سابق صدر آصف علی زرداری کا احتساب عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حکومت مراد علی شاہ سمیت جس کو گرفتار کرنا چاہتی ہےکرلے اور ان سب کو گرفتار کر کےاپنا شوق پورا کرلے، اب ہمیں پروڈکشن آرڈرز کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شرکت سے متعلق سوال پر پیپلز پارٹی کے صدر نے کہا کہ میں تو جیل میں ہوں، دھرنے میں شرکت کا فیصلہ بلاول بھٹو کریں گے،راولپنڈ کے موسم سے متعلق سوال پر سابق صدر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ آج کل بارشیں ہو رہی ہیں اور پنڈی کا موسم بدل رہا ہے۔ضمانت سے متعلق سوال پر آصف زرداری نے کہا کہ ضمانت کا کوئی فائدہ نہیں، ہم سکون سے بیٹھے ہیں، انکو اپنا شوق پورا کرنے دیں۔
علاوہ ازیں احتساب عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔میگا منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری اوران کی ہمشیرہ فریال تالپورکواحتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

سماعت کے موقع پر آصف علی زرداری کو نیب کی جانب سے ان کے خلاف دائر ریفرنس کی کاپیاں بھی فراہم کی گئیں، آصف زرداری کے وکیل لطیف کھوسہ نے جیل میں اے سی نہ دیئے جانے کا معاملہ اٹھا دیا،لطیف کھوسہ نے کہا عدالت نے کہا تھا کہ آصف زرداری کو اے سی دیں لیکن اے سی نہیں دیا گیا، آپ نے کہا فریج دیں لیکن انہوں نے برف کے ڈبے دے دیئے۔
عدالت نے آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے خلاف میگا منی لانڈرنگ اور پارک لین کیسز کی سماعت 4 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت پر ملزمان پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔
سماعت کے بعد رہنما پیپلز پارٹی نفیسہ شاہ کا احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آصف زرداری سمیت دیگر شخصیات کو بکتر بند گاڑیوں میں لایا جا رہا ہے، آج کیس میں حاضری ہوئی لیکن کیس آگے نہیں چلا۔نفیسہ شاہ نے کہا کہ ریفرنسز پر ریفرنسز بنائے جا رہے ہیں لیکن آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر نہیں جاری کئے جا رہے، یہ احتساب نہیں انتقام ہے۔