نیو یارک میں فارن ریلیشن کونسل میں اظہار خیال کر تے ہوئے وزیراعظم نے افغانستان اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق پاک امریکا تعلقات پر گہری نگاہ ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا دہشت گردی کی جنگ کا حصہ بننا بڑی غلطی تھی، روس کے خلاف جنگ میں جہادیوں کو ہیرو بنایا گیا تھا، نائن الیون کے بعد پھر ہماری ضرورت پڑی، ہمیں کہا گیا جہادیوں کے خلاف جنگ کریں۔

افغانستان میں قیامِ امن

وزیراعظم نے کہا کہ سوویت یونین کے خلاف جہاد کے لیے مجاہدین گروپس کو یک جا کیا، جنگ ختم ہونے پرامریکا نے اُن گروہوں کو پاکستان پرچھوڑ دیا، نائن الیون کے بعد امریکی جنگ کا حصہ بننا پاکستان کی سب سےبڑی غلطی تھی۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ امریکا نے گروہوں کو پہلے یہ بتایا غیر ملکی طاقتوں سےلڑنا جہاد ہے،اب امریکا کہتا ہےغیرملکیوں سےنہ لڑنا جہاد ہے۔

عمران خان نے کہا افغانستان کےحالات بہتر کرنا ہے، باڑ روکنا ہے تو 27 لاکھ مہاجرین واپس لے، افغان امن ڈیل پر دستخط ہونے والے تھے ٹرمپ کے فیصلہ بدلنے کا پتا چلا، جنگ سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا، امریکا کو افغانستان میں امن کے لیے اپنی فوج نکالنا ہوگی، افغانستان 40 سال سے مشکل حالات سے گزر رہا ہے، اب امن کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن افغانوں کا حق ہے، طالبان آج 2010 سے زیادہ مضبوط ہیں، جب رچرڈ ہالبروک سے مذاکرات ہوئے تھے، دنیا کو معلوم ہونا چاہیے آج کے طالبان 2001 والے طالبان نہیں۔

انھوں نے کہا کہ افغان مسئلے کا واحد حل جنگ بندی اور مذاکرات ہیں، میرا نہیں خیال طالبان پورے افغانستان پر قبضہ کر سکتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم سایوں کے ساتھ امن پالیسی میں فوج کی حمایت حاصل رہی ہے، ہم کرتارپور کھول رہے ہیں، فوج ہمارے خلاف ہوتی تو مزاحمت کرتی، میں اشرف غنی سے بات اور مذاکرات کرتا ہوں، فوج کو کوئی اعتراض نہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو 200 بلین ڈالرز کا نقصان ہوا، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار فوج نے دفاعی بجٹ میں کمی کا اعلان کیا۔

عمران خان سے جب سوال پوچھا گیا کہ اسامہ بن لادن کی پاکستان کے دارالحکومت سے کچھ دور رہائش اور وہاں ہلاکت کے حوالے سے تحقیقات ہوئی ہیں یا نہیں تو ان کا کہنا تھا کہ انھیں ان تحقیقات کے نتیجے سے علم نہیں ہے۔مجھے معلوم ہے کہ ایبٹ آباد کمیشن اس حوالے سے قائم ہوا تھا مگر میں اس کے نتیجے سے واقف نہیں ہوں۔ لیکن جو بات میں کہہ سکتا ہوں وہ یہ کہ پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی نے القاعدہ اور دیگر گروہوں کی افغانستان میں لڑنے کے لیے تربیت کی تھی چنانچہ فوج کے ان کے ساتھ تعلقات لازماً ہونے تھے۔جب ہم نے گیارہ ستمبر کے بعد 180 ڈگری سے پالیسی بدل لی اور ان گروہوں کے خلاف کارروائی کی تو تمام حلقوں، بشمول فوج کے اندر کچھ عناصر نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ چنانچہ پاکستان میں کئی حملے اندر سے ہوئے جن میں صدر جنرل پرویز مشرف پر ہونے والے دو حملے بھی ہیں جو فوج کے اندر سے کیے گئے۔

عمران خان بھارت کیلئے زیادہ فکر مند

اس موقع پر عمران خان نے کہا کہ انڈیا میں نفرت کی سوچ کی بالادستی ہے اور وہاں کے حالات دیکھ کر مجھے پاکستان سے زیادہ انڈیا کی فکر ہوتی ہے۔انڈیا میں اب اس نظریے کی بالادستی ہے جس نے گاندھی کو قتل کیا اور جس پر ایک بڑے عرصے تک انڈیا میں پابندی تھی اور اب اس نظریے کی بالادستی ہے وہاں پر۔

وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ کشمیر کے مسئلے پر جب بھی بین الاقوامی ثالثی کی بات کی جاتی ہے تو انڈیا کی جانب سے اسے دو طرفہ مسئلہ قرار دیا جاتا ہے مگر اس کے بعد انڈیا پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے سے بھی انکار کر دیتا ہے۔انھوں نے کہا کہ انڈیا میں انتخابی مہم پاکستان مخالف جذبات کو ہوا دے کر چلائی گئی۔انھوں نے کہا کہ انڈین حکومت نے کرفیو لگا کر 80 لاکھ کشمیریوں کو محصور کر رکھا ہے۔ انھوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ انڈیا پر کرفیو کے خاتمے کے لیے دباؤ ڈالے۔وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ انڈیا کی جانب سے پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی بلیک لسٹ میں شامل کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ یہ بھی کہا کہ ’پاکستان اپنی سرزمین پر کسی بھی دہشتگرد گروہ کو کام کرنے نہیں دے گا۔‘

چین سے تعلقات

چین سے تعلقات کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ چین نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچنے میں مدد دی ہے مگر ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چین نے کبھی بھی ہماری خارجہ پالیسی میں مداخلت نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ چین نے پاکستان کی اس وقت مدد کی جب ہمٹارے ملک کے حالات بہت خراب تھے۔ چین میں مسلمانوں سے سلوک کے بارے میں ملنے والی خبروں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ بہت سے معاملات ’پرائیویٹ‘ سطح پر طے ہوتے ہیں اور وہ ان کے بارے میں پبلک میں بات نہیں کریں گے۔

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے