ابوظہبی میں یہودیوں کی عبادتگاہ سیناگوگ کی تعمیر

 

اطلاعاات کے مطابق متحدہ عرب امارات میں 2022 میں پہلی یہودی عبادت گاہ کا افتتاح ہوگا، یہودی عبادت گاہ ابوظہبی میں کثیرالعقائد ابراہیمک فیملی ہاؤس کمپلیکس کا حصہ ہے جہاں مسجد اور چرچ بھی ہوگا۔ کثیرالعقائد منصوبے کے تحت پہلی مرتبہ سرکاری سطح پر یہودی عبادت گاہ کی تعمیر کا آغاز اگلے برس ہوگا اور 2022 تک اس کی تکمیل ہوگی۔

کمپلیکس کی تعمیر کا اعلان رواں برس فروری میں پوپ فرانسس کے متحدہ عرب امارات کے دورے میں کیا گیا تھا، جو خطے میں پہلی عبادت گاہ ہوگی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ متحدہ عرب امارات کے مسلمانوں نےاس کمپلیکس کی بحیثیت تحمل اوربرداشت کےمرکز کےطور پرحمایت کی ہےاوران کا موقف ہے کہ اس سے مذہبی آزادی اور ثقافتی رنگا رنگی کو فروغ ملے گا۔متحدہ عرب امارات میں یہودی کمیونٹی کی یہ پہلی عبادت گاہ ہوگی تاہم اس وقت دبئی میں ایک گھر کو نجی عبادت گاہ کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کی 80 فیصد آبادی مسلم ہے جبکہ عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے 9 فیصد (تقریباً 10 لاکھ) ہیں، مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے مسیحی تارکین وطن یو اے ای میں بطور ورکر کام کررہے ہیں جن میں اکثریت کا تعلق انڈیا، فلپائن، بنگلہ دیش اور پاکستان سے ہے۔

دوسری جانب اماراتی سرکاری نیوز ایجنسی وام کا کہنا ہے کہ یہ سیناگوگ ایک بڑے کمپلیکس میں تعمیر کیا جائے گا جہاں ایک گرجا گھر اور ایک مسجد بھی تعمیر ہوگی۔ ابوظہبی میں تعمیر کیے جانے والے اس کمپلیکس کو ’ابراہمک فیملی ہاؤس‘ کا نام دیا گیا ہےجس کا مقصد ابراہیمی مذاہب کی عبادت گاہوں کو ایک جگہ تعمیر کرنا ہے۔اس عبادت گاہ کی تعمیر کا کام اگلے برس شروع ہوگا اور یہ منصوبہ 2022 تک تکمیل پائے گا۔ابراہمک فیملی ہاؤس کو ابوظہبی کے سعدیات جزیرے پر تعمیر کیا جائے گا۔

ابراہمک ہاؤس بنانے کا اعلان نیویارک میں ’انسانی بھائی چارے کی ہائیر کمیٹی‘ کے اجلاس میں کیا گیا جہاں متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے خارجہ امور اور بین الاقوامی تعاون شیخ عبدالله بن زاید النہیان اور دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔ 

Share This Article

تازه ترین

’اکتوبر‘ اچھی خبر نہیں لاتا
جمہوریت کا جنازہ