افغان انٹیلی جنس آفس کے باہر ٹرک بم دھماکہ، 25 افراد ہلاک درجنوں زخمی

افغان حکام کے مطابق زابل میں انٹیلی جنس ایجنسی کے دفتر کے قریب ہونے والے بم دھماکے میں 85 افراد زخمی بھی ہوئے جبکہ حکام نے دھماکے میں 25 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے کا ہدف انٹیلی جنس سروسز کی عمارت تھی۔

امریکا اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات ختم ہونے کے بعد افغانستان میں بم دھماکوں اور تخریب کاری کی کارروائیوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔دو روز قبل بھی افغانستان میں امریکی سفارتخانے اور صوبے پروان میں ہونے والے بم دھماکوں میں 48 افراد ہلاک ہو گئے تھے، ایک دھماکے میں افغان صدر اشرف غنی بھی بال بال بچ گئے تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان کے صوبے  زابل میں ہونے والا خودکش دھماکا نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی (این ڈی ایس) کے قریب صبح 6 بجے ہوا، دہشت گردی کی اس کارروائی کی ذمہ داری مقامی طالبان نے قبول کرلی،مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ حادثے کے نتیجے میں قریب واقع عمارتیں اور مکانات متاثر ہوئے ہیں،ہنگامی خدمات انجام دینے والے عملے نے زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔صوبائی کونسل کے سربراہ عطا جانحق بیان کا کہنا ہے کہ’حادثے کےنتیجے میں 20 سے زائد افراد ہلاک اور 60 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے‘۔

تحریک طالبان افغانستان نے زابل حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے کا ہدف افغان سیکیورٹی ایجنسی این ڈی ایس کا دفتر تھا،گزشتہ ماہ بھی افغانستان کے شہر کابل میں واقع ضلعی پولیس ہیڈکوارٹرز کے باہر صبح 6 بجے دہشت گردی کی کارروائی ہوئی تھی جس کے نتیجے میں 28 افراد ہلاک جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے، جس کی ذمہ داری مقا می طالبان نے قبول کی تھی۔ خیال رہے کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات ختم ہونے کے بعد افغانستان میں بم دھماکوں اور تخریب کاری کی کارروائیوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

 

Share This Article

تازه ترین