آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آڈٹ سال 2018-19 کی رپورٹ جاری کردی گئی ، رپورٹ میں مالی سال 2017-18 کا آڈٹ کیا گیا، رپورٹ میں 156 کھرب روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ جو میاں نواز شریف کے دور حکومت میں مختلف وزارتوں اورڈویژنزمیں کی گئیں۔
آڈیٹر جنرل نےخلاف قواعد و ضوابط، اندرونی کنٹرول میں کمی ،عوامی فنڈز کی زیادہ ادائیگیوں اورغفلتوں کی طویل فہرست جاری کی ہے،رپورٹ کے مطابق گزشتہ حکومت نے2 ارب ڈالرز پاکستانی 2 سو ارب روپے کے عالمی بانڈزوزیراعظم کی منظوری سےجاری کئے، جبکہ اس طرح کے اجراء کیلئے قوائد کےمطابق منظوری وفاقی کابینہ سےلی جاتی ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا 40 وفاقی اداروں کےعوامی فنڈز کی جانچ کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ متعدد وزارتوں اور ڈویژنزاور بیرون ممالک میں متعلقہ اداروں میں اندرونی کنٹرولز کمزور ہونے کے باعث 145 ارب روپے کی بے ضابطگیاں کی گئیں۔
دوسری جانب وزیربرائےاقتصادی امور حماد اظہر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ نون لیگ کا شاید ضمیر جاگ گیا، نون لیگ نے اپنی حکومت کی رپورٹ کو بنیاد بنا کر کیا کچھ نہ کہہ ڈالا تاہم اب نون لیگی رہنماوں نےان ٹویٹس کو کِسی وجہ سے ڈیلیٹ کردیا ہے،وفاقی وزیرفواد چوہدری نےٹوئٹ میں کہا کہ ن لیگیوں نےاپنی خامیوں کو پی ٹی آئی کا بول دیا،کوئی حیرت نہیں یہ لوگ سیاست کے ڈسٹ بن میں پڑے ہیں۔
خیال رہے اس رپورٹ کی اطلاعات پر کچھ عرصہ قبل نون لیگی رہنما مریم اورنگ زیب اور خرم دستگیر نے رپورٹ پر ٹوئٹ کیا تھا اور رپورٹ کو تحریک انصاف حکومت کی کارکردگی کے نتائج قرار دیئے تھے لیگی رہنماوں کو جیسے ہی معلوم ہوا کہ یہ بے ضابطگیاں تو ان کے ااپنے دور میں ہوئی تھیہں تو تو تمام ٹوئٹس ڈیلیٹ کردی گئی تھی اوراب یہ واضح ہوگیا ہے کہ یہ بے ضابطگیاں میاں محمد نواز شریف کے دور میں ہوئی تھیں۔