آزاد کشمیر میں زلزلے سے جاں بحق افراد کی تعداد 32 ہوگئی 500 زخمی، 400 مکانات متاثر

 

آزاد کشمیر میں منگل کی سہ پہر آنے والے زلزلے کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 32ہو گئی ہے۔ قریب پانچ سو زخمیوں میں سے ڈیڑھ سو شدید زخمی ہیں جبکہ زلزلے سے 400 مکانات متاثر ہوئے ہیں ،ملبے تلے دبے افراد کی تلاش اور ریسکیو کا سلسلہ جاری ہے،تاہم پاک فوج کی مختلف ٹیمیں انتہائی تیزی سے امداادی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور متاثرہ سڑکوں، پلوں کی مرمت کے ساتھ متاثرہ افراد کو امدادی سامان، خیمے، کمبل اور کحانے پینے کی اشیاء پہنچائی جارہی ہیں۔ 

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق زلزے کے بعد جاری امدادی کارروائیوں کے تحت متاثرہ افراد کو خیمے اور راشن پہنچایا جارہا ہے ایک خیمہ مکمل گھر کی طرح ہے جبکہ 4 افرااد کا راشن ایک ماہ کیلئے ہوگا، ان خیموں کو مقامی لوگوں کی خواہش کے تحت ان کی منتخب جگہ پر لگایا جائے گا، زلزلے سے، متاثرہ کئی سڑکوں کی تعمیر اور مواصلات کے نظام کو بہتر بناانے کیلئے پاک فوج کی پیشہ ورانہ ٹیمیں کام کررہی ہیں۔

چیئرمین این ڈی ایم اے کے مطابق کئی ممالک کے سفیروں اور پاکستان سے ہزاروں مخیر حضرات ااور لوگوں نے رابطہ کرکے امداد کی پیشکش کی ہے جسے ہم نے فی الحال شکریے کے ساتھ منع کردیا ہے کوشش ہے اپنے وسائل سے امدادی کام کیئے جائیں تاہم اگر ضرورت پڑی تو ضرور لوگوں کو بتایا جائے گا۔

دوسری جاانب اطلاعات کے مطابق زلزلے سے آزاد کشمیر کا شہر میرپور اور اس کے گرد و نواح کے علاقے شدید متاثر ہوئے۔ گزشتہ شب میرپور کے ضلعی ہسپتال میں مزید کم از کم ایک درجن افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئے۔ میرپور پولیس کے سربراہ سردار گل فراز کے مطابق ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 32 ہو چکی ہے۔

میرپور کے ریسکیو اہلکار سعید الرحمان نے بتایا کہ شہر کے مختلف ہسپتالوں میں پانچ سو زخمی افراد زیر علاج ہیں جن میں سے ڈیڑھ سو سے زائد افراد شدید زخمی ہیں۔ریسکیو اہلکار جام سجاد کے مطابق پاکستانی پنجاب کے دو مختلف شہروں میں بھی ایک بچے سمیت دو افراد ہلاک ہوئے۔ سجاد کے مطابق جہلم کے نواحی علاقوں میں بھی دو درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے جن کا علاج جاری ہے۔

پاکستانی میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے مطابق زلزلے کی شدت 5.8 تھی اور اس کا مرکز جہلم اور میرپور کے درمیانی علاقے میں تھا۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت 5.2 ریکارڈ کی گئی تھی۔متاثرہ علاقوں میں ملبے تلے دبے افراد کی تلاش اور ریسکیو کا عمل اب بھی جاری ہے جن میں پاکستانی فوج کا انجینیئرنگ سے متعلق شعبہ بھی حصہ لے رہا ہے۔ تاہم تلاش اور ریسکیو کے عمل میں تیز بارشوں کے سبب مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

سعید الرحمان نے بتایا، ہمارا خیال ہے کہ زلزلے کے باعث تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبوں تلے اب بھی کئی افراد دبے ہوئے ہیں لیکن شدید بارش اور سڑکوں میں ٹوٹ پھوٹ کے سبب ہمیں مشکلات پیش آ رہی ہیں،اُدھر محکمہ موسمیات کے مطابق علاقے میں اگلے چار روز تک تیز بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔

Share This Article

تازه ترین

کشمیر میں لوٹس اسٹیم کی کٹائی