کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا کیس قومی احتساب بیورو (نیب) میں ہے اس بارے میں نیب کو پتہ ہے کہ کیا کرنا ہےحکومت کا اس سلسلے میں کوئی کام نہیں،گرفتاریوں پر اپوزيشن کی طرف سے ٹف ٹائم دینا کوئی معنی نہيں رکھتا، جنہوں نے گاجریں کھائی ہیں انہی کے پیٹ میں درد اٹھتا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ نیب اپنا کام آزادانہ کررہا ہے جس کسی نے بھی ملکی خزانے کو نقصان پہنچایا ہے اسے حساب دینا ہوگا،انہوں نے کہا کہ خورشید شاہ کی گرفتاری سے کچھ نہیں ہوگا جو غلط کام کرتا ہے وہ قانون کو جواب دہ ہے۔
اسلام آباد لاک ڈاون کے حوالے سےاعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان ملکی حالات کو مدنظررکھ کر احتجاج کا فیصلہ واپس لیں، اس وقت کشمیری عوام پر بہت ظلم و ستم ہورہا ہے مولانا فضل الرحمان اگراحتجاج کرنا چاہیں تو آئین و قانون کے مطابق کریں۔ احتجاجی دھرنا ہرشہری کا حق لیکن قانون اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔پاک افغان تجارت کے حوالے سے اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ طورخم بارڈر دونوں ممالک کے عوام کے بہتری کیلئے 24 گھنٹے کھول دی ہے تاکہ تاجروں کو کوئی مشکل نہ ہو اور وہ آزادانہ تجارت کرسکیں،وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ کوئٹہ میں سیف سٹی پروجیکٹ پر کام شروع ہے اور شہر کے مختلف علاقوں میں کیمرے نصب کررہے ہیں تاکہ امن و امان کے ماحول میں بہتری ہو۔
دوسری جانب ترجمان وزیر اعظم ندیم افضل چن نے ن لیگ کی ڈیل کو نواز شریف اور شہباز شریف کی آپس کی لڑائی قرار دے دیا،اپنے ویڈیو بیان میں ندیم افضل چن نے کہا کہ صرف اپوزیشن سے سن رہےہیں میاں صاحب ڈیل کے لئے نہیں مان رہے،یہ شہباز شریف اور نوازشریف کا اندرونی معاملہ اورآپس کی لڑائی ہے، وضاحت کریں کون ڈیل چاہتا ہے اور کون ڈیل نہیں چاہتا۔
ترجمان وزیراعظم کے مطابق حکومت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ ہمارا ان کیسزسے کوئی تعلق نہیں، کرپشن کیسزعدالتوں میں ہیں، ان کا سامنا کریں۔ یہ لوگ باربارکہتےہیں ہم ڈیل نہیں لیں گے، مگر یہ حکومتی معاملہ نہیں،ندیم افضل چن نے کہا کہ حکومت کیلئےاس وقت اصل مسئلہ کشمیراورعوام کے مسائل ہیں، ان پر توجہ مرکوز ہے، یہ ملک کوڈبوکر گئے،عوام کو جواب دیں پارلیمنٹ میں آکربیٹھیں۔
انھوں نے کہا کہ آزادی مارچ کشمیر کے لئے ہونا چاہیے، عوام خوش ہیں کہ آپ لوگوں سےآزادی ملی، حکومت کی کارکردگی اچھی نہ ہوئی توعوام احتساب کاحق رکھتے ہیں۔ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ حکومت مدت پوری کرے گی، کارکردگی سے متعلق عوام فیصلہ کریں گے۔