کیا واقعی ایران سعودی آئل تنصیبات حملے میں ملوث ہے۔۔۔؟؟

 

سعودی عرب کا الزام ہے کہ اس کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ اُس کی تیل تنصیبات پر حملے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے، سعودی عرب نے عالمی برادری سے اس کے خلاف اقدام اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسکے بعد برطاانیہ نے بھی حملے کا الزام ایراان پر عائد کیا ہے، برطانوی وزیراعظم نے ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات سے قبل ایران پر الزام عائد کیا اور کہا کہ بہت زیادہ امکانات ہیں کہ سعودی آئل تنصیبات پر حملے میں ایران ملوث ہے،برطانوی وزیراعظم نے ایران میں فوجی مداخلت کے زیرغور ہونے کو مسترد کردیا تاہم انہوں نے ایران پر پابندیوں کے امکانات ظاہرکیے ہیں۔

تیل کی تنصیبات پر حملے میں ہونے والے نقصان سے یہ بات واضح ہے کہ سعودی عرب اس حملے سے روگردانی نہیں کر سکتا اور اس کی جانب سے ایران کو مجرم قرار دینے کا مطلب ہے کہ ریاض اب اس کا جواب دینے پر مجبور ہے۔ سعودی عرب ممکنہ طور پر تب تک انتظار کرے گا جب تک کہ اقوام متحدہ کے ماہرین کی ایک ٹیم اس واقعہ کی آزادانہ تحقیقات مکمل نہ کر لے۔

اگرچہ ماہرین بھی اسی نتیجے پر پہنچیں گے کہ یہ حملے ایران کی جانب سے فراہم کیے گئے مواد اور مدد کے بغیر ممکن نہیں تھے تاہم اس دوران سعودی عرب کو اپنے ردعمل کے حوالے سے سوچنے کا وقت ملے گا، بظاہرالزامات سے انکار کرنا ایران کے لیے مدد گار نہیں ہو گا، لیکن قرائن اور حالات یہ بتاتے ہیں کہ ان حملوں میں ایران ملوث نہیں ہے۔ اورایرانی حکاام یہ سنگین غلطی نہیں کرسکتے۔

اُدھر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کا خیال ہے کہ جب سے ایران پر صدر ٹرمپ کی جانب سے معاشی پابندیاں دوبارہ عائد کی گئی ہیں، تہران امریکہ پر پابندیوں میں نرمی انے کے لیے دباؤ بڑھا رہا ہ ے۔ایران کے رہنماؤں کو امید ہےکہ خطے میں جنگ کا خطرہ عالمی طاقتوں کو یہ احساس دلائے گا کہ پابندیاں تباہی کا باعث بنتی ہی ں۔انھیں امید ہے کہ فرانس کے صدر ایمانیول میخوان کی جانب سے ایران کو اس کے جوہری معاہدے کی پاسداری کرنے اورخطے میں عدم استحکام لانے والی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے 15 بلین ڈالر ادھار دینے کا منصوبہ کامیاب ہو سکتا ہے۔لیکن امریکی صدر نے اس منصوبے کی منظوری نہیں دی ہے۔

یہ بات طے ہےکہ آئل تنصیبات پر اس بڑے پیمانے پر حملہ ایران کےسپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی اجازت کے بغیر نہیں ہوسکتا تھا، لیکن ان کی جانب سے نہایت واضح طور پر ایک مرتبہ بھی سعودی عرب کی تیل تنصیبات پرحملے یا خطے میں کسی بھی وقت جنگ چھڑنے کے خطرے کا ذکر نہیں کیا گیا او دنیا کچھ مانے نہ مانے یہ ضرورجانتی ہےکہ سید علی خامنہ ای نہ کسی سے ڈرتے ہیں نہ جھوٹ بولتے ہیں،اس لیئےاگرسعودی تنصیبات پرایران نےحملہ کیا ہوتا توعلی خامنہ ای اس حوالے سے ضروربتاتے، اوراگر انھوں نے حملے پرکچھ نہیں کہا تو اس کا مطلب یہی ہے کہ ایران نے حملے نہیں کیئے۔

اعداد و شمار دیکھے جائیں تو ایران کی آبادی 80 ملین ہے جوکہ سعودی عرب کی 33 ملین کی آبادی سے کہیں زیادہ ہے جبکہ ایران کے پاس موجود ہزاروں میزائل سعودی عرب کی تیل تنصیبات، فوجی اڈوں اور آبادی کے لیے خطرہ ہیں،اس کے مقابلے میں سعودی عرب کے پاس سینکڑوں چینی ساخت کے میزائل اور میزائلوں سے بچاؤ کی محدود صلاحیت ہے،سعودی عرب کے پاس بھی تقریباً ایران جتنے ہی جنگی جہاز ہیں۔ لیکن اس کے جنگی جہاز جدید اور مؤثر جبکہ ایران کے پرانے اور ناقابل بھروسہ ہیں۔

لیکن اگرسعودی عرب کی ایران کےساتھ براہ راست جنگ چھڑی تو یہ صرف فضائی طاقت اور میزائل صلاحیت کامقابلہ ہوگا اورکوئی بھی ملک اس جنگ سے فاتح بن کرباہرنہیں نکلے گا۔حالانکہ خلیج میں امریکی فوج، جنگی جہازاوربحری جہاز تعینات ہیں لیکن اب امریکی صدر بھی اس طویل چلنے والے تنازع میں شامل ہونے سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں۔

سوال پھر یہی پیدا ہوتا ہےکہ اگر ایراان ملوث نہیں تو آئل تنصیباات پر آخر کس نےاورکیوں حملے کیئے، اس کےجواب کیلئے اگر تھوڑی سی تحقیق اور حملے سے قبل و فوری بعد کے حالات کو دیکھا جائے تو یہ نتیجہ اخذ کرنے میں مشکل نہیں کہ ان حملوں کا فائدہ کم از کم ایران کو تو نہیں تھا اور نہ ہے۔

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہےکہ امریکی بحری بیڑوں اور اڈوں کو ایران کی جانب سے میزائل حملہ کا خطرہ ہے، کیونکہ آبنائے ہرمزکے راستے سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی تجارت ہوتی ہے، اس تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ کو شاید امریکہ میں پیٹرول اسٹیشنوں پر بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں میں اضافے سے ان کی دوسری بار امریکی صدارتی انتخاب کے لیے کی جانے والی مہم پر پڑنے والے اثرات کی فکر ہے۔

امریکہ کو تیل کی قیمتوں کو بھی قابو کرنا ہے، اپنا اسلحہ بھی فروخت کرنا ہے اورعالمی برادری پر یہ بھی ثابت کرنا ہےکہ ایران پرحملے سے اس کو کوئی غرض نہیں لیکن اگر خطے کی صورتحال خراب ہوتی ہے اورکچھ ممالک زور دیتے ہیں توو وہ اس ممکنہ جنگ میں بحالتِ مجبوری شریک ہوسکتا ہے اس طرح کم از کم امریکی عوام کی ہمدردیاں ٹرمپ کے ساتھ ہی رہیں گی جو یمن پر حملوں میں سعودی عرب کا ساتھ دینےاورافغانستان سے مذاکرات کے معاملے پر ٹرمپ سے خائف بیٹھے ہیں۔

اگرچہ سعودی عرب کے لیے بھی امریکہ کی عسکری مدد انتہائی اہم ہے،لیکن اپنی مقبولیت اور معاشیات کے گرتے گراف کو دیکھتے ہوئے صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ایران کے خلاف کارروائی کی قیادت سعودی حکومت کرے اور کسی بھی امریکی مدد کے لیے اسے پیسے بھی ادا کیئے جائیں،جبکہ سعودی عرب یہ چاہتا ہے کہ اس کے علاقائی اتحادی، متحدہ عرب امارات اور بحرین بھی ایران کے خلاف کارروائی کا حصہ بنیں،اورامریکہ اپنے یورپی اتحادیوں کی سیاسی اورسفارتی حمایت بھی شامل کروائے، یہ الگ بات ہے کہ بیشتر یورپی ممالک امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے جوہری معاہدے سے دستبردار ہونےکے فیصلے کو اس جنگ کے چھڑنےکا نتیجہ سمجھتے ہوئے اس سے فی الحال دور ہی رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

اب سعودی عرب اگر ایران کےخلاف کارروائی کا آغاز کرتا ہے تو لامحالہ اسے امریکہ کی مدد درکار ہوگی اوراس مدد کی بھاری قیمت بھی ادا کرنی ہوگی اس تمام صورتحال میں ضروری تھا کہ ایسے حالات پیدا کیئے جائیں کہ سعودی عرب ایران پر حملے پر آمادہ بھی ہوجائے اور امریکہ بہادربھی اپنے لوگوں اوردنیا کو یہ بتانے میں کامیاب ہوجائیں کہ سعودی عرب کا ساتھ مجبوری میں دے رہے ہیں، اس طرح امریکہ کے بہت سے معاشی و تیل کے مسائل از خود حل ہوجائیں گے۔

حقیقت یہ بھی ہےکہ ایران پربے پناہ پابندیاں،اس کی اقتصادی صورتحال اورجوہری معاہدے کے بعد پیدا ہونےوالے حالات اسے اجازت نہیں دیتے کہ وہ مزید کوئی محاذ کھولے، ایران کی پہلی ترجیح یہی ہے کہ وہ کسی طرح یورپی ممالک کو اس بات پر راضی کرے کہ جوہری معاہدے کو دوبارہ سے فعال کیا جاسکے اور امریکہ پر دباو ڈالا جائے کہ وہ ایران سے پابندیوں کا خاتمہ کرے ان حالات میں ایران کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کا سوچنا بھی محال ہے۔ البتہ ان حملوں سے کس کس کو اور کیسے فائدے حاصل ہورہے ہیں اگراس کی تحقیق ایران سے باہرہی کی جائے تو اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم کو ایران جانے کی ضرورت بھی پیش نہیں آئے گی۔

Share This Article

تازه ترین