متحدہ امارات کے ڈائریکٹر انٹرنیشنل سیکیورٹی کوآپریشن ڈیپارٹمنٹ سالم الزابی نے جاری بیان میں کہا ہے کہ یو اے ای مشرق وسطیٰ سے متعلق قائم امریکی اتحاد میں شمولیت اختیار کررہا ہے،غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بیان میں کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات گلوبل انرجی سیکیورٹی یقینی بنانے، عالمی معیشت کیلئے توانائی کی ترسیل کا سلسلہ جاری رکھنے کیلئے امریکا کی جانب سے قائم اتحاد میں شمولیت اختیار کررہا ہے۔
امریکا نے مشرق وسطیٰ میں تیل بردار جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے کیلئے یہ اتحاد تشکیل دیا ہے جس میں اب تک سعودی عرب، آسٹریلیا، بحرین اور برطانیہ شامل ہوچکے ہیں۔امریکا نے خلیج فارس میں آئل ٹینکر پر ہونے والے حملوں کے بعد یہ اتحاد تشکیل دیا تھا اور حملوں کا الزام ایران پر عائد کیا تھا۔
یہ اتحاد تیل کی ترسیل کے حوالے سے دنیا کی سب سے اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز، باب المندب اور خلیج عمان میں تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت کو محفوظ بنانے کیلئے کام کرے گا۔خیال رہے کہ سعودی تیل تنصیبات پر حملے کے بعد عالمی طاقتوں کو شدید تشویش ہے، جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔

اس سے قبل جولائی 2019 میں متحدہ عرب امارات نے یمن سےاپنےفوجیوں کو خارج کرنے کا فیصلہ کیا تھا اامارات کے اس فیصلے کے بعد یمن کے خلاف سعودی عرب کے جارح اور جنگ طلب اتحاد میں بہت بڑا شگاف پیدا ہوگیا تھا یمن پر گذشتہ 5 سال سے سعودی عرب کی بربریت اور جارحیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ، جبکہ اس عرصہ میں سعودی عرب نے صرف یمن کے معصوم بچوں، عورتوں اور عام شہریوں کا وسیع پیمانے پر قتل عام اور جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے ۔
ادھر امریکی ادارے سوفان نے ریاض اور ابوظہبی کے درمیان شدید اختلافات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اور امارت کے درمیان خلیج فارس میں تیل بردار کشتیوں پر حملے کے بعد اختلافات نمایاں ہوگئے ہیں، سعودی عرب کا کہنا ہے کہ تیل بردار کشتیوں پر حملے میں ایران ملوث ہے جبکہ امارات کا کہنا ہے کہ تیل بردار کشتیوں پر حملے ميں ایران کے ملوث ہونے کے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں۔کہا گیا کہ امارات امریکہ کے کہنے پر یمن سے اپنے فوجیوں کو خارج کرنے کا اعلان کیا تھا کیونکہ یمن جنگ میں سعودی عرب کے اتحاد کی شکست سب کے لئے واضح اور روشن ہوگئی ہے۔
لیکن اب 3 ماہ بعد ہی متحدہ عرب امارات نے اس امریکی اتحاد میں شمولیت کا اعلان کیا ہے جس کا اصل مرکز ہی سعودی عرب ہے، اور خطے میں امریکہ، ایران اور سعودی عرب تناازعے کے موقع پر امارت کی اس اتحاد میں شرکت صورتحال کو مزید پیچیدہ اور گھمبیر کرسکتی ہے۔