صوبہ بلوچستان کے شہر چمن میں جمیعت علمائے اسلام (ف) کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری مولانا محمد حنیف سمیت 3 افراد موٹر سائیکل دھماکے میں جاں بحق جبکہ 9 افراد زخمی ہوگئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق چمن میں تاج روڈ پر جمیعت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا محمد حنیف کے دفتر کے باہر کھڑی بائیک میں دھماکہ خیز مواد نصب کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق مولانا محمد حنیف کے دفتر سے باہر نکلتے ہی دھماکا ہو گیا جس سے لگتا ہے کہ یہ ریمورٹ کنٹرول ڈیوائس تھی۔
دھماکے میں دیگر 2 افراد جاں بحق اور 9 زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا ہے پولیس اور ریسکیو ٹیمیں دھماکے کی جگہ پہنچ گئیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔پولیس کے مطابق دھماکہ خیز مواد موٹر سائیکل میں نصب تھا، دھماکے سے قریب عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔
اس سے قبل مئی میں ضلع قلعہ عبداللہ میں سڑک کنارے بم دھماکہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں قبائلی رہنما ولی اچکزئی جاں بحق ہوگئے تھے۔سپینہ غنڈی میں ہونے والے دھماکے میں مقامی قبائلی رہنما حاجی ولی اچکزئی اپنے 2 محافظوں سمیت جاں بحق ہوئے تھے، دھماکے کے بعد گاڑی میں آگ لگ گئی تھی جس کے باعث متعدد افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔
دوسری جانب اپنے ردعمل میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پارٹی رہنما مولانا محمد حنیف کے جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چمن میں بم دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہیں، مولانا محمد حنیف مخلص رہنما تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ ملک میں امن کے خلاف گہری سازش ہے۔