وزیراعظم عمران خان اور ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے مابین نیویارک میں ہونے والی ملاقات میں دو طرفہ،علاقائی اور عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کیاگیا۔اس موقع پر وزیر اعظم نےگزشتہ دہائیوں کے دوران پاکستانی قوم اور حکومت کو ایرانی امداد کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لئے باہمی تعاون پر تیار ہے.عمران خان نے رہبر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای ،ایرانی حکام اور ایرانی عوام کی جانب سے کشمیری عوام کی حمایت کیلئے ایران کے اصولی اور ٹھوس موقف کی قدردانی کی۔
ایران کے صدرحسن روحانی نے وزیر اعظم عمران خان سے گزشتہ روز نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74ویں اجلاس کےموقع پرعمران خان کے حالیہ دورہ تہران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ دستخط ہونے والے معاہدوں پر تیزی سے عمل درآمد کئے جائیں گے۔
ملاقات میں ایران کے صدرحسن روحانی اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے مختلف مسائل، دو طرفہ روابط ، دونوں ملکوں کی سرحدوں میں سکیورٹی کی صورتحال، دہشتگردی کے خلاف جنگ اور علاقے میں امن و امان کی بحالی پر تبادلہ خیال کیا۔
یاد رہے کہ مسئلہ کشمیر پر ایران نے نیات واضح اور ٹھوس موقف اختیار کرتے ہوئے بھارت کو مسلسل تنبیہہ کی ہے کہ وہ کشمیریوں پر ظلم و ستم کا خاتمہ کرے ایران اور ترکی نے ہر فورم پر پاکستانی موقف کی برملا حمایت بھی کی ہے جبکہ دیگراسلامی ممالک تاحال وعدے تو کررہے ہیں لیکن متعلقہ فورم پر وہ پاکستان کے بجائے بھارت کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف اور پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی نیویارک میں ملاقات کی اس موقع پر دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان مسئلہ کشمیر، اور خطے میں پیدا والی صورتحال پر ایران کو درپیش مسائل پر گفتگو کی گئی اس موقع پر ہر فورم پر ایک دوسرے کے موقف کی تائید کے عزم کا اعداہ کیا گیا۔