ڈینگی کا شکار

وفاقی دارالحکومت سمیت مختلف شہروں میں ڈینگی وائرس نے وبائی صورت اختیار کر لی ہے اور اب تک  2900 سے زائد افراد ڈینگی کا شکار بن چکے ہیں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں اسلام آباد میں 53 جب کہ پنجاب میں مزید 200 سے زائد افراد میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے جبکہ ملک بھر میں یہ تعداد ہزاروں میں ہے۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں چوبیس گھنٹے کے دوران پمز اسپتال میں 31، پولی کلینک میں 22 افراد میں ڈینگی کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس وقت پمز اسپتال میں 32 اور پولی کلینک میں 18 مریض زیر علاج ہیں،پمز میں اب تک ڈینگی کے 1713، پولی کلینک میں 74 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جب کہ پنجاب بھر میں ڈینگی کے 1219 کیسز ریکارڈ ہوئے، چوبیس گھنٹوں میں مزید 133 افراد میں ڈینگی کی تصدیق ہوئی ہے۔

لاہور سے 2، بہاولپور، لودھراں، ملتان اور نارووال سے ایک ایک مریض رپورٹ ہوا ہے، صوبے میں مریضوں کی تعداد 1229 ہو گئی۔ڈینگی کیسز میں اضافے کے باعث اسلام آباد کے سرکاری اسپتالوں میں قایم ڈینگی آئیسولیشن وارڈز میں بیڈز کی تعداد بڑھا دی گئی ہے۔

محکمہ صحت نے 2 مریضوں کی اموات کی بھی تصدیق کر دی ہے،راولپنڈی کی رہایشی نادیہ اور بابردوران علاج دم توڑ گئے، کوہاٹ کی تحصیل لاچی میں 12 افراد میں ڈینگی کی تصدیق ہوئی، اُدھر پشاورمیں ڈینگی سےمتاثرہ 25 افراد اسپتال میں داخل ہوئےہیں،میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق پشاور میں ڈینگی سے متاثرہ 25 افراد مختلف اسپتالوں میں داخل کیے گئے، 12 نئے مریضوں سمیت 22 افراد خیبر ٹیچنگ اسپتال میں زیر علاج، لیڈی ریڈنگ اسپتال میں 2، ایج ایم سی میں ایک مریض زیر علاج ہے۔

 

 

 

ڈینگی پھیلنے کی وجوہات:

ڈینگی بخار بھورے رنگ کے دھاری دار Ades Egyptingکی مادہ مچھر کے کاٹنے سے ہوتاہے جسے ڈینگی مچھر بھی کہا جاتاہے جس کی ٹانگیں دیگر مچھروں سے لمبی ہوتی ہیں اور یہ صاف پانی میں پیدا ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈینگی بخار مادہ مچھروں کے کاٹنے سے ہوتاہے۔

یہ مچھر صبح طلوع آفتاب سے لے کر 8بجے تک اور شام غروب آفتاب کے وقت باہر نکلتے ہیں اور لوگوں کو کاٹتے ہیں۔ امریکی تحقیقات کے مطابق ڈینگی بخار کا مرض امریکی بندرگاہ پر پرانے برآمد شدہ ٹائروں میں کھڑے پانی کی وجہ سے پھیلا۔

پاکستان میں بھی سب سے پہلے کراچی بندرگاہ ڈینگی بخار کی وجہ بنی، جہاں سے یہ وائرس پورے پاکستان میں پھیلا۔ صوبائی دارالحکومت میں ڈینگی بخار کے زیادہ تر مریضوں کا تعلق لاہور ریلوے سٹیشن اور ڈرائی پورٹ سے ملحقہ علاقوں سے تھا۔ 

ڈینگی مچھر صاف پانی کھڑا ہونے سے پھیلتا ہے۔ مکان کی چھتوں پر پڑی بے کار اشیاءٹوٹے ہوئے گملے، پودوں کی نرسریاں، پانی کی موٹروں سے بہنے والا پانی، فریج کی ٹرے، کھلی جگہوں پر پڑے پرانے ٹائر اور ائیر کولر ڈینگی مچھر کے پیدا ہونے کے لئے بہترین آماجگاہیں ہیں، لہٰذا لوگوں کو چاہئے کہ وہ گھروں کی چھتوں سے بےکار اشیاءفوری طور پر تلف کردیں۔ گملوں ، فریج کی ٹرے سے پانی نکال دیں تاکہ مادہ مچھر انڈے نہ دے سکے۔


ڈینگی بخار:

ڈینگی  کوئی نیا مرض نہیں ہے۔  یہ ایک مخصوص قسم کے مچھر کے کاٹنے سے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے۔ اس کا زیادہ تر شکار ایشیائی ممالک کے باشندے ہیں۔  لیکن گھبرانے کی کوئی بات نہیں، یہ مکمل طور پر ایک قابل علاج مرض ہے۔

ڈینگی بخار کی علامات:

اس مرض میں مریض کو تیز بخار کے ساتھ ساتھ  سر میں بہت سخت درد ہونے لگتا ہے۔
بلڈ پریشر بہت کم ہو جاتا ہے۔ جسم اچانک بہت ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔
گھٹنوں میں تکلیف اور جوڑوں میں بھی درد ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
جسم انسانی کی قوت مدافعت تقریبا ختم ہو جاتی ہے۔
سرخ رنگ کے دھبے پورے جسم پر ظاہر ہونے لگتے ہیں۔

ڈینگی بخار کے مراحل:

ڈینگی بخار کے چار مراحل ہوتے ہیں۔ ابتدائی دو مراحل میں علاج آسانی سے ہو سکتا ہے۔ لیکن آخری دونوں مراحل میں جان بچانا ناممکن ہو جاتا ہے۔ یہ چاروں مراحل نیچے بیان کیے گئے ہیں۔

پہلا مرحلا: مریض کو شدید بخار اور اوپر بیان کردہ علامات بھی ظاہر ہونے لگتی ہیں۔

دوسرے مرحلے:  پہلے مرحلے کی علامات کے  ساتھ ساتھ بڑی آنت، مسوڑھوں اور جلد سے خون بہنے لگ جاتا ہے۔
تیسرے مرحلے: میں نظام دوران خون بھی شدید طور پر متاثر ہوتا ہے۔

چوتھے مرحلے: میں مریض کے لیے تکلیف ناقابل برداشت ہو جاتی ہے۔ اور قوت مدافعت کے نا ہونے کی وجہ سے وہ کئی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔

ڈینگی بخار سے بچاو کے لیے احتیاطی تدابیر:

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہونے والی اموات میں ڈینگی بخار سے ہونے والی اموات کا تناسب چار  فیصد ہے۔  صرف احتیاط سے ہی اس مرض سے مکمل بچاو ممکن ہے۔

چونکہ اس مرض کو  پھیلانے والے مچھرصرف صاف پانی میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ اس لیے اپنے گھروں اور باغیچوں میں کہیں پر بھی صاف پانے کو کھڑا مت ہونے دیں۔ صاف پانے کے تمام برتنوں کو ڈھانپ کر اور واٹر ٹینک کو ہمیشہ ڈھکن لگا کر رکھیں۔ 

مچھر مارنے والے سپرے کا باقاعدگی سے استعمال کریں اور گھر کے ہر کونے اور بستروں اور صوفہ سیٹ وغیرہ کے نیچے سپرے لازمی کیا کریں۔

ڈینگی پھیلانے والا مچھر ذیادہ تر طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے اوقات میں حملہ آور ہوتا ہے۔ اس لیے ان اوقات میں خصوصی احتیاط کیا کریں۔ مچھر دانی اور مچھر بھگانے والے لوشن کا استعمال بھی ایک اچھی احتیاط ہے۔

ڈینگی بخار  کا علاج:

کمزور قوت مدافعت کے حامل لوگ، کم صحتمند افراد، ضعیف لوگ اور بچے اس مرض سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ البتہ جدید تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ بخار اتنا خطرناک نہیں جتنا اس کو سمجھا جاتا ہے۔  ضروری دیکھ بھال اور باقاعدہ علاج سےصرف  ایک ہفتے  سے دو ہفتے کے دوران مکمل شفا حاصل ہو جاتی ہے۔

طبی ماہرین کی تحقیق  کے مطابق ڈینگی بخار کے علاج کے لیے پپیتے کے پتے اور شہد کا استعمال بہترین ثابت ہوا ہے۔ ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  شہد کو پانی میں حل کر کے پینا پسند فرماتے تھے۔ بالکل اسی طرح ایک پیالی نیم گرم پانی میں ایک چمچہ شہد ملا کر دن میں تین بار کھانے سے کچھ دیر پہلے مریض کو پلا دیا کریں۔

پپیتے کے پتوں کا رس نکال کر صبح اور شام پلانا بھی  ڈینگی بخار کا شافی علاج ہے۔
بکری کا دودھ بھی اس مرض میں نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ مریض کو دن میں بار بار بکری کا دودھ پلاتے رہنا چاہیئے۔

نوٹ: ڈینگی کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر یا قریبی اسپتال سے رجوع کریں، یہاں دی گئی معلومات اور ممکنہ غذائی علاج صرف عوام کی آگاہی کیلئے ہیں ادارہ پر اس حوالے سے کسی بھی قسم کی ذمہ داری نہیں ہے۔

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے