ایران کے صدر حسن روحانی نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس کے موقع پر جاپان کےوزیر اعظم "شنزو ابے” کیساتھ ہونے والی ملاقات میں باہمی تعلقات کے فروغ پر زور دیتے ہوئے جوہری معاہدے کے تحفظ کیلئے جاپان کی کوششوں کا شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر ایرانی صدر نے جاپانی وزیر اعظم کے حالیہ دورہ ایران کا ذکر کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کے جلد نفاذ پر زور دیا۔
ملاقات میں جاپانی وزیر اعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک ایران جوہری معاہدے کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھےگا۔شنزو ابےنے اپنے حالیہ دورہ ایران پر تبصرہ کرتے ہوئے رہبر معظم اسلامی انقلاب سے ملاقات اور جوہری ہتھیاروں سے متعلق حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے فتوی سمیت خطے میں ایرانی صدر کے امن پسندانہ موقف پرخوشی کا اظہار کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ جاپان، ایران کا تاریخی دوست ہے اور خطے کی کشیدگی میں کمی لانے کیلئے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرے گا۔
درایں اثناء ایران کے صدر حسن روحانی نےجو نیویارک کے دورے پر ہیں ہسپانوی وزیر اعظم ‘پیدرو سنچز’ کے ساتھ بھی ملاقات کی جس میں باہمی تعلقات اور علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ایرانی صدر نے خاتون جرمن چانسلر کے مابین بھی ملاقات ہوئی۔ان ملاقاتوں میں دونوں فریقین نے باہمی تعاون سمیت ایران جوہری معاہدے کے تحفظ اور خطے کی کشیدگی میں کمی کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔
صدر روحانی کی سوئٹزرلینڈ کے صدر ‘اولی مائورر’ سے ہونے والی ملاقات میں دونوں ممالک کےدرمیان 100 سالہ روابط پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے باہمی تعلقات کو مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ایرانی صدر نے برطانوی وزیر اعظم بوریس جانسن کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے تین یورپی ممالک کے ایران مخالف الزامات پر مبنی بیان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ جوہری معاہدے کے رکن ممالک کے طور پر اپنے وعدوں پر قائم رہیں.اس موقع پر انہوں نے مشرق وسطی میں برطانیہ کی دیرینہ موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں تین یورپی ممالک کے حالیہ ایران مخالف بیان پر بہت افسوس ہے اور اس قسم کی صورتحال میں اس قسم کا بیان بالکل بھی مناسب نہیں تھا۔
ایرانی صدر نے سویڈن کے وزیراعظم اسٹفن لوون سےملاقات میں ایران اور سویڈن کے سیاسی ، تجارتی اور صنعتی شعبوں میں تعلقات کو مثبت قراردیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے یکطرفہ طور پر خارج ہونے کے بعد باہمی تجارتی تعلقات میں کمی واقع ہوئی ہے اور امریکہ کے دباؤ میں دونوں ممالک کےتعلقات متاثر نہیں ہونے چاہییں ۔ اس ملاقات میں سویڈن کے وزیراعظم نے اپنے تہران کے دورے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سویڈن ایران کے ساتھ تمام شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے کا خواہاں ہے اور دیگر ممالک کی پالیسیاں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات پر اثر انداز نہیں ہوں گی۔
حسن روحانی نے نیویارک میں امریکی ذرائع ابلاغ کے سینئر مینجروں سے ہونے والی ملاقات میں کہا کہ ان کے فرانسیسی ہم منصب "ایمانوئل میکرون” کی کوششیں اس وقت نتیجہ خیز ثابت ہوں گی جب امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ، ایران مخالف امریکی پابندیوں کو اٹھائیں جس کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران گروپ 5+1 کے فریم ورک کے اندر امریکہ سے مذاکرات کر سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کیخلاف امریکی دباؤ میں اضافہ، بظاہر مذاکرات کیلئے امریکی پیشگی شرط ہے حالانکہ اسلامی جمہوریہ ایران کا موقف یہ ہے کہ مذاکرات کیلئے تمام پیشگی شرائط کو اٹھانے کی ضرورت ہے۔صدر روحانی نے مزید کہا کہ تعجب کی بات یہ ہے کہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حالیہ حملوں میں ملوث ہونے کا الزام ایران پر لگایا جاتا ہے اور اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ یمنی فوج کی طاقت کو تسلیم نہیں کرنا چاہتے ہیں۔
صدر حسن روحانی نے نیویارک روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دورہ نیوریاک کے موقع پر خطے میں قیام امن کے حوالے سے ایک نئی تجویز("آبنائے ہرمز، امن کا منصوبہ” ) پیش کریں گے جو خلیج فارس میں خطے کےتمام ممالک کے درمیان تعاون پر مبنی ہے۔اوریہ ایک ایسا منصوبہ ہے جو صرف خطے کی سلامتی کے حوالے سے نہیں بلکہ خطے کی معیشیت کے حوالے سے بھی ہے اور ہماری خواہش ہے کہ خطے کے تمام ممالک اس منصوبہ میں حصہ لیں۔