امریکہ نے ایران کے مرکزی بینک اور دو مالیاتی اداروں پر پابندیاں عائد کردیں،امریکی میڈیا کے مطابق ایران پر معاشی پابندیاں سعودی آئل تنصیبات پر حملوں کے بعد سزا کے طور پر عائد کی گئی ہیں۔امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کی معیشت تباہی کی جانب جا رہی ہے اور یہ سب ایران کو دہشت گردی سے روکنے کے لیے ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایران پر تاریخ کی سب سے زیادہ معاشی پابندیاں عائد کر دی ہیں اور ایران کے بہت سے مسائل اس کے خود پیدا کردہ ہیں۔ایران بہت اچھا اور امیر ملک ہو سکتا ہے لیکن وہ ایک مختلف راستہ اختیار کر رہے ہیں۔
ایران پر حملے سے متعلق سوال کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران پر حملہ میرے لیے سب سے آسان چیز تھی جومیں کرسکتا تھا لیکن میں نے ایران پر معاشی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میرے خیال میں ایران پر معاشی پابندیاں کام کریں گی، فوجی ایکشن بھی کام کر سکتا تھا، یہ ایک سخت فتح ہوتی لیکن فتح ہماری ہی ہو گی۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا کی فوج کو کوئی شکست نہیں دے سکتا بلکہ کوئی ہماری فوج کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتا۔
ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران بین الاقوامی رہنماؤں سے ملاقات میں ایران کی جارحیت کے معاملے کو بھرپور طریقے سے اٹھائیں گے۔اس حوالے سے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ ایران کو سفارتی سطح پر تنہا کرنے اور معاشی دباؤ کے ذریعے ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔