وزیراعظم عمران خان اس وقت امریکہ کے 7 روزہ دورے پر ہیں جہاں وہ پیر کو امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ سمیت دیگررہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے اس کے علاوہ وہ 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔
اتوارکےشیڈول کے مطابق وزیراعظم امریکی سینیٹ کے اقلیتی رہنما چک شمر سے ملاقات کریں گے جو پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے ہوگی، اس کے بعد وزیراعظم عمران خان سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کےسیکرٹری جنرل کومی نائیڈوکی رات 8 بجے ملاقات ہوگی جب کہ امریکی نمائندہ خصوصی برائےافغانستان زلمے خلیل زاد سے ملاقات رات ساڑھے 8 بجے ہوگی۔وزیراعظم سے رات ساڑھے 9 بجے ایرک لوئیس، مارک مہر،کلائیو اسمتھ ملاقات کریں گے جب کہ رات 10بجے امریکی سینیٹ کمیٹی برائےعدلیہ کےچیئرمین سینئر لنڈسےگراہم ملاقات کریں گے۔
بعدازاں وزیراعظم عمران خان رات 12 بجے صدر انٹرنیشنل کمیٹی برائے ریڈ کراس سےملاقات کریں گے جب کہ کشمیری رہنماؤں پر مشتمل وفد سےرات 12 بج کر 30 منٹ پر ملاقات ہوگی۔اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان رات ایک بجے سکھ کمیونیٹی کے وفد سے بھی ملاقات کریں گے۔
علاوہ ازیں نیویارک میں وزیراعظم نے کشمیر اسٹڈی گروپ کے بانی فاروق کتھواری سے ملاقات کی ہے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا پر مودی حکومت کا اصل چہرہ واضح ہوجائے گا۔اس موقع پر وزیراعظم نے بھارت کے غیر قانونی تسلط اور انسانی حقوق کی پامالی کو مزید اجاگر کرنے کی تلقین بھی کی۔فاروق کتھواری امریکی صدارتی کمیشن برائےایشیائی امریکیوں کےکمیشن کےممبررہ چکے ہیں۔ملاقات کے دوران وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، مشیرتجارت عبدالرزاق داؤد، معاون خصوصی نعیم الحق، اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی، امریکا میں پاکستان کے سفیر اسد مجید اور سینئئر افسران بھی موجود تھے۔
واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے مظالم کا سلسلہ بدستور جاری اور آج مسلسل 49ویں روز بھی کرفیو برقرارہےمواصلات کا نظام مکمل پرمعطل ہے،قابض انتظامیہ نے ٹیلی فون سروس بند کررکھی ہےجبکہ ذرائع ابلاغ پرسخت پابندیاں عائد ہیں۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مواصلاتی نظام کی معطلی، مسلسل کرفیو اورسخت پابندیوں کے باعث لوگوں کو بچوں کیلئے دودھ، زندگی بچانے والی ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔