ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ ان کے ملک پر کسی بھی قسم کے حملے کو کُھلی جنگ تصور کیا جائے گا انھوں نے یہ بات اپنے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو کے اس بیان کے بعد کہی ہے کہ سعودی تنصیبات پر حملہ ایک جنگی اقدام تھا اور ایران کے اقدامات ناقابلِ برداشت ہیں اور یہ کہ امریکہ سعودی عرب کی خام تیل کی تنصیبات پر حالیہ حملوں کے بعد اس کے حقِ دفاع کی حمایت کرتا ہے۔
جمعرات کو امریکی چینل سی این این سے بات کرتے ہوئے جواد ظریف کا کہنا تھا کہ میں ایک انتہائی سنجیدہ بیان دے رہا ہوں کہ ہم جنگ نہیں چاہتے، ہم کسی عسکری تنازع میں الجھنا نہیں چاہتے مگر ہم اپنےعلاقے کا دفاع کرنے کے لیے آنکھ بھی نہیں جھپکیں گے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اور ان کے حامیوں کے سعودی تیل کی تنصیبات کے حوالے سے ایران پر الزامات امریکی صدر کو ایک جنگ میں دھکیلنے کی کوشش بھی ہوسکتے ہیں۔
ٹوئٹر پر ایک پیغام میں انھوں نے کہا کہ ‘جنگی کارروائی یا جنگ کے لیے کوششیں؟ بی ٹیم اور ان کے برعزم ساتھی ڈونلڈ ٹرمپ کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘ماضی میں جواد ظریف نے بی ٹیم کی اصطلاح اسرائیلی وزیراعظم نتم یاہو اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے لیے استعمال کی ہے۔
مائیک پومپیو بدھ کو سعودی حکام سے ملاقات کے لیے ریاض پہنچے تھے اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے بعد ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ تھا کہ ایران کے اقدامات کو برداشت نہیں کیا جا سکتا اور تیل تنصیبات پر حملے نہ صرف سعودی عرب بلکہ امریکی شہریوں اور دنیا میں تیل کی رسد کے لیے بھی خطرہ تھے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کہہ چکے ہیں کہ یہ بات یقینی دکھائی دے رہی ہے کہ تیل کی تنصیبات پر حملوں کے پیچھے ایران کا ہی ہاتھ تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ جوابی اقدام کے لیے امریکہ کے پاس ’بہت سی آپشنز‘ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایک آخری آپشن ہے اور پھر کچھ اس سے کم درجے کے آپشنز ہیں۔ ہم دیکھیں گے، ہماری پوزیشن بہت مضبوط ہے۔‘
امریکہ کے بعد سعودی عرب نے بھی بدھ کو ایران پر براہِ راست ان حملوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ تاہم ایران اس قسم کی کسی کارروائی میں ملوث ہونے کی تردید کر رہا ہے اور اس نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں وہ جواب دے گا۔ اس سے پہلے ہی یمن میں ایران کے حامی حوثی باغی کہہ چکے ہیں کہ ان حملوں کے پیچھے وہ ہیں۔