کیا ٹرمپ کے کشمیر پر وعدے مودی کے جلسے میں کھو گئے۔۔۔؟؟

 

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جب ہیوسٹن میں جلسے سے خطاب میں پاکستانی حکومت کو نام لیے بغیر تنقید کرتےہوئے کہا کہ ایسے لوگوں کو بھی کشمیر میں انڈیا کے اقدامات سے مسئلہ ہے جن سے اپنا ملک نہیں سنبھلتا۔ اُس وقت مسئلہ کشمیر پر پاک بھارت ثالثی کے وعدے اور دعوے کرنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان کے ساتھ کھڑے مسکراتے ہوئے نہ صرف تالیاں بجاتے رہے بلکہ اپنی تقریر میں یہ بھی کہہ دیا کہ ‘ہم ان تمام انڈین اور امریکی فوجیوں کی قدر کرتے ہیں جو عوام کی حفاظت میں مصروف کار ہیں،ہم انتہا پسند اسلامی دہشت گردی سے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔’

ہاؤڈی مودی! نامی اس جلسے کو امریکہ میں کسی غیر ملکی رہنما کا اب تک کا سب سے بڑا جلسہ قراردیا جارہا ہے۔ اور دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اس جلسے میں تقریباً 50 ہزار افراد نے شرکت کی۔

ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں واقع این آر جی سٹیڈیم میں منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران نریندر مودی کا کہنا تھا کہ ’انڈیا اپنے یہاں (کشمیر میں) جو کر رہا ہے اس سے کچھ ایسے لوگوں کو بھی مسئلہ ہے جن سے خود اپنا دیش سنبھل نہیں رہا ہے۔‘نریندر مودی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ان لوگوں نے انڈیا کے خلاف نفرت کو ہی اپنی سیاست کا محور بنا دیا ہے۔ یہ لوگ وہ ہیں جو امن نہیں چاہتے، دہشت گردی کے حامی ہیں اور دہشت گردوں کو پالتے پوستے ہیں۔

مودی کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اور اس کی ترویج کرنے والوں کے خلاف مل کر لڑائی لڑی جائے‘ اور اس لڑائی میں امریکی صدر ٹرمپ پوری مضبوطی کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں۔ نریندر مودی نے اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے وائٹ ہاؤس میں انڈیا کا ایک ‘حقیقی دوست’ ہے۔ انھوں نے اپنے خطاب میں امریکی صدر ٹرمپ کو ‘گرم جوش، دوستانہ ، قابل رسائی ، توانا اور حس مزاح سے بھرپور’ قرار دیا۔

کشمیر کو انڈین آئین میں خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کے خاتمے کا ذکر کرتے ہوئے انڈین وزیراعظم نے کہا کہ ’یہ 70 برس سے ملک کے لیے ایک بڑا چیلینج تھا جسے کچھ دن پہلے ختم کر دیا ہے۔

نریندر مودی کی تقریر کے موقع پر ہیوسٹن میں جلسہ گاہ کے باہر پاکستانیوں اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیری سے تعلق رکھنے والےافراد کی بہت بڑی تعداد مقبوضہ کشمیر میں انڈین حکومت کے اقدامات کے خلاف احتجاج بھی کرتی رہی۔اس بات کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ رواں ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہونے والے اجلاس میں انڈین وزیر اعظم مودی کو اس معاملے پر سردمہری اور تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

نریندر مودی کے خطاب سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس ریلی سے خطاب کیا اور اسے ایک ‘تاریخی واقعہ’ قرار دیا۔انھوں نے مجمعے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘مجھے ٹیکساس آ کر بہت خوشی ہوئی ہے کیونکہ انڈیا کے وزیراعظم مودی امریکہ کے سب سے اچھے، قریبی اور وفادار دوستوں میں سے ہیں۔’تالیوں کی گونج میں استقبال کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ‘انڈیا اور اس کے عوام کے لیے واقعی ایک غیر معمولی کام کر رہے ہیں۔’

انڈیا کے ساتھ دفاعی معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں کہا کہ انڈیا کے ساتھ دفاعی تعاون میں اضافہ ہوا ہے اور مزید دفاعی سودے جلد کیے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ نومبر میں دونوں ممالک کی تینوں افواج (آرمی، بحریہ اور فضائیہ) مشترکہ طور پر مشقیں کریں گی۔ اس مشق کو ٹائیگر ٹرائمف کا نام دیا گیا ہے۔خود بھی قوم پرست بیان بازی سے شناسائی کے حامل امریکی صدر ٹرمپ نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے خطے میں کشیدگی کا موازنہ امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر سکیورٹی سے کیا۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ‘انڈیا اور امریکہ دونوں یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی قوم کو محفوظ رکھنے کے لیے ہمیں اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہو گی۔

جلسے میں نعرے صرف انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے تھے اور صدر ٹرمپ اس جلسے کے سپر سٹار تھے لیکن مجمعے نے انھیں بھی مایوس نہیں کیا اور ان کا استقبال بھی ‘یو ایس اے’ کے نعرے لگاتے ہوئے کیا جو صدر ٹرمپ کے اپنے جلسوں میں سب سے زیادہ سننے میں آتا ہے۔

اس جلسے کو دونوں رہنماؤں کیلئے اہم قرار دیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے لیے یہ ایک موقع تھا کہ وہ سنہ 2020 میں ہونے والے صدارتی انتخابات کی دوڑ کے لیے انڈین نژاد امریکیوں کی حمایت حاصل کر لیں جہاں ٹیکساس ایک اہم سیاسی میدان جنگ کی حیثیت سے ابھر سکتا ہے۔

امريکی صدر ويسے تو بڑے بڑے اجتماعات کی شکل ميں اپنی مقبوليت دکھانے کے شوقين ہيں ليکن انہيں کثير الثقافتی معاشرے يا پھر امريکی سرزمين پر غير ملکيوں کے حامی کے طور پر نہيں ديکھ جاتا۔ اميگريشن پر سخت گير موقف ان کی سياست کا اہم جزو ہے۔ تو پھر کيا ہے جو انہيں مودی کی اس ريلی کی طرف لا رہا ہے؟امريکا ميں آئندہ انتخابات چودہ ماہ ميں متوقع ہيں۔ ہيوسٹن مختلف رنگ و نسل کے لوگوں کا شہر مانا جاتا ہے اور ٹرمپ کی کوشش ہے کہ وہاں قدم جمائے جائيں اور ساتھ ہی امريکا ميں تقريباً چار ملين بھارتی کميونٹی کی حمایت حاصل کی جائے۔

Share This Article

تازه ترین