برطانوی سپریم کورٹ میں وزیراعظم بورس جانسن کے پارلیمنٹ کی معطلی سے متعلق فیصلے پر دو اپیلوں پر تین دن سماعت ہوئی جس کے بعد سپریم کورٹ کے 11 ججز پر مشتمل بینچ نے متفقہ طور پر بورس جانسن کی جانب سے برطانوی پارلیمنٹ کو معطل اور اجلاس ملتوی کرنے کے اقدام کو غیر قانونی قراردے دیا۔عدالت عظمیٰ نے قرار دیا ہےکہ وزیراعظم کا ارکان پارلیمنٹ کو 31 اکتوبر کو ہونےوالے بریگزٹ سے قبل پارلیمانی امورکی انجام دہی سےروکناغلط اقدام تھا۔
سپریم کورٹ کی صدر لیڈی ہیل کا کہنا ہےکہ اس اقدام سے جمہوریت کی بنیاد پر شدید دباؤ تھا اور ملکہ عالیہ کو پارلیمنٹ کا اجلاس ملتوی کرنے کا مشورہ دینے کا فیصلہ غیرقانونی تھا کیونکہ اس سے پارلیمنٹ کو اس کے آئینی فرائض کی انجام دہی سے بلا جواز روکا گیا۔واضح رہے کہ ملکہ برطانیہ نے گذشتہ ماہ 28 اگست کو وزیر اعظم بورس جانسن کی درخواست پر 5 ہفتوں کیلئے برطانوی پارلیمنٹ کو معطل کرنے کی منظوری دی تھی۔
برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ملکہ برطانیہ سے 11 ستمبر سے شروع ہونے والے برطانوی پارلیمنٹ کے سیشن کو معطل کرنے کی درخواست کی تھی اور کہا تھا کہ ملکہ الزبتھ دوئم پارلیمان سے اپنا خطاب 14 اکتوبر تک مؤخر کردیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بورس جانسن نے پارلیمنٹ کو معطل کرنے کی درخواست اس لیے کی تاکہ ارکان پارلیمنٹ نو ڈیل بریگزٹ کو روکنے کیلئے کوئی قانون سازی نہ کرسکیں،وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالتے ہی بورس جانسن نے کہا تھا کہ اب چاہے کچھ بھی ہو برطانیہ 31 اکتوبر کو یورپی یونین سے علیحدہ ہوجائے گا۔
فیصلےکے بعد نیویارک میں موجود برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ انہیں اس فیصلے سے شدید اختلاف ہے تاہم وہ عدالتی فصلے کا احترام کرتے ہیں۔اس سے قبل بورس جانسن کا کہنا تھا کہ انہوں نے پارلیمنٹ کی معطلی کا فیصلہ نئے سیشن کی تیاری کیلئے کیا تھا، تاہم ناقدوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اس طرح بریگزٹ پلان پر نظر رکھنے اور تنقید کرنے سے روکنا چاہتے ہیں۔
اس حوالے سے اپوزیشن رہنما جیریمی کوربن کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے بورس جانسن کی جانب سے جمہوریت کی توہین کو واضح کر دیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ میں بورس جانسن کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ تاریخی الفاظ میں اپنی حیثیت پر غور کریں۔عدالتی فیصلے کے بعد اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ارکان نے وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے جب کہ برطانوی پارلیمنٹ کے اسپیکر جان برکو نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے بدھ کو پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔
برطانیہ میں یورپی یونین میں رہنے یا اس سے نکل جانے کے حوالے سے 23 جون 2017 کو ریفرنڈم ہوا تھا جس میں بریگزٹ کے حق میں 52 جبکہ مخالفت میں 48 فیصد ووٹ پڑے جس کے بعد اس وقت کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا، کیوں کہ وہ بریگزٹ کے مخالف تھے۔
ڈیوڈ کیمرون کے استعفے کے بعد برطانیہ کی وزیراعظم بننے والی ٹریزا مے نے بریگزٹ ڈیل کی پارلیمنٹ سے منظوری میں ناکامی کے بعد مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا اور ان کے بعد بورس جانسن نے عہدہ سنبھالا تھا۔
برطانیہ نے 1973 میں یورپین اکنامک کمیونٹی میں شمولیت اختیار کی تاہم برطانیہ میں بعض حلقے مسلسل اس بات کی شکایات کرتے رہے ہیں کہ آزادانہ تجارت کیلئے قائم ہونے والی کمیونٹی کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے رکن ممالک کی ملکی خودمختاری کو نقصان پہنچتا ہے۔