ایران کےسپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے تہران میں عراقی موکب داروں اوراربعین مارچ کے منتظمین کی خدمات اور مہمان نوازی کی قدر دانی کرتے ہوئے کہا ہے کہ چہلم امام حسین علیہ اسلام پراربعین مارچ روز بروز آفاقی حیثیت اختیار کرتا جارہا ہےجس کی دنیا میں کوئی مثال نہی ملتی، انھوں نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام کا پیغام دنیا کو کفر و سامراج کے محاذ کی حکمرانی سے نجات دلائے گا۔
آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نےکہا کہ اربعین مارچ بےنظیرعالمی موضوع بن گیا ہےجومعرفت حسینی کی ترویج اورنئے اسلامی تمدن کی تشکیل کا باعث بنےگا،انھوں نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام صرف شیعہ مسلمانوں کیلئے مخصوص نہیں، بلکہ شیعہ سنی سمیت تمام اسلامی فرقوں اور پوری انسانیت سے تعلق رکھتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم حضرات بھی بڑی تعداد میں اربعین مارچ میں شرکت کرتے ہیں۔

سید علی خامنہ ای نے کہا کہ اگر مغربی ایشیا سے لیکر شمالی افریقہ تک پھیلی ہوئی مسلم اقوام کی بے شمار توانائیاں اور صلاحتیں ایک دوسرے سے متصل اور عملی شکل اختیار کرلیں، تو حقیقی الہی عزت وعظمت اور عظیم اسلامی تمدن دنیا والوں کے سامنے آشکارہ ہوجائے گا آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ایران و عراق کے عوام کو یک جان دو قالب قرار دیتے ہوئے کہا کہ دشمن نے دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے، لیکن خدا کے فضل سے وہ ایسا نہیں کرسکے اور آئندہ بھی نہیں کرسکیں گے کیونکہ خداوند تعالی پر ایمان، محبت اہلیبت علیھم السلام اور عشق حسین علیہ السلام نے ایران و عراق کے عوام ایک لڑی میں پرو دیا ہے۔
ایراانی سپریم لیڈرنےایرانی عوام کےخلاف 40 برس سے جاری امریکہ اور اس کے ایجنٹوں کی سازشوں، دھمکیوں اور پابندیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام ترسازشوں کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران ایک نوخیز پودے سے ایک تناور درخت میں تبدیل ہوگیا ہے اور اس کے ثمرات میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے خطاب کے آخری حصے میں، امریکہ اور صیہونی حکومت کی نابودی سے متعلق حاضرین کے نعروں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خدا کے فضل و کرم سے، یہ نعرے عنقریب حقیقت کا روپ دھاریں گے اور امت مسلمہ اپنے دشمنوں پر کامیاب ہوگی۔

یاد رہے کہ چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر ہر سال کروڑوں افراد نجف سے کربلاتک پیدل مارچ کرتے ہوئے روضہ امام حسین علیہ السلام پہنچتے ہیں گذشتہ برس یہ تعداد 3 کروڑ زائرین سے زائد تھی جس میں ہر سال نہ صرف اضافہ ہورہاا ہے بلکہ اس میں تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد جوق در جوق شریک ہوتے ہیں، نجف سے کربلاا تک تقریباً 2 سو کلومیٹر کے راستے پر ہزاروں کی تعداد میں مقامی اور ایرانی افراد کی جانب سے زاائرین کی سہولیات کیلئے انتظامات کیئے جاتے ہیں، دنیاا میں اس سے بڑا اجتماع آج تک ریکارڈ پر نہیں ہے لیکن کئی ممالک خاص طور پر عرب و مسلم ممالک اس تاریخ ساز اجتماع اور مارچ کو کبھی کوریج نہیں دیتے، لیکن مذہب و مسلک سے بالاترجو بھی ایک دفعہ اس اربعین مارچ میں شرکت کرتا ہے وہ دل و جان سے اس کی اہمیت و حیثیت کو قبول کرلیتا ہے۔