نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایران کے صدر حسن روحانی سے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنٹونیوگوٹرش نے ملاقات کی۔جس میں فریقین نے جوہری معاہدہ، علاقائی مسائل، خلیج فارس میں تنازعات، ہرمز امن منصوبہ اور ایران مخالف امریکی معاشی دہشتگردی پر تبادلہ خیال کیا۔
صدر حسن روحانی نے کل اقوام متحدہ کی 74ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہرمز پیس فارمولا پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس خطے میں امن و سلامتی کا قیام، یہاں سے بیرونی افواج باالخصوص امریکی افواج کے نکلنے اور خطے کے ممالک کے باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے۔
ایران کےخلاف امریکا کی اقتصادی دہشت گردی کے مقابلے میں ایرانی عوام کی استقامت کا ذکرکرتے ہوئے صدرروحانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکی حکومت نے ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرکے دیگرملکوں کو بھی ڈرا دھمکا کراپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ آج امریکی حکومت ایران، چین، ونزوئیلا اور کیوبا جیسے ملکوں پر پابندیاں عائد کرنے کی عادی ہوچکی ہے اور اس کو پابندیاں لگانے کا نشہ ہو گیا ہے۔

علاوہ ازیں عراق کے صدر برہم صالح نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی 74ویں نشست کے موقع پرایران کےصدر حسن روحانی سے ملاقات کی جس کے دوران دوطرفہ تعلقات علاقائی سیکورٹی اور علاائی اور عالمی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔ایران کے صدر نے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اب تک اسپین، برطانیہ، جاپان اور پاکستان کے وزرائے اعظم سمیت جرمن چانسلر "انجیلا مرکل” اور اپنے فرانس اور سوئٹرزلینڈ کے ہم منصبوں کیساتھ الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں اور اانھیں خطے میں کشیدگی، امریکی پابندیوں سے پیداا ہونے والی صورتحال اور ایرانی موقف سے آگاہ کیا ہے۔