلہ سازی میں کشمیری عوام کی خواہشات اور رائے کو شامل کیا جائے۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر نے بھارتی ریاست آسام میں شہری اندراج کے عمل پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ 31 اگست کو جاری ہونے والی شہری فہرست سے 19 لاکھ کے قریب افراد کو خارج کرنے سے لوگوں میں بے چینی ہے۔ 

بھارتی حکومت سے پرزور اپیل کی گئی کہ مطلوبہ عمل میں لوگوں کی شکایات کا ازالہ اور شہریت منسوخی کیخلاف اپیلوں کے دوران قانونی ضابطوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی جانب سے مسلسل 36 روز سے لاک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث وادی میں انسانی المیہ جنم لے چکا ہے۔قابض انتظامیہ کی جانب سے مسلسل لاک ڈاؤن سے بچوں کے دودھ، ادویات اور اشیائے ضروریہ کی شدید قلت ہوگئی ہے جبکہ مقبوضہ وادی میں ٹیلیفون، موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بالکل بند ہے۔

اس حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ مشترکہ بیان کی 58 ملکوں نے حمایت کر دی، ان ممالک نے بھارت کے سامنے 5 مطالبات رکھ دیے ہیں۔پہلا مطالبہ ہے کہ کشمیریوں سےآزادی نہ چھینی جائے، اور گرفتار رہنماؤں کو رہا کیا جائے۔مشترکہ بیان کے تحت دوسرا مطالبہ ہے کہ بھارتی حکومت عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر میں رسائی دے۔یو این کونسل کے تحت عالمی برادری نے تیسرا مطالبہ کیا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کمیونیکیشن بلیک آؤٹ ختم کرے۔چوتھا مطالبہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو کا فوری خاتمہ کیا جائے، جب کہ پانچواں مطالبہ ہے کہ انسانی حقوق کمشنر کی سفارشات پر عمل کیا جائے۔

مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر برطانوی خبر رساں ایجنسی نے بھی رپورٹ شایع کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فوج رات کو گھروں پر چھاپے مار کر نوجوانوں کو اٹھا کر بد ترین تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔

دوسری جانب وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے یواین انسانی حقوق کمشنرمیشل بیشلیٹ سے ملاقات میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے آگاہ کردیا اور کہا انسانی حقوق کمیشن کو مقبوضہ کشمیر کے عوام کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا۔

وزیرخارجہ نے کہا مقبوضہ کشمیرمیں یکطرفہ اقدام یواین قراردوں کی خلاف ورزی ہے، بھارت نےمقبوضہ کشمیرمیں 6  ہزارمعصوم شہریوں کوگرفتارکیا، لوگ کرفیو سےدواؤں، کھانے پینے کی اشیا سے محروم ہیں۔شاہ محمودقریشی کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کمیشن کو مقبوضہ کشمیر کے عوام کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے