گلالئی اسماعیل فرار ہوکے امریکہ کیسے پہنچیں۔۔۔؟؟

پاکستان میں مختلف مقدمات کا سامنا کرنے والی پشتون تحفظ موومنٹ کی حامی گلالئی اسماعیل کئی ماہ کی روپوشی کے بعد کچھ روزقبل امریکہ میں منظرِعام پرآگئی ہیں۔ اوران کی رونمائی کے ساتھ ہی کئی اہم بین الاقوامی میڈیا اداروں نے ان کے انٹرویوز بھی شروع کردیئے ہیں گویا وہ کوئی رہنما ہیں یا کوئی کارنامہ سرانجام دے کر آئی ہیں۔ گلالئی اسماعیل رواں برس مئی کے اواخر سے غائب تھیں جب اسلام آباد میں ایک بچی سے جنسی زیادتی اور اس کے قتل کے واقعے پر احتجاج کرنے پران کے خلاف  انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

اس مقدمے میں گلالئی اسماعیل پرالزام عائد کیا گیا کہ اُنھوں نےاس واقعےکی آڑمیں لوگوں کو حکومت وقت اورفوج کےخلاف بھڑکایا ہے۔مقدمےکےاندارج کےبعد پولیس نےان کی تلاش میں متعدد مقامات پرچھاپے بھی مارے مگر انھیں گرفتار نہیں کیاجا سکا۔اس سے پہلےبھی حکومت مخالف تقاریرکے الزام پر گلالئی اسماعیل کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اُس وقت اپنی حراست میں لیا تھا جب وہ بیرون ملک سے پاکستان واپس آرہی تھیں۔اس کے علاوہ انھیں اس سال فروری میں پی ٹی ایم کے رہنما ارمان لونی کے قتل پر احتجاج کرنے کے بعد بھی حراست میں لیا گیا تھا۔

جمعرات کو گلالئی کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک پیغام جاری کیا گیا جس میں انھوں نے بتایا کہ وہ پاکستان سے فرار ہو کر امریکہ پہنچ گئی ہیں جہاں وہ سیاسی پناہ حاصل کررہی ہیں۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کےمطابق ڈیموکریٹ سینیٹرچارلزشومرکا کہنا ہےکہ میں گلالئی کی پناہ کی درخواست کی حمایت کے لیےجو کچھ کرسکا کروں گا۔ یہ واضح ہےکہ اگر وہ پاکستان واپس گئی تو ان کی جان کو خطرہ ہوگا۔

دوسری جاانب نیویارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے گلالئی اسماعیل نے یہ تو نہیں بتایا کہ وہ پاکستان سے کیسے نکلیں لیکن انھوں نے اپنے انٹرویو میں یہ کہا کہ میں کسی ہوائی اڈے سے نہیں اڑی۔اس کے علاوہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں آپ کو مزید کچھ نہیں بتا سکتی۔ میرے انخلاء کی کہانی سے بہت سے لوگوں کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

گلالئی فرار کیسے ہوئیں۔۔؟

یہ توگلالئی اسماعیل کے حوالے سے کچھ  باتیں تھیں لیکن یہ سوال بدستور اپنی جگہ قائم ہے کہ وہ پاکستان سے فرارہوکر اچانک امریکہ کیسے چلی گئیں۔۔؟؟ جبکہ ان کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے کسی ہوائی اڈے سے نہیں اُڑی ہیں۔

گلالئی چلی بھی گئیں اور امریکہ تو ایسے پہنچیں جیسے پشاور سے نکل کر نوشہرہ گئی ہوں، کیا یہ وہی امریکہ نہیں ہے جس کے ویزے کیلئے ایک مناسب شخص کو بھی کم از کم ایک مہینہ انتظار کرتے ہوئے مختلف سخت مراحل سے گزرنا پڑتا ہےتوگلالئی میں کون سے ایسے سُرخاب کے پر لگے ہوئے تھے کہ روپوشی کے عالم میں ہی ان کا امریکہ کا ویزہ بھی لگ گیا اورانھیں بحفاظت پہنچا بھی دیا گیا۔ ایسی کون سی ٹریول ایجنسی تھی جس نے ویزے سےلےکرامریکہ پہنچانے تک کے مکمل اور محفوظ انتطامات کیئے۔۔۔؟؟

اس بات سےغرض نہیں کہ گلالئی اسماعیل کے ساتھ پاکستان میں کیا ہوا یا انھوں نے پاکستانی اداروں کی بدنامی کیلئے کیا کردارادا کیا، اور ایک ایسی لڑکی جو پاکستان میں سماجی کام کرتے کرتے اچانک پاکستانی اداروں کے خلاف کیسے اور کسی کے کہنے پر ہوئی غرض یہ ہے کہ ایک 33 سالہ لڑکی اچانک اتنی اہم کیسے ہوگئی کہ اس کے سفروطعام و قیام کا امریکہ میں اتنے اعلیٰ پیمانے پرانتظام کیا جائے۔۔۔؟؟

پاکستان سے اگر کوئی شخص فرار ہونے کی کوشش کرتا ہے تو ماضی کے کچھ واقعات کی بنا پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ کسی پاکستانی ایئرپورٹ کے کچھ افسران واہلکاروں کی ملی بھگت سے اپنا کام نکال لیتا ہے، یا کسی لانچ یا مچھلی پکڑنے والی کشتی کے ذریعے سمندری راستے کو اختیار کرتے ہوئے کسی خلیجی ملک اور وہاں سے یورپ امریکہ جاتا ہےلیکن اس تمام عمل میں بہت زیادہ پیسہ، تعلقات اور مشکلات ہیں اوراب تو ویسے بھی یہ طریقہ کار اختیار کرنا تقریباً ناممکن ہے کہ پاکستانی اداروں نے سخت ترین نگرانی رکھی ہوئی ہے ایسے میں گلالئی جیسی نازک لڑکی کیلئے ممکن نہیں کہ وہ ایسا کوئی راستہ اختیار کرتیں۔۔

بھارت سے بھی تعلقات خراب چل رہے سرحدیں بند ہیں تو یہ ممکن نہیں کہ گلالئی مشرقی سرحد سے گئی ہوں،یہ امکان ضرور ہے کہ ان کے سپورٹرز، ان کے حوارین نے کسی طرح کشمیر کے راستے انھیں بھارت پہنچایا  ہو اوروہاں سے وہ امریکہ سدھار گئیں، ایران کے امریکہ سے تعلقات اچھے نہیں تو یہ راستہ بھی ان کیلئے مناسب نہیں ہوسکتا، ایک رااستہ درہ خنجراب ہے جس کے ذریعے چین اور وہاں سے یورپ امریکہ جایا جاسکتا ہے لیکن چینی حکام اتنی آسانی سے کسی کو اپنے ملک میں داخل نہیں ہونے دیتے وہ بھی کسی ایسے کو جس کے حوالے سے پاکستانی میڈیا میں بہت کچھ لکھا اور بولا گیا ہو، ایسے میں وہ سرحد عبور بھی کرجاتیں تو چین میں کسی نہ کسی جگہ پکڑی جاتیں۔

لے دے کہ ایک ہی راستہ بچتا ہے کہ وہ افغان سرحد عبورکرکےافغانستان میں کسی امریکی فوجی اڈے تک پہنچیں یا پہنچائی گئی اورامریکن ایئرفورس کےکسی سامان بردار جہازمیں پروٹوکول کےساتھ انھیں سفری سہولیات فراہم کرتے ہوئے امریکہ پہنچا دیا گیا جہاں وہ جب جلوہ گر ہوئیں تو ان کے چہرے پر نہ سفر کی صعوبتیں تھیں نہ لباس و اندازسے ایس لگتا تھا کہ وہ بہت تکلیف یا کسمپرسی کے عالم میں کئی ہفتے گزار کر پہنچی ہیں۔

گلالئی صاحبہ نہ صرف امریکہ پہنچیں بلکہ ان کیلئےرہائش پہلے سے تیارتھی،میڈیا ان کے انٹرویوزکیلئے شدت سےمنتظر تھا، ان کو گاڑی بھی مل گئی، کچھ گارڈز بھی تعینات ہیں، اس تناظر میں اگر یہ کہا جائے کہ گلالئی اسماعیل پاکستان میں جو کچھ بھی کرتی رہیں وہ پاکستان مخالف کے سوا کچھ نہیں تھا اور انھیں مکمل بیرونی فنڈنگ بھی حاصل تھی تو یہ الزام اس لیئے غلط نظر نہیں آتا کہ گلالئی صاحبہ جس پراسرار انداز میں فرار ہوئیں اور امریکہ میں مکمل شان و شوکت سے ان کی رونمائی ہوئی اس سے تو یہی لگتا ہے کہ بیرونی قوتوں کی مکمل آشیرباد انھیں حاصل تھی اور ہے۔

پاکستان میں رہ کر ان کا مقصد ان کا ٹاسک یا ان کا مشن صرف پاکستانی اداروں کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنا اورملک کےغیور پختونوں کو وغلا کرانھیں پاکستان مخالف منصوبوں میں اپنا آلہ کار بنانا تھا۔ اگر  گلالئی اسماعیل کے نزدیک  یہ الزامات نہایت سنگین ہیں توانھیں اب یہ بتادینا چاہیئے کہ وہ امریکہ کیسے پہنچیں۔۔؟؟ ورنہ قرین از قیاس باتیں بھی ہوں گی اوربخیئے بھی ادھیڑے جائیں گے ویسے بھی انھوں نے اپنی سرگرمیوں سے خود کو مشکوک بنایا ہےکسی کا اس میں کیا قصور۔۔۔!! 

Share This Article

تازه ترین