برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں طالبان امن مذاکرات کے سربراہ شیر محمد عباس ستانکزئی نے افغانستان میں امن کے لیے صرف مذاکرات کو ہی واحد راستہ قرار دیا۔انہوں نے امریکا کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے کچھ غلط نہیں کیا۔شیر محمد عباس کا کہنا تھا کہ امریکیوں نے ہزاروں طالبان کو قتل کیا لیکن اسی دوران اگر ایک بھی امریکی فوجی کو قتل کردیا جاتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں اس طرح کا رد عمل دینا چاہیے کیونکہ دونوں طرف سے سیز فائر نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری طرف سے مذاکرات کے دروازے اب بھی کھلے ہیں لہٰذا ہم امید کرتے ہیں کہ دوسری طرف سے بھی مذاکرات کے حوالے سے کیے گئے فیصلے پر دوبارہ غور ہوگا۔طالبان رہنما کا کہنا تھا کہ طالبان اور غیر ملکی افواج کے درمیان سیز فائر پر عملدرآمد معاہدے پر دستخط کے بعد بھی ہوگا تاہم اس وقت طالبان اور افغان حکومت کے درمیان کوئی سیز فائر نہیں ہے۔شیر محمد عباس نے تصدیق کی کہ طالبان نے امن مذاکرات میں مدد کے لیے روس اور چین تک رسائی حاصل کرلی تھی۔
دوسری جانب افغان طالبان رہنما کے بیان پر افغان مشیر سلامتی ڈاکٹر حمداللہ کاکہنا تھا کہ طالبان کی دھمکانے کی پالیسی کامیاب نہیں ہوگی، ایک ہی راستہ ہے وہ افغان حکومت سے مذاکرات سے ہی ملک میں امن دیکھ سکتے ہیں۔واضح رہےکہ افغان طالبان اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے بعد تقریباً معاملات طے پاچکے تھے جس کی تصدیق زلمے خلیل زاد کی جانب سے بھی کی گئی تھی تاہم کابل دھماکوں کے بعد امریکی صدر نے طالبان سے مذاکرات کا عمل منسوخ کردیا۔

امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں جن چار نکات پر توجہ مرکوز کی گئی ان میں پہلی چیز یہ تھی کہ طالبان غیر ملکی جنگجوؤں کو دوسرے ممالک پر حملے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے، دوسرا یہ کہ افغانستان سے امریکی اور نیٹو فورسز کا مکمل انخلا، تیسرا افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات اور چوتھا نکتہ مکمل سیز فائر تھا۔
تاہم اس حوالے سے طالبان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں فائر بندی کبھی بھی مذاکرات کا حصہ نہیں رہے تاہم افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات پر بات کی گئی لیکن وہ بھی اس صورت میں کہ جب افغانستان سے غیر ملکی فوجیں مکمل طور پر نکل جائیں۔
طالبان ترجمان نے کہا کہ دوسرے افغانوں کی طرح ہم بھی امریکا کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں، اگر ان کے ساتھ فائر بندی کا معاہدہ ہو جاتا ہے تو ان پر حملے نہیں ہوں گے لیکن یہ افغانستان کے معاملے کا ایک دوسرا ایشو ہے، ہم پہلے افغانستان سے غیر ملکی فورسز کا انخلا چاہتے ہیں۔معاہدے کی صورت میں طالبان کی جانب سے امریکا کو افغانستان سے فوجوں کے انخلا کے لیے محفوظ راستہ دینے کا نکتہ بھی شامل تھا لیکن یہ چیز معاہدہ طے پا جانے کی صورت میں تھی۔

طالبان کے مطابق اگر ہم امریکا کے ساتھ معاہدہ کرتے ہیں تو یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان پر حملے نہ کریں اور انہیں محفوظ راستہ فراہم کریں، اور اگر وہ معاہدے کے بغیر جاتے ہیں تو یہ ہماری صوابدید ہے کہ ہم ان پر حملہ کرتے ہیں یا انہیں جانے دیتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکا چاہتا ہے کہ ہم ان پر حملے نہ کریں تو وہ ہمار ےساتھ معاہدہ کر لے، ہم ان پر حملے نہیں کریں گے لیکن اگر وہ اپنی بربریت جاری رکھتا ہے، رات کے آپریشن جاری رکھتا ہے تو ہم بھی وہی انداز اپنائیں گے جو گزشتہ 18 سال سے جاری ہے۔