امریکہ سے واپسی: وزیر اعظم عمران خان کا طیارہ تکنیکی خرابی کا شکار ہوگیا

 

وزیراعظم عمران خان نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کے بعد سعودی ولی عہد کی جانب سے دیئے گئے خصوصی طیارے میں وطن واپسی کے لیے روانہ ہوئے تاہم کئی گھنٹے تک فضا میں گھومتے رہنے کے بعد طیارے کوتکنیکی خرابی کے باعث ٹورنٹو سے واپس موڑنا پڑا، اب وہ پہلی دستیاب کمرشل پرواز کے ذریعے وطن واپس آئیں گے۔

تکنیکی خرابی کے بعد وزیراعظم کےطیارے نےدوبارہ نیویارک میں لینڈ کیا اور وہ وفد سمیت امریکی سیکیورٹی اسکواڈ کے ہمراہ روز ویلٹ ہوٹل دوبارہ پہنچ گئے، وزیر اعظم کی آمد کے بعد روز ویلٹ ہوٹل کی سیکیورٹی دوبارہ بڑھا دی گئی۔

ذرائع کےمطابق سعودی طیارےکےنیوی گیشن سسٹم میں خرابی پرطیارےکو ٹورنٹو سےدوبارہ نیویارک کی طرف موڑا گیا اورایمرجنسی لینڈنگ کرنی پڑی، وزیراعظم کا طیارہ اس وقت جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ پرموجود ہے اورامریکی ایوی ایشن حکام طیارے کا نیوی گیشن سسٹم ٹھیک کر رہے ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے طیارے کا دوران پرواز الیکٹرک سسٹم فیل ہوگیا تھا، الیکٹرک سسٹم فیل ہونے سے لینڈنگ میں انتہائی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

ابتدا میں طیارے کوجلد ہی اڑانے کا ارادہ ظاہرکیا گیا تاہم سسٹم کی درستگی کا کام وقت لینے لگا تو وزیراعظم امریکی سیکیورٹی اسکواڈ کے ہمراہ واپس ہوٹل کی جانب روانہ ہوگئے۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا کہ طیارے میں تکنیکی خرابی کے باعث وزیر اعظم رات نیویارک کے ہوٹل میں ہی قیام کریں گے۔

وزیر اعظم سعودی عرب کے دورے کے بعد جب 20 ستمبر کو کمرشل پرواز کے ذریعے نیویار روانہ ہورہے تھے تو سعودی ولی عہد نے انھیں اپنا خصوصی طیارہ دینے کی پیشکش کی جس کے ذریعے وزیراعظم امریکہ پہنچے اور یہ طیارہ گذشتہ 7 دن سے نیویارک کے جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ پر ہی موجود تھا۔

اس حوالے سے ماہرین اس بات پر حیران ہیں کہ سعودی ولی عہد کا طیارہ انتہائی نگہداشت میں ہوتا ہے اور اس میں وزیراعظم کی صورت میں وی وی آئی پی نے پرواز کرنا تھا ایسے میں طیارے پر مامور انجینئرز نے کس طرح بنا چیک کیئے طیارے کو پرواز کیلئے کلیئرنس دی اس بارے میں چھان بین ضروری ہے کیونکہ عام حالات میں ایسا ممکن ہی نہیں ہے، دوسری جانب وزیراعظم کے طیارے میں فنی خرابی کی اطلاعات کے بعد سوشل میڈیاپرلوگوں نے اپنے جذباتی ردعمل میں کہنا شروع کیا کہ وزیراعظم نے جس بہادری اور بے باک انداز میں اقوام متحدہ میں مقدمہ کشمیر اور اسلاموفوبیا پر تقریر کی کچھ عناصر ایسے ہیں جنھیں وزیراعظم کا یہ انداز پسند نہیں آیا ہوگا اور طیارے میں جان بوجھ کر خرابی پیدا کروا کر وزیراعظم کو پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ وہ اپنے سخت اصولی موققف میں نرمی لائیں۔

سوشل میڈیا پر ان جذباتی ردعمل اورمحب وطن لوگوں کے احساسات ایک طرف لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ اہم ترین پرواز کیلئے کسی قسم کی کوتاہی کی جاسکے، طیارہ بھی ایک مشین ہی ہے جس میں کب اور کہاں کوئی خرابی پیدا ہوجائے کچھ کہا نہیں جاسکتا لیکن ضروری ہے کہ اس معاملہ کے تحقیقات کی جائیں کہ 7 دن تک طیارہ ایئرپورٹ پر رہا اس دوران اس کی ہر چیز چیک کی گئی یا نہیں یا کسی نے کوئی شیطانی کارروائی تو نہیں کی۔۔۔؟؟

Share This Article

تازه ترین