یہ حکم جاری کیا ہے فلپائن کے صدر روڈریگو ڈوٹیرٹے نے، جنھوں نے عوام کو اجازت دی ہے کہ وہ ایسے سرکاری ملازمین کو گولی مار دیں جو رشوت لیتے ہوں اور کرپشن میں ملوث ہوں تاہم انہیں قتل نہ کریں، صرف زخمی کر دیں۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق صدر نے عوام نے سے کہا ہے کہ احتیاط سے کام لیتے ہوئے راشی اور بدعنوان افسر کو گولی مار کر زخمی کرنا ہے کیونکہ اس کی ہلاکت کی صورت میں ملکی قوانین مجھے اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ میں قتل کرنے والے کو معاف کر دوں۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکس، فیس کی ادائیگی کے معاملے میں یا کوئی سرٹیفکیٹ یا دستاویز بنوانے کے لیے اگر کوئی سرکاری ملازم آپ سے رشوت طلب کرے تو ہتھیار ہونے کی صورت میں آپ اسے گولی مار سکتے ہیں۔سخت گیر فلپائنی صدر نے عوام سے وعدہ کیا ہے کہ اس اقدام پر عوام کو جیل نہیں جانے دیں گے، آپ کو صرف جسمانی سزا ملے گی۔
دوسری جانب فلپائنی صدر کے حکم کے بعد سرکاری ملازمین میں شدید خوف پیدا ہوگیاہے، اس حوالے سے ناقدین کاکہنا ہے کہ اگرچہ فلپائنی صدر کا یہ حکم انسانی اقدار کے لحاظ سے درست قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ اس سےافراتفری پھیلنےاورآپسی دشمنیاں نکالنے کیلئےآزادانہ فائرنگ کرنے کے واقعات بڑھ سکتے ہیں تاہم یہ حقیقت ہے کہ اس حکم سے فلپائن میں کرپشن میں نمایاں کمی واقع ہوگی اوراگرعوام نےاس حکم کا صحیح استعمال کیا تو فلپائن بہت جلد کرپشن سے پاک ملک بن سکتا ہے۔