روس نے خبر دار کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کی طرف سے مقبوضہ مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کے اعلان سے خطے میں کشیدگی اور تناﺅ میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

روسی وزارت خارجہ نے اسرائیلی منصوبے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے کسی بھی اقدام سے خطے میں تناؤمیں تیزی سے اضافہ ہوسکتا ہے اور اسرائیل اور اس کے عرب ہمسایہ ممالک کے مابین امن منصوبے کی امیدوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔روسی حکومت کا کہنا تھا کہ یک طرفہ اقدامات سے دو ریاستی حل کی مساعی کو بری طرح نقصان پہنچ سکتا ہے۔ 

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے منگل کے روز مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے وادی اردن کو 17 ستمبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد اسرائیل میں ضم کردیں گے۔نیتن یاہو نے ٹیلی ویژن خطاب میں کہاکہ ایک ہی جگہ ہے جہاں ہم انتخابات کے بعد ہی اسرائیلی خودمختاری کا اطلاق کرسکتے ہیں۔

اس سے قبل اردن کے وزیر خارجہ ایمن صفدی نے اپنے رد عمل میں کہا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم کے اس اعلان سے واضح ہوتا ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کو الحاق کرنے اور وادی اردن اور شمالی بحیرہ مردار پر اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ۔

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے