فرانس نے پہلے رافیل طیارے آر بی-001 کو بھارتی فضائیہ کے ڈپٹی ایئر چیف مارشل وی آرچوہدری کے حوالےکر دیا ہے رواں برس فروری میں پاک فضائیہ کے شاہینوں کی جانب سے بھارتی طیاروں کو مارگرانےاورایک پائلٹ کی گرفتاری کے بعد بوکھلاہٹ اور خوف کی شکارمودی سرکار نے فرانس سے رافیل طیاروں کی خریداری کے عمل کو تیز ترکردیا تھا۔

اس عمل کے تحت بھارتی سپریم کورٹ میں طیاروں کی خریداری میں ہوشربا کرپشن اور اپوزیشن کے شدیداحتجاج کےباوجود جارحیت پسند بی جے پی کی حکومت نے فرانس سے پہلا رافیل طیارہ تکنیکی طور پر موصول کرلیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی فضائیہ کے ڈپٹی ایئر چیف وی آر نے جدید جنگی رافیل طیارہ موصول کیا اور ایک گھنٹے تک فضا میں پرواز کی۔ دوران پرواز طیارے کی کارکردگی اور افعال کا جائزہ لینےکے بعد اطمینان کا اظہارکیا۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ ’تکنیکی حوالگی‘ کے کامیاب مراحل کے بعد رافیل طیاروں کی باقاعدہ ’آفیشل حوالگی‘ 8 اکتوبر کو فرانس میں ہوگی بعد ازاں 4 رافیل طیارے آئندہ برس مئی میں فراہم کیے جائیں گے جس کے لیے بھارتی فضائیہ کے 10 پائلٹس، 10 فلائٹ انجینئرز اور 40 ٹیکنیشینز کو فرانس میں تربیت دی جارہی ہے۔

خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ بقیہ طیاروں کی فرانس سے بھارت کو حوالگی اپریل 2022 تک مکمل ہوجائےگی، بھارت نے فرانس سے کل 36 رافیل طیارے خریدے ہیں۔ 2012 میں یوپی حکومت نے جیٹ طیاروں کی خریداری کا معاہدہ کیا تھا جس کے تحت 18 جیٹ جنگی جہاز تیار حالت میں ملتے اور 108 جہاز بھارت میں تیار کیئے جاتے اس طرح فی جہاز قیمت 526 کروڑ بنتی۔

اپریل 2015 کو وزیر اعظم مودی نے فرانس کے دورے کے دوران پرانے معاہدے کو منسوخ کرتے ہوئے نیا معاہدہ کیا جس کے تحت بھارت کو جیٹ طیاروں کے بجائے 36 رافیل طیارے ملیں گے، ایک طیارے کی قیمت 1666 کروڑ روپے ہوگی اور یہ سب امبانی کمپنی کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیا گیا تھا جس پر معاملہ سپریم کورٹ تک بھی گیا تھا۔

 

27 فروری کو پاک فضائیہ کے ہاتھوں بدترین شکست کے بعد مارچ 2019 میں بھارتی ایئر چیف نے دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ رافیل طیارے برصغیر میں سب سے بہترین جنگجو طیارے ہوں گے۔ ایک بار رافیل طیارے آ جائیں پھر پاکستان ایل او سی اور سرحد پر آنے کی جرات بھی نہیں کرے گا، رافیل ہمارے فضائی دفاع کو مزید مضوط بنائے گا۔اور پاکستان ہمارے لائن کنٹرول یا سرحد کے قریب بھی نہیں بھٹکیں گے۔ہم طیاروں میں اس طرح کی صلاحیت پیدا کر رہے ہیں جس کا جواب پاکستان کے لیے دینا مشکل پو جائےگا۔ رافیل ہماری جنگی صلاحیتوں میں زبردست اضافے کا سبب بنے گا۔اور یہ طیارے پاکستان اور بھارت کے پاس موجودہ بہترین طیاروں میں سب سے اوپر ہوں گےلیکن بھارتی فضائیہ چیف کو اب تک یہ نہیں معلوم ہوسکا کہ جنگیں ہتھیاروں سے نہیں بلکہ جذبہ اور قابلیت کی بنیاد پر جیتی جاتی ہیں، اور بھارتی فورسزمیں جذبہ شہادت، پیشہ ورانہ صلاحیت اور جنگیں لڑنے کی قابلیت پاکستان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے