کینیا کے ’’ماسائی مارا نیشنل ریزرو‘‘ میں وائلڈ لائف فوٹو گرافروں راہول سچدیو اور انتونی ٹیرا نے زیبرے کے ایک ایسے بچے کی تصاویر کھینچی ہیں جو ’’چتکبرا‘‘ ہے؛ یعنی اس کے جسم پر سفید دھبے دار نشانات ہیں جو اسے دوسرے زیبروں سے بالکل الگ اور منفرد بناتے ہیں.
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ دوسرے زیبروں سے مختلف دکھائی دینا کوئی اچھی بات نہیں کیونکہ اس کی وجہ زیبرے میں موروثی خرابی ہوتی ہے جس کے نتیجے میں اس کے جسم پر کالی سفید دھاریاں ٹھیک سے نہیں بن پاتیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ جنگل کے کھلے ماحول میں شکاری جانور بھی آزاد ہوتے ہیں جو دوسروں سے مختلف نظر آنے والے زیبرے کی طرف متوجہ ہو کر اسے جلد ہی شکار کرسکتے ہیں۔ اسی بناء پر انہیں خدشہ ہے کہ زیبرے کا یہ چتکبرا بچہ صرف چھ ماہ تک ہی زندہ رہ پائے گا اور بالغ ہونے سے پہلے ہی کسی شکاری جانور کا نوالہ بن جائے گا۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس منفرد زیبرے نے اپنی نسل کے دیگر زیبروں سے الگ ہو کرخود کو تو مشکل میں ڈال ہی لیا ہے لیکن اس نے انسانوں کیلئے بھی مشکلات پیداا کردی ہیں کیونکہ اس کی نسل کے دوسرے زیبروں کی سیاہ و سفید دحاریوں سے متاثر ہوکر ہی تو ہر ٹریفک سگنل پر زیبرا کراسنگ بنائے گئے تھے اب ان زیبرا کراسنگ کی سیاہ و سفید دحاریوں کا کیا ہوگا۔۔؟؟
یہ تمام باتیں اپنی جگہ لیکن زیبرے کے اس بچے نے اپنی انفرادیت ضرور قائم کردی ہے اور دور سے یہ ہرن کے بچے کی صورت میں نظر آتا ہے جو اس کیلئے تو خطرناک ہے لیکن دیکھنے والوں کی آنکھوں کو ضرور بھلا لگتا ہے۔