تفتان میں ایران اور پاکستان کے سول و عسکری اور کسٹمز حکام کا ایک روزہ مشترکہ اجلاس ہوا جس میں پاکستانی وفد کی نمائندگی اسسٹنٹ کمشنر دالبندین حبیب ناصر نے کی جبکہ ایرانی وفد کی قیادت میرجاوا کے مرزبان حیدرمریدی نے کی ۔ اجلاس میں سرحد کے دونوں جانب خصوصی کاؤنٹرز کے قیام سمیت مختلف فیصلے کئے گئے۔

اجلاس میں مقدس ایام کے دوران ایران جانے والے زائرین کو خصوصی سہولیات اور زائرین کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے سرحد کے دونوں جانب 20 خصوصی کاونٹر کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ چہلم کے موقع پرزائرین کی بہت بڑی تعداد کے پیش نظر سرحدی گزرگاہ 24 گھنٹے کھلے رکھنے ، زائرین کے قافلوں کی منظم نقل و حرکت زائرین کی آمد و رفت آسان بنانے کے لیے الگ راستے اور فوکل پرسن مقرر کرنے، دستاویزات گم ہونے پر زائرین کے لیے خصوصی ہنگامی دستاویزات کا حصول آسان بنانے سمیت کئی اہم فیصلے کیئے گئے ہیں اجلاس میں زائرین کی بسوں کی حالت معیاری اور مطلوبہ ایندھن کی فراہمی یقینی بنانے پر بھی تفصیل سے گفتگو کی گئی۔

پاکستان سے زمینی راستے کے ذریعے ایران اور کربلا جانے والے زائرین ملک بھر سے پہلے کوءٹہ پہنچتے ہیں جہاں سے انھیں بسوں کے قافلوں اور سیکیورٹی حصار میں پاک ایران بارڈر تفتان تک لے جایا جاتا ہے جہاں سے وہ امیگریشن اور کسٹم کے عمل سے گزر کر ایرانی سرحد میر جاوہ میں داخل ہوجاتے ہیں۔ زائرین کا دیرینہ مطالبہ کوئٹہ سے تفتان تک سیکیورٹی صورتحال بہتر بنانے، اور تفتان پر امیگریشن کاونٹر سمیت دیگر سہولیات بڑھانے کا رہا ہے اس مرتبہ پااک ایران حکام کے اجلاس میں جو فیصلے کیئے گئے ہیں ان کا نفاذ زائرین کو یقیناً سہولت کا باعث بنے گا۔
پاکستان سے اگرچہ سارا سال لاکھوں زائرین ایران جاتے رہتے ہیں لیکن عاشور اور چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر یہ تعداد عام دنوں کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ جاتی ہے، کربلا میں اربعین کے موقع پر دنیا بھر سے تقریباً 3 سے 4 کروڑ زائرین شرکت کیلئے پہنچتے ہیں جن میں پاکستانی زائرین کی بڑی تعداد شامل ہوتی ہے۔
