بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم سے ملاقات کی جانب اشارہ تو دیا ہے لیکن انھوں نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کا وقت اور مقام کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا تاہم انہوں نے ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم ہونے کا ذکر کیا ہےامریکی صدر نے مزید کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں کمی پر بہت پیشرفت ہوئی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہےکہ صدر ٹرمپ کے شیڈول کے مطابق وہ وزیراعظم عمران خان سے رواں ماہ نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر سائیڈ لائن پر ملاقات کرسکتے ہیں،بھارتی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 22 ستمبر کو ہیوسٹن میں بھارتی وزیراعظم مودی کی ایک ریلی سے بھی خطاب کریں گے،رواں برس جولائی میں بھی عمران خان امریکا کے دورے پر گئے تھے اور ان کی ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ہوئی تھی جس میں امریکی صدر نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی تھی۔
جنگ نہیں چاہتا، ٹرمپ

دوسری جانب سعودی آئل تنصیبات پر حملے سے متعلق بات کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مجھے لگتا ہے کہ ان حملوں کے پیچھے ایران ہے لیکن میں جنگ کی طرف نہیں جانا چاہتا۔انہوں نے کہا کہ اگر ایران ان حملوں کے پیچھے ہے تو امریکا اب بھی اس حوالے سے تحقیقات کررہا ہے، اور اس موقع پر یہ یقیناً واضح دکھائی دے رہا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو سمیت کئی امریکی کابینہ ارکان نے الزام لگایا ہےکہ ان حملوں کے پیچھے تہران ہے، مائیک پومپیو اور دیگر جلد ہی سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ میں جنگ کو پسند نہیں کرتا اور ایسا کرنے کی کوئی جلدی نہیں، ہمارے پاس کئی آپشن ہیں مگر ہم اس آپشن پر غور نہیں کررہے، ہم حتمی طور پر جاننا چاہتے ہیں یہ کس نے کیا۔
سعودی آئل تنصیبات پر حملوں کی ذمہ داری حوثی باغیوں نے قبول کی جب کہ امریکی صدر نے اس کا الزام ایران پر لگاتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا ہتھیار بند اور نشانہ بند ہے صرف سعودی عرب کے جواب کا انتظارہے۔